تحریر: آر اے سید

یوم القدس اور وقت کے تقاضے (دوسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1443782 خدمت: مقالات
قدس

مشرق وسطی میں ساز باز کے عمل کے فلسطینیوں کے لیے نقصان دہ نتائج کے باوجود نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ ساز باز عمل پر زور دے رہی ہے جس پر فلسطینی سخت احتجاج اور تنقید کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دسمبر دو ہزار سولہ میں قرارداد تئیس چونتیس میں فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے ان بستیوں کی تعمیرات کا سلسلہ فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسرائیل کی ہاؤسنگ منسٹری نے مقبوضہ بیت المقدس میں صیہونیوں کے لئے پچیس ہزار رہائشی مکانات بنانے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی رہائشی مکانات کی تعمیر سے متعلق  وزارت کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ صیہونیوں کے لئے پچیس ہزار مکانات بنائے جائیں گے جن میں سے دس ہزار بیت المقدس اور پندرہ ہزار گرین لائن کے پیچھے بنائے جائیں گے۔ گرین لائن، سنہ سڑسٹھ کی سرحدوں سے معروف ہے جو مقبوضہ فلسطین اور مصر، اردن، لبنان اور شام کے درمیان انیس سو انچاس میں فائربندی کے وقت کھینچی گئی ہے۔

امریکہ بیت المقدس کی تقسیم پر راضی ہے۔ تاہم یہ امریکی تجویز صہیونی حکومت کے لئے جو بیت المقدس پر مکمل قبضہ رکھنے کی خواہاں ہے قابل قبول نہیں ہے۔ اسی لئے صہیونی حکام امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے بیت المقدس پر اپنا مکمل تسلط جمائے رکھنے پر مصر ہیں۔ اس لئے کہ صہیونی حکومت،  فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کے وقت سے ہی بیت المقدس پر دائمی قبضے کو اپنے مد نظر رکھے ہوئے ہے۔

صہیونی حکومت نے انیس سو اڑتالیس میں مغربی بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور پھر اس غاصب حکومت نے اپنی توسیع پسندانہ پالیسی جاری رکھتے ہوئے انیس سو سڑسٹھ میں مشرقی بیت المقدس پر بھی قبضہ جمالیا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ صہیونی حکومت بیت المقدس میں اپنے تسلط پسندانہ اقدامات کے تمام مراحل میں فلسطینی علاقوں اور خاص طور سے بیت المقدس پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم بنانے میں کوشاں رہی ہے اور اس سلسلے میں غاصب صہیونی حکومت، فلسطینی آبادی کے ڈھانچے کو فلسطینی علاقوں میں یہودی کالونیوں کی تعمیر  صہیونیوں کے حق میں تبدیل کرنے، اور فلسطینی علاقوں، خاص طور سے بیت المقدس میں فلسطینی اور اسلامی آثار کی نابودی کے ذریعےاسلامی تشخص کو مٹانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اور یہ چاہتی ہے کہ فلسطینی علاقے، یہودی علاقوں میں تبدیل ہوجائیں۔ اور عالمی برادری، صہیونی حکومت کی دیرینہ خواہش اور ناجائز مطالبے کو تسلیم کرلے۔ لہذا کچھ عرصے قبل بیت المقدس کو یہودی بنانے کے مقصد سے پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ کا بجٹ مختص کرنا غاصب صہیونی حکومت کی اسی توسیع پسندانہ پالیسی کا ہی ایک حصّہ ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں، دوسوبیالیس اور تین سو اڑتیس، اور جنیوا کنونشن چار کے مطابق، صہیونی حکومت کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہر قسم کے عمل دخل کی اجازت نہیں ہے۔

اسرائیلی حکومت کو باہر سے یہودی لاکر فلسطین میں  آباد کرنے کا منصوبہ اگرچہ ناکام نظر آتا ہے اسکے باوجود وہ صیہونی کالونیوں کی تعمیر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینی علاقوں میں غاصب صہیونی حکومت کے توسیع پسندانہ اقدامات کے تناظر میں کچھ عرصہ پہلے صہیونی اخبار ہاآرتص نے لکھا تھا کہ غاصب صہیونی حکومت کی کابینہ نے نقب کے علاقہ میں واقع فلسطینی دیہات ام الحیران کو منہدم کرنے اور وہاں یہودی کالونیاں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ صہیونی پارلیمنٹ میں کچھ دنوں قبل اسی حوالے سے منظور کئے جانے والے ایک بل کے تناظر میں کیا گیا۔ صہیونی حکومت نے اس بل کی بنیاد پر نقب کے علاقہ میں موجود فلسطینیوں کو ان کے وطن سے باہر نکالنے اور اس رہائشی علاقہ کو مکمل طور پر منہدم کرنے اور دس یہودی رہائشی کامپلکس تعمیر کرنے کا عمل اپنے ایجنڈے میں شامل قرار دیا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ صہیونی حکومت نے ساز باز مذاکرات کے ایک ساتھ قدس کے علاقہ میں بھی فلسطینی رہائشی مکانات  کو منہدم کرنے کا حکم جاری کیا ہے اگر یہ عمل انجام پایا تو کئی فلسطینی گھرانے بے گھر ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ غاصب صہیونی حکومت اپنے توسیع پسندانہ نئےمنصوبوں کی بنیاد پر مقبوضہ علاقوں اور خاص طور سے نقب سے ہزاروں فلسطینیوں کو آوارہ وطن کرنے کے درپے ہے ۔اس منصوبہ کے مطابق نقب کے علاقہ میں ستر ہزار ہیکٹر فلسینیوں کی زمینوں پر صہیونی حکومت غاصبانہ قبضہ جمانا چاہتی ہے ۔صہیونی پارلیمنٹ میں منظور کردہ اس بل کے تناظر میں چھتیس فلسطینی دیہات منہدم کئے جائیں گے اور چالیس ہزار فلسطینی بے گھر ہوں گے۔  

فلسطینیوں کے گھر وسیع پیمانے پر تباہ کرنے اور انہیں اپنے گھروں سے نکالنے کے لیے صیہونی حکومت کے بڑھتے ہوئے اقدامات سے متعلق خبریں ایک ایسے وقت میں منظرعام پر آ رہی ہیں کہ جب صیہونی حکومت نے مختلف فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر کو بدستور اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔ یہ سب باتیں تمام فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کی تباہ کن اور توسیع پسندانہ پالیسیوں میں تیزی کی عکاسی کرتی ہیں۔

صیہونی حکومت مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر جیسے انسانیت مخالف اقدامات اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر کے مختلف فلسطینی علاقوں میں آبادی کا تناسب صیہونیوں کے حق میں کرنا چاہتی ہے۔

مشرق وسطی میں ساز باز کے عمل کے فلسطینیوں کے لیے نقصان دہ نتائج کے باوجود نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ ساز باز عمل پر زور دے رہی ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کے اس طرز عمل پر فلسطینی سخت احتجاج اور تنقید کر رہے ہیں۔

مشرق وسطی میں ساز باز کے عمل نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ فلسطینیوں اور عربوں کے لیے صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں میں مزید شدت کے سوا اس کا اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری