تحریر: آر اے سید

یوم القدس انسانی ضمیروں کو جھنجھوڑ رہا ہے (تیسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1444833 خدمت: دنیا
قدس

مظلوم فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نیز یوم القدس اور اس طرح کے دیگر احتجاجی پروگرام اس بات کا باعث بنے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے دبائو کے باوجود بعض عالمی ادارے بھی فلسطینیوں کے مسائل پر پکار اٹھتے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق آج ہم ایسی حالت میں یوم القدس منا رہے ہیں کہ  مسئلہ فلسطین علاقائی، اسلامی اور عرب مسئلے سے بڑھ کر ایک انسانی مسئلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

فلسطین کے مظلوم اور بے گناه شہری گزشتہ کئی سالوں سے صہیونی مظالم کا شکار ہیں اور انکے  بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے.

اقوام متحده اور دوسرے عالمی ادارے بھی کوئی عملی قدم اٹھانے  کے بجائے صرف قراردادیں منظور کرنے پر اکتفا کرتے ہیں.

اقوام متحده میں فلسطینی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندے  مائیکل لینک کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جارحیت کے خاتمے اور انسانی حقوق کی پامالی کو ختم کرنے کے لیے قراردادوں کی منظوری سیمیناروں کے انعقاد اور مذمتی بیانات سے بڑھ کر سنجیده اقدامات  انجام دینے کی ضرورت ہے.

عالمی اداروں کے پاس انسانی حقوق کا ذریعہ  نیز سفارتی طریقہ کار موجود ہیں جن سے فلسطین کی حمایت میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے جیسا کہ 1970 اور 1980 میں جنوبی افریقہ اور اسطرح کے دوسرے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے  ان  ذرائع سے استفاده کیا گیا تھا۔

اقوام متحده کے اس نمائندے نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی سخت مذمت کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ  میری رپورٹ مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی پر مرکوز ہے.

ہمارا اداره بھی انتہائی سخت اور مشکل حالات میں کام کر رہا ہے اور اسرائیل کی طرف سے ہمارے کام میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں اور ہمیں سخت قسم کی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے.

اقوام متحده کے نمائندے کا مزید کہنا ہے کہ میں اپنی رپورٹ کے بارے میں اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ انسانی حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ  پچاس سال کے قبضے سے مربوط ہے.

پچاس سال کے اس قبضے کے دوران فلسطینی باشندوں کی آرزوں اور امنگوں کا قتل عام کیا گیا اور اسرائیلی حکومت نے فلسطینوں کو  بری طرح کچلنے کی پالیسی کو جاری رکھا.

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فلسطینوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے یا مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

هیومن رائٹس واچ نے اپنی آخری رپورٹ میں ان پابندیوں کا ذکر کیا ہے جس کی تحت انهیں غزه پٹی تک جانے کی اجازت  نهیں دی گئی.

انسانی حقوق کی اس عالمی تنظیم نے غاصب اسرائیل اور مصر کو اس  پاپندی کا بنیادی ذمہ دار ٹھہرایا ہے.

هیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں اسرائیل اور مصر کے  اس روئیے کی مذمت کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے که صہیونی حکومت گزشته 25 سالوں میں غزه پٹی کی طرف جانے والے افراد پر کڑی پابندیاں عائد کی هیں اسی طرح غزه پٹی سے نکلنے والے افراد کو سخت تنگ کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ غزه پٹی میں انجام پانے والے جرائم کے بارے میں تفصیلات  سامنے نهیں آرہی ہیں اور دستاویزی فلمیں بنانے یا رپورٹنگ کرنے والے افراد کو بھی اپنی پیشہ وارنہ سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت نہیں دی جاتی.

غاصب صہیونی حکومت نے غزه پٹی کا فضائی ، زمینی اور سمندری محاصره کر رکھا ہے اور گزشتہ دو عشروں سے ائیرپورٹ اور بندرگاه کو  بھی بند کیا ہوا ہے جسکی وجہ سے غزه کے باشندے دوسرے علاقوں تک نہیں جا سکتے.

غاصب صہیونی حکومت نے غزه پٹی اور غرب اردن کے  دوران سفر کرنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں.

هیومن رائنس واچ نے ہیگ کی عالمی عدالت کو مشوره دیا ہے کہ جون 2014  سے لیکر اب تک کی حقیقی صورت حال کا جائزه لینے اور   فلسطینوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کا اندازه لگانےکے لیے باقاعده تحقیقات انجام دی جائیں۔

فلسطین میں صہیونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی تیزی سے جاری ہے۔

صورت حال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے وه  صہیونی کالونیوں کی تعمیر سے متعلق اپنی قراردا پر عمل درامد کے لیے سنجیده اقدامات کرے.

او آئی سی کے سکریڑی جنرل نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ سلامتی کونسل غاصب صہیونی حکومت  پر دباؤ ڈالے اور اسے عالمی قوانین پر عمل  درآمد پر مجبور کرے.

او آئی سی نے صہیونی کالونیوں کی تعمیر کو "جنگی جرم" قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل صہیونی بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے لیے موثر اقدامات انجام دے۔

اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کئے سیکرٹری جنرل نے غرب اردن میں نئی صہیونی بستیوں کے قیام کے منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور تاکید کی ہے که اسلامی کونسل کی قرارداد نمبر 2334 کے مطابق صہیونی کالونیوں کی تعمیر ایک غیر قانونی اقدام ہے اور صہیونی  کالونیوں کی تعمیر فلسطینوں کے حقوق کی پامالی ہے۔

عالمی اداروں کی مخالفت کے باوجود ان صہیونی  بستیوں میں آنے والے اسرائیلی فلسطینوں کے حقوق کا احترام کرنے پر تیار نہیں ہیں اور وه اس بات  تیار نہیں ہیں کہ ان کالونیوں سے باہر جائیں. حال ہی میں انجام  پانے والے ایک سروے کے مطابق صہیونی کالونیوں میں رہائش پزیر اسرئیلیوں کی واضح اکثریت ان کالونیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

2005 میں بنائی جانے والی صہیونی تحقیقاتی ادارے جے۔سی۔پی۔اے کے مطابق صہیونی بستیوں میں رہائش پزیر اسرائیلی ان کالونیوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں اسی طرح وه دو مستقل حکومتوں کے  راه حل کو بھی نهیں مانتے.

حالانکہ 2005 میں ان کالونیوں میں رہائش پزیر 60 ساٹھ فیصد اسرائیلی غرب اردن سے جانے کے لیے  تیار تھے جبکه اس وقت یه شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

سروے کے مطابق صرف 12 فیصد اسرائیلی 1967 کی سرحدوں سے واپس جانے کو تیار ہیں وہ فلسطینی زمینوں پر بدستور رہنا چاہتے ہیں. مسجد الاقصی کو فلسطینوں کو واپس کرنے کے حوالے سے بھی 83 فیصد اسرائیلیوں نے مخالفت کی ہے۔

فلسطینوں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا یہ سلسلہ ایسے عالم میں جاری ہے کہ یورپ کی بعض حکومتیں انسانی حقوق کا علمبردار ہونے اور دہشت گردی کی مخالفت کا دعوی کرنے کے باوجود غاصب صہیونی حکومت کی کھل کر حمایت کرتی ہیں۔

اس سال کا یوم القدس تمام باضمیر اور حریت پسندوں کو دعوت عمل دے رہا ہے۔

عالمی یوم القدس اس بات کا تقاضا کررہا ہے کہ امت مسلمہ اور انسانی حقوق کا دم بھرنے والے عالمی ادارے مل کر مظلوم فلسطینیوں کے لئے اواز اٹھائی اورغاصب اسرائیل کو اسکے مظالم سے روکیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری