عالمی یوم القدس کے موقع پر؛

حسن نصر اللہ: بزدل، کمزور اور ناتوان آل سعود ایران پر حملے کا سوچ بھی نہیں سکتے

خبر کا کوڈ: 1445075 خدمت: اسلامی بیداری
سید حسن نصرالله

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ آل سعود بزدل، ڈرپوک اور اتنے کمزور ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سید حسن نصر اللہ نے عالمی یوم القدس کے موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی اور ایرانی قوم کی عظیم قربانیوں نیز ملک میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد انقلاب اسلامی کے عظیم رہنما امام خمینی رہ نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو عالمی یوم القدس کا نام دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی یوم القدس ایسے موقع پر آیا ہے جب بیت المقدس پر غاصب صیہونیوں کے پچاس سال پورے ہو رہے ہیں۔

امام خمینی رہ کے بعد اس مشن کو حضرت آیۃ اللہ خامنہ ای بحسن و خوبی آگے بڑھا رہے ہیں اور عالمی یوم القدس اپنی شان و شوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہمارا خطہ اس وقت تاریخی دور سے گزر رہا ہے اس وقت یہاں خطرات اور مشکلات کا انبار لگا ہوا ہے۔ امریکہ نے خطے میں شروع ہونے والی عوامی تحریکوں کو ان کے ہدف سے بھٹکانے کی کوششیں کی تاکہ ان پر مسلط ہو سکے۔ امریکہ نے خطے کے پر آشوب حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو طاق نسیاں کی نذر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری نے سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ آل سعود ڈرپوک، بزدل، اور کمزور ہے وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ 

انہوں نے کہا کہ کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ایران کو کمزور کیا جا سکے اسے اسرائیل کے بجائے دشمن کی شکل میں پیش کیا جا سکے اور دہشتگرد تنظیموں کی مدد سے اس ملک کی سرزمین پر جنگ کے حالات پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے بجائے ایران کو دشمن کی شکل میں پیش کرنا چاہتا ہے شام کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ہدف بھی یہی تھا کہ آل سعود یہاں پر اپنی کٹھ پتلی سرکار قائم کرتے ہوئے خطے میں اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یمن پر جنگ اس لئے مسلط کی گئی کیوں کہ آل سعود یمن میں غاصب صیہونیوں کے خلاف پائی جانے والی تحریکوں کا مخالف ہے۔  یمن میں جنگ اس لئے چھیڑی گئی تاکہ غاصب صیہونیوں سے جنگ اور مسئلہ فلسطین کی حامی تنظیموں کو نیست و نابود کیا جا سکے۔ 

انہوں نے کہا کہ ایران دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کا صرف دعویٰ نہیں کرتا بلکہ وہ عملی طور پر سخت کارروائی انجام دیتا ہے۔ دہشتگردی کے مقابلے میں ایران کی کامیابی حتمی ہے ان تمام مشکلات کے بعد ایران اور مضبوط بن کر ابھرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ ہی فلسطین کا حامی و مددگار اور خطے میں موجود مزاحمتی تحریکوں کا پشت پناہ اور حامی رہا اور ہر شرائط میں ان کی حمایت کرتا رہے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری