تجزیہ: محمد سلیم

کیا امریکی ڈرونز خدائی ابابیلیں ہیں جن کو استثناء حاصل ہے؟

خبر کا کوڈ: 1443963 خدمت: مقالات
پاک ایران

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکام بالا ایران کے تحفظات دور کرنے کیساتھ ساتھ ایران سے ملحقہ سرحد پر دہشتگرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ اور دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایائے۔ ایران کے ساتھ مل کر دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کی جائے تاکہ پیش آنے والے حالیہ قسم کے واقعات آئندہ پیش نہ آئیں ورنہ ڈر اس بات کا ہے کہ عنقریب پاکستان کا بحیرہ عرب کے علاوہ کوئی ہمسایہ دوست نہیں بچے گا۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: پاکستان کی زمینی سرحدیں اپنے چار پڑوسی ممالک افغانستان، بھارت، ایران اور چین سے ملتی ہیں مگر اسے پاکستان کی بدقسمتی کہیں یا خارجہ پالیسی کی ناکامی کہ چار میں سے تین پڑوسی ہم سے ناراض ہیں جو کہ اچھا شگون نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ بحیرہ عرب کے علاوہ ہمارا کوئی ہمسایہ دوست نہیں بچا۔ بھارت تو روایتی حریف ہے مگر افغانستان اور ایران سے بھی تعلقات کشیدگی کی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔ اب  ایک ایسے وقت جب پاکستان کے افغانستان سے بھی تعلقات کشیدہ ہیں، پاکستان کو کوشش تو یہ کرنی چاہیے کہ ایران سے اُس کے روابط میں گرمجوشی باقی رہے۔ لیکن ایران کے سرحدی علاقوں میں پاکستان میں موجود دہشتگردوں کی طرف سے کارروائیوں کے منفی اثرات کے سیاہ بادل پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی واضح طور منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات اچانک اس قدر خراب کیسے ہوگئے؟ بھارت سے کشیدگی کی وجہ اور مقصد سمجھ میں آتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت سب کے سامنے ہے۔ لیکن ایران کا معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے یا پھر حکومت پاکستان کی بے تدبیری اور نااہلی ہے کہ ہم اپنے قریبی دوست ملکوں کو ناراض کرتے جارہے ہیں۔ لگتا ہے کہ علاقائی امن کو تباہ کرنے کے لئے امریکہ نے جو گیم پلان تشکیل دیا تھا اُس کے واضح اثرات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایران وہ اسلامی ملک ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا لیکن اب ہم کیا توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے ایک ریٹائر فوجی جرنیل ایران کے خلاف بننے والے اتحاد کے سربراہ ہوں اور ایران کا آرمی چیف ہمارے حق میں بیان دے گا۔ یا ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایران سے ملحق ہمارے سرحدی علاقوں سے دہشت گرد گروہ ایران کے اندر کاروائی کرکے واپس اپنی محفوظ پناگاہوں میں لوٹ جائیں اور ایران خاموش تماشائی بنا رہے؟؟؟  

 اگر ایران کو پاکستان کے ساتھ تحفظات ہیں تو حکومت پاکستان کو برادر اسلامی ملک کے تحفظات کو دور کرنا چاہئے۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کبھی بھی اسلام آباد کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ ہمیشہ حالات کشیدہ کئے جاتے ہیں اور پھر سیاسی قیادت کو آگے کردیا جاتا ہے۔ دنیا اپنے پرانے اختلافات ختم کرکے آگے بڑھ رہی ہے ،جبکہ ہم پرانے تعلقات ختم کر کے آگے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سرحد لگ بھگ 1000 کلو میٹر طویل ہے اور اس وقت ایک ہی سرحدی راستہ تفتان، میرجاوہ کھلا ہے۔ لیکن پاکستانی حکام کی جانب سے سرحد کی مکمل نگرانی اور دہشتگرد گروہوں کو کنٹرول نہ کرنے کے سبب نہ صرف دہشتگرد گروہ بلکہ جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلر بھی دشوار گزار راستوں کو سرحد پار نقل و حرکت اور دہشتگردانہ کاروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

کچھ ہفتے قبل ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایران کے 10 سرحدی محافظوں کو شہید کر دیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ دہشت گرد تنظیم "جیش العدل" نے میرجاوہ کے علاقے میں کیا اور ایرانی حکام کے مطابق دہشت گرد اس حملے کے بعد با آسانی دوبارہ پاکستانی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔

جیش العدل، دہشتگرد تنظیم جند اللہ کی ذیلی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم پاکستان سے آپریٹ کرتی ہے اس لئے سوال بھی پاکستانی حکام کی نااہلی پر اٹھا۔ اس افسوسناک واقعہ پر ایرانی حکام نے پاکستان کے سفیر آصف درانی کو طلب کر کے اُن سے احتجاج کیا بلکہ ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک خط میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایرانی سرحدی محافظوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ایرانی حکام نے بارہا پاکستان سے اپنی سرحد کی نگرانی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کی طرف اس معاملے میں سنجیدگی کی غمازی اس بات سے ہوتی ہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف کے ہمراہ پاکستان آنے والے وفد میں ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیر جنرل غلام رضا محرابی، نائب وزیر داخلہ برائے سیکورٹی امور محمد حسین ذوالفقاری، سرحدی پولیس فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل قاسم رضائی اور پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کے گورنر جنرل علی اوسط ہاشمی بھی شامل تھے۔ جس میں  انہوں نے وزیراعظم نواز شریف، فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ ملاقاتوں میں اپنے ملک کے اس موقف کو دہرایا ہے کہ پاکستان ایران سے ملحقہ اپنی سرحد کی نگرانی کو بڑھائے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم جنداللہ نے 2003 کے بعد سے ایران میں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جب کہ جند اللہ کی ذیلی شاخ جیش العدل بھی ایرانی فورسز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

اور ایران کا مؤقف رہا ہے کہ جند اللہ اور جیش العدل کے دہشت گرد ایران میں حملے کے لیے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب 2003 سے پاکستان کے ایران سے ملحقہ سرحدی علاقے دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہیں اور ایران کے بارہا احتجاج کرنے، انٹیلی جنس شیئرنگ اور درخواست کرنے کے بعد بھی ان کے خلاف کوئی سنجیدہ کاروائی نہیں کی جارہی اور اب مجبور ہوکر ایران نے اگر اپنی سرحد کی حفاظت کیلئے ملحقہ پاکستان سرحد میں دہشت گردوں کی شناسائی کیلئے کوئی ڈرون روانہ کر بھی دیا تو اس کو مار گرایا جاتا ہے، مگر 2004 سے لیکر اب تک سینکڑوں امریکی ڈرون حملوں کہ جس میں کم از کم 4000 افراد اب تک شہید ہوچکے ہیں، اس پر مکمل مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے؟؟ آخر کیوں؟ جب امریکی ڈرون طیارے سینکڑوں کلومیٹر پاکستانی حدود کے اندر گھس کر اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر واپس چلے جاتے ہیں تو پاکستانی ادارے کیوں خاموش رہتے ہیں؟ کیا امریکی ڈرون طیارے خدائی ابابیلیں ہیں اور ان کو خاص استثناء حاصل ہے کہ وہ گذشتہ 13 سالوں سے سینکڑوں ڈرون حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں لے چکے ہیں اور اب ڈرون حملے بڑھانے پر بھی غور کیا جارہا ہے جیسا کہ حال ہی میں امریکی حکومت نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ امریکی حکومت افغانستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان میں ڈرون حملے تیز کرنے اور امداد روکنے پر غور کررہی ہے کیونکہ پاکستان میں طالبان اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے افغانستان پر حملے کرتے ہیں اور دوبارہ منظم ہوتے ہیں اس لیے ٹرمپ حکومت پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی سخت کرنے کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ پاکستان میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جاسکے۔

آخر یہ دوغلی پالیسی کیوں ؟؟؟ سینکڑوں امریکی ڈرون حملوں پر خاموشی اور ایران کے سالوں رسمی احتجاج کے بعد ایک ڈرون بھیجنے پر اسکا مار گرایا جانا جبکہ یقینا یہ ڈرون حملے کا ہدف نہیں رکھتا تھا صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی  شناسائی کیلئے پرواز کررہا تھا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکام بالا کی جانب سے ایران کے تحفظات دور کئے جائیں اور ایران سے ملحقہ سرحد پر دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانے تباہ اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایران کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کاروائی کی جائے تاکہ اس قسم کے واقعات آئندہ پیش نہ آئیں  ورنہ ڈر اس بات کا ہے کہ عنقریب پاکستان کا بحیرہ عرب کے علاوہ کوئی ہمسایہ دوست نہیں بچے گا۔

    تازہ ترین خبریں