تحریر: آر اے سید

یوم القدس اور وقت کے تقاضے (پہلی قسط)

خبر کا کوڈ: 1443171 خدمت: مقالات
روز قدس //

پاکستانی کالم نگار نے تاکید کی ہے کہ کیا آج واضح نہیں ہو گیا ہے کہ کون بیت المقدس کی آزادی کے بجائے غاصب صیہونی حکومت سے تعلقات کی پینگیں بڑھا رهے ہیں۔ کیا اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والوں کو کوئی نہیں پہچانتا۔ اس موضوع کو آپ قارئین کے لیے تھوڑا مزید کھولتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم:  درود و سلام ہو محمد و آل محمد پر جو وجه خلقت کائنات ہیں۔ سلام ہو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس حقیقی پیروکار خمینی بت شکن پر جس نے ایک با ر پھر علوی و حسینی راستے کو سب کے لیے روشن و تابنده کردیا۔ اس آرٹیکل کے آغاز میں ایک بار پھر امام خمینی رضوان الله  کی اس بصیرت، معرفت اور دوراندیشی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے جمعه الوداع  کو یوم القدس قرار دیکر حق و باطل کے درمیان حد فاصل کھڑی کر دی۔

قبله اول اور بیت المقدس استقامت، مزاحمت اور مقاومت کی علامت هے۔
قبله اول اور بیت المقدس اتحاد بین المسلمین کی نشانی هے۔
قبله اول اور بیت المقدس مرده باد امریکه اور مرده باد اسرائیل کے نعرے کی حقیقی تعبیر هے۔

بلکہ یوں کہوں تو بہتر ہو گا  کہ بیت  المقدس نے حق و باطل کی صفوں کو علیحده علیحده کر دیا هے۔ منافقت کے چهروں کو بے نقاب کردیا۔ اسلام دشمن طاقتوں کے حقیقی مکروه  چهرے کو بر ملا کر دیا۔ آج بیت المقدس نے اسلام اور انسانی حقوق کے دبیز پردوں کے پیچھے چھپے بظاهر خوشنما چهروں کو دنیا بھر میں آشکار کر دیا هے۔

کیا آج واضح نہیں ہو گیا ہے کہ کون بیت المقدس کی آزادی کے بجائے غاصب صیہونی حکومت سے تعلقات کی پینگیں بڑھا رهے ہیں۔ کیا اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے والوں کو کوئی نہیں پہچانتا۔ اس موضوع کو آپ قارئین کے لیے تھوڑا مزید کھولتے ہیں۔

دیکھیں امام خمینی ابھی نجف اشرف میں جلاوطنی کی زندگی گزار رهے تھے آپ نے اس وقت بھی اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی آزادی کے لیے ایسا موقف اپنایا تھا که اس دور کے عربوں کے بڑے بڑے قائدین بھی اس صراحت اور قاطعیت کے ساتھ  قبله اول کی آزادی کی بات نہیں کرتے تھے۔

امام خمینی نے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد فلسطین اور قبله اول کو مسلمانوں کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ انقلاب کے بعد فلسطینی قیادت کا استقبال، ایف 14 طیاروں کی سلامی سے کیا گیا۔ جس تہران میں پهلوی شاه  کے زمانے میں اسرائیل کا باقاعده سفارتخانه تھا اس کو فلسطین کے سفارتخانے میں بدل دیا گیا۔ ایران کے آئین میں فلسطین کی حمایت کا قانون اور پھر اس کے بعد عالمی یوم القدس کا اعلان ایسا اقدام تھا جو اسرائیل پر سب سے کاری وار ثابت ہوا۔

گزشته بتیس تینتیس سالوں میں یوم القدس کے عظیم اجتماعات کو دنیا بھر میں کیوں سنسر کیا جاتا ہے؟ میڈیا بائیکاٹ کی وجه کیا ہے؟ اس پر  سیر حاصل بحث کی ضرورت هے ۔اسرائیل کو بچانے کے لیے نیو ورلڈ آرڈر، گریٹر اسرائیل، نیومڈل ایسٹ جیسے منصوبے تشکیل دئیے گئے۔ آج شام، عراق اور لبنان وغیره میں جو کچھ ہو رہا هے صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے ہے۔ آج خطے کو شیعه سنی جنگ میں کیوں الجھایا جا رہا ہے صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے۔ آج آل سعود اور آل خلیفہ اپنے عوام اور بالخصوص شیعه مسلمانوں پر کیوں ظلم ڈھا رہے ہیں؟ آج حزب الله کو لبنان میں تباه کرنے کے لیے کبھی دہشت گرد اور کبھی اندرونی تکفیریوں کو کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ اب تو قطر کو بھی اس لئے  بائیکاٹ کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ حماس کا حامی ہے۔

اس وقت اسرائیل کو صرف حقیقی اسلام جسے امام خمینی اسلام محمدی کہتے تھے، سے خطره ہے۔ امریکی اسلام جو آج تکفیریت، داعش، النصره، القاعده، طالبان اور اسطرح کے دوسرے ناموں سے سرگرم عمل ہے، اس کا بنیادی مقصد اسلام ناب محمدی کے راستے کو روکنا  ہے۔

اس وقت عالمی سطح بالخصوص خطے میں جو سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں ان کے پیچھے صیہونی پروٹوکول کی سازشیں واضح طور پر نظر آنا شروع ہو رہی ہیں۔ ریاض میں ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اسلامی ممالک کے ڈکٹیٹر اور نام نهاد جمهوری سربراہوں نے جس طرح ٹرمپ کی پالیسیوں پر لبیک کہا اور اسرائیل کے ساتھ ہم پیاله او رہم نوالہ ہونے کے لیے جس طرح اپنی آمادگی کا اظهار کیا اس سے واضح ہو رہا ہے که ان ممالک کے  سربراہوں کو اپنی عوام پر نہیں بلکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور صیهونی لابی پر اعتماد ہے جو انہیں اقتدار میں باقی رکھ سکتے ہیں۔

ایک طرف مسلمان ممالک کے سربراہوں کی یه حالت ہے که وه اسرائیل کی گود میں بیٹھنے کے لیے بےتاب ہیں جبکه اسرائیل کی غاصب حکومت روز بروز زوال پذیر ہے اور ان کے داخلی اختلافات کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ غاصب اسرائیل نے پوری دنیا میں بسنے والے یهودیوں اور صیهونیوں کو بڑے بڑے خواب دکھا کر مقبوضه فلسطین میں آباد ہونے کی دعوت دی تھی لیکن آج یه جعلی اور مصنوعی معاشره خزاں کے پتوں کیطرح جھڑ رها ہے۔

گزشته چوده سالوں میں فلسطین چھوڑنے والے اڑتیس فیصد مهاجرین روس سے تعلق رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے که روس سے تعلق رکھنے والے ان یهودی مهاجرین کو مقبوضه فلسطین میں مختلف طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن میں دینی رسومات کی ادائیگی، شادیوں کی رجسٹریشن، حکومتی مسائل، مردوں کی تدفین اور  اقتصادی دشواریوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان مهاجرین کے ساتھ غیر منصفانه رویه اپنایا جاتا ہے ان مهاجرین کو ایک طرف تو مقامی فلسطینوں کی طرف سے اچھی نگاه سے نهیں دیکھا جاتا تو دوسری طرف صیهونی بھی انکے ساتھ تعصب سے پیش آتے هیں اور شاید یهی  ان کی فلسطین  کو ترک کرنے اور اس علاقے میں دوباره نہ آنے کی بنیادی وجہ ہے۔

یهودی مھاجرین کی مقبوضه فلسطین میں واپسی اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹیجک اور بنیادی مسئلہ ہے۔ طے یه تھا که دنیا بھر کے صیهونی اس تصوراتی ریاست میں اکھٹے ہوں اور یہاں پر انہیں ایک آئیڈیل ماحول فراهم کیا  جائے جس میں نہ بے روزگاری، نہ بدامنی اور نه غربت و افلاس ہو۔ یہاں پر انہیں وسیع سرمایہ کاری کا موقع دیا جائیگا اور ان سے کسی قسم کا تعصب نہیں برتا جائے گا۔ یهودیوں کے لیے یه علاقہ بهشت موعود کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا لیکن اس وقت صورت حال اس کے برعکس ہے اس  تخیلانه ریاست میں مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ بدامنی کے ساتھ ساتھ خود صیهونیوں کیطرف سے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے یهودیوں کے ساتھ نسل پرستانه اور متعصبانه رویه اختیار کیا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں که غاصب صیهونی حکومت ایک جعلی حکومت ہے اور اس  کو اپنی ریاست میں متعدد مشکلات اور دشواریوں کا سامنا ہے۔ غاصب اسرائیل کو مقبوضه فلسطین کی آبادی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے یهودی آبادی کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور وه یہ کمی باہر سے یهودی مهاجرین کو بلا کر پوری کرنا چاہتا ہے لیکن مختلف ممالک اور علاقوں سے آئے یهودیوں کے درمیان بعض ثقافتی اور نسلی تفاوت اور تعصب کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرین سماجیات کے مطابق اسرائیل نے فلسطین کی آبادی کی شرح کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف علاقوں کے یهودیوں کو ایک معاشرے میں تبدیل  کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک ناممکن امر ہے۔

فلسطین میں موجود یهودی نسلی حوالے سے تقسیم ہیں جو مغرب سے مہاجرت کر کے آئے ہیں انہیں اشکنازی کہتے ہیں۔ انہیں اول درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جبکه مشرقی علاقوں سے آئے یهودیوں کو  "سفاردیم" کہا جاتا ہے جو دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ یهودیوں میں یه تقسیم خود نسل  پرستی کی بڑی علامت ہے اور اس نے ثابت کر دیا ہے که صیہونی معاشرے میں عدم مساوات، ناانصافی اور طبقاتی تقسیم موجود ہے۔

بہر حال صیهونیوں نے جس بهشت موعود کا اپنے شهریوں اور یهودیوں کو  خواب دکھایا تھا وه بهشت اب روز بروز ایک جهنم میں تبدیل ہو رہی ہے اور یہی وه بنیادی وجہ ہے جس سے مقبوضه فلسطین سے جانے والے یهودی اور صیهونی دوبارہ فلسطین واپس نہیں آتے۔ پرانے مهاجرین کی عدم واپسی اور نئے مهاجرین کی عدم آمد غاصب صیهونی حکومت کے لیے ایک ڈراونے خواب میں تبدیل هو گئی ہے جس نے غاصب اسرائیل کے مستقبل کو تاریک کر  دیا ہے اور فلسطین کی آبادی کی شرح کو تبدیل کرنے کا مقصد ہر آنے والے دن دشوار سے دشوار تر  نظر آرہا ہے۔

جاری ہے۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری