تحریر: علی ناصر زادہ

مثبت تشخص کیلئے رواداری کی ضرورت

خبر کا کوڈ: 1445451 خدمت: مقالات
علی ناصر

آج لندن، مانچسٹر، پاراچنار اور کوئٹہ میں ہونے والے وحشیانہ حملوں کو دوبارہ ہونے سے بچانے کے لئے دین کی آڑ میں خونخواری کرنے والے گروہوں کے خلاف عالمی سطح پر کی جانے والی مشقت کا حصہ بننا انسانی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: دنیا کے مختلف ممالک کے بعد لندن اور مانچسٹر میں ہونے والے دہشتگردی کے حملے کی ذمہ داری پھر داعش نامی گروہ نے لے لی ہے اس سے قبل بھی معصوم لوگوں پر حملہ کروانے والا یہ گروہ اپنے آپ کو چاہے کوئی بھی نام دے لیکن ان کا نام انسانیت سے دور مجرم گروہ کا ہی بنتا ہے، ادھرپارا چنار اور کوئٹہ کو ایک بار پھر لہو میں نہلا دیا گیا ہے۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کو مستقبل میں ممکنہ طور پر ہونے والے اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لئے انٹیلی جنس اور محافظوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس بلا کی شہہ رگ کو کاٹنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔

عراق میں القاعدہ کی باقیات سے وجود میں آنے والے اس گروہ کی جھوٹی شروعات ہی خون خوار قتل عام سے ہوئی۔ اپنے نام کے ساتھ اسلام کا لفظ استعمال کر کے اسلام کے روشن چہرے کو داغدار بنانے والا یہ گروہ چاہے جو بھی دعویٰ کرے دین کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے گمراہ گروہ کا نمائندہ ہی کہلائے گا۔ ان کے لباس، جھنڈے، اور نعرے اسلامی روح کے ساتھ کی جانے والی خیانت کو چھپانے کے لئے کافی نہ ہونگے۔

یہ خونخوار گروہ جس پروپیگنڈہ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے اس کا ایک اہم عنصر جو کہ ریاست بننا ہے اس کی بنیاد سے انہیں محروم کرنا ایک ایسا ہدف ہوگا جس سے کہ پوری دنیا کے مسلمان متفق ہونگے۔ فقط اس مسئلے کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جنہیں فوج کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

داعش کے ساتھ دکھایا جانے والا مسئلہ اور اس سے ملتے جلتے گروہوں کا اپنے آپ کو معاشرے سے تنہا محسوس کرنے والے نوجوانوں کے جذبات سے مخاطب ہو کر انہیں بظاہر با وقار ہدف اور تعلقی احساسات کے وعدوں کے ساتھ آمرانہ نظریے کے جانثاروں کی شکل دینا۔ دینی، سیاسی، سائیکو سوشل، اور معاشیاتی پہلوؤں پر مبنی اس مسئلے کا حل بھی بہت سمتی ہونا چاہیے۔

گروہ پرستی اور معاشرتی تنہائی جیسے مسائل کو حکومتی اور عوامی سطح پر حل کرنا ضروری ہے اپنی عوام پر ظلم کرنے والے شامی ادوار کے معاملے میں بین الاقوامی تنظیموں کو حتمی مداخلت کرنی چاہیے۔ مغربی ممالک سے زیادہ اخلاقی اور منطقی خارجہ پالیسی بنانے کی امید کی جاتی ہے۔ مسلمان ان وسیع اقدامات کا حصہ ہو سکتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے لیکن ان پر ایک خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

فی الفور مسلمان ہونے کے ناطے جو کام اشد ضروری ہے وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اپنے معاشرے خاص طور پر نوجوانوں کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنا ہے۔ کیا کبھی ہم نے اپنے آپ سے یہ پوچھا ہے کہ ہمارے معاشرے کیسے دہشتگردوں کے لئے افراد کار مہیا کرنے والی زمین میں بدل گئے ؟

ان مسائل کے حل کے لئے یقیناً خارجی عناصر کو بھی حل کرنا ہوگا لیکن مسلمان ہونے کے ناطے سب سے پہلے اپنا محاسبہ کر کے اس کام کا آغاز کرنا ہوگا کیونکہ محاسبہ نفس ایک دینی فرض ہے۔ علاوہ ازیں والدین، اساتذہ، مدارس، اور صاحب رائے کا اس معاملے میں بہت بڑا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
ان میں سے اہم ترین انتہا پسندی کو جائز کہنے والے اور کرنے والے انتہا پسندوں کو خیالی جنگ میں مات دینا ہے۔ انتہا پسند گروہوں کی جو مشترکہ غلطی یا چال ہے وہ قرآن کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےبیاناتکوسیاقوسباقسےالگکرکےاپنےمقاصدکیتکمیلکیصورتمیںتشریحکرناہے۔انگروہوںکےپیچھےکہنظریہپرستنبیاکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکییاصحابہکرامؓکیزندگیوں میں سے ایک تصویر اٹھا کر پہلے سے نیت کردہ عمل کو جائز بنانے کے لئے ایک شرعی تعلق بناتے ہیں۔

اس چال کا جواب دینی تصورات کو مکمل طور پر، ہر روایت اور سیاق و سباق کے ساتھ سکھانے والا ایک تعلیمی پروگرام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ کیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قوم کو وحشیانہ خیالات سے نکال کر ابراہیم ؑ کے دین کی پیروی کرنے والے اور اخلاقی اصولوں کو اپنانے والی عوام میں بدل دیا۔ انہیں قرآن کریم کی روح اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور فلسفے کو سمجھنا ہوگا تاکہ وہ انتہا پسندوں کے دھوکے سے بچ سکیں۔

جن جگہوں پر مسلمان رہتے ہیں وہاں کی حکومتیں بھی ان کو دینی آزادی فراہم کر کے اس معاملے میں مدد گار بن سکتی ہیں۔ تعلیم کلیت کے اقتباس کا ایک اہم نقطہ ہر انسان کو اللہ کی ایک خاص مخلوق کے طور پر عزیز رکھنا ہے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو نظر انداز کرتے ہوئے انسانیت سے مخاطب ہوئے ہیں۔

اللہ "اور بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت دی"(70/17) کہتے ہوئے ساری انسانیت کو بخشتا ہے۔ قرآن کریم ایک معصوم کی جان لینے کو ساری انسانیت اور حیات کی قیمت کے خلاف ایک جرم ہونے کو بیان کرتا ہے (32/5)۔

دفاعی مقاصد کے لیے جائز کی گئی جنگ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسینہتےکوخاصطورپرعورتوں،بچوںاوردینیلوگوںکےخلافتشددسےمنعفرماتےہیں۔جیساکہعبدالرحمٰناعظمجیسےتاریخدانکہجنکےنقطہنظرسےمیںبھیمتفقہوں،کاکہناہےکہانکیتمامترجنگیںدفاعیتھیں۔ دوسروں کا مار کر جنت میں جانے پر یقین رکھنا یہ وحشیانہ دھوکہ ہے۔

عہد حاضر میں رواداری کو فروغ دینے کیلئے کام کرنے والے ترک رہنما فتح اللہ گولن نے بجا طور پر تجویز دی ہے کہ انتہا پسندی کو وسیلہ بنانے والے انتہا پسندوں کی ایک اور بڑی غلطی سیاسی مخالفت جب اکثر دینی امتیازات سے ٹکراتی ہے تو زمانہ وسطی کی دینی حکومت کو 21ویں صدی میں ویسے ہی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج مسلمان سیکولر اور جمہوری ممالک میں اپنے دین کو آسانی سے جی پارہے ہیں۔ عوامی انصاف، قانون کی بالاتری، مل کر فیصلہ کرنا، اور برابری جیسی اسلام کی بنیادی روایات شرکتی حکومت کی شکل میں ذیادہ منطقی ہیں۔ مسلمان جمہوری ملکوں کے لوگوں میں فائدہ مند عوام کے طور پر رہ سکتے ہیں اور رہ بھی رہے ہیں۔ مستقبل میں لی جانے والی تدابیر کے حوالے سے نوجوانوں کی معاشرتی ضروریات کو مثبت طریقے سے پورا کر کے ان کی توانائیوں کو تعمیری شکل میں استعمال کرنے کی سہولیات مہیا کرنا ہونگی۔ نوجوانوں کے گروہوں کو جنگ یا آفات کے متاثرین کی مدد کے لئے انسانی امداد کے پروجیکٹس میں رضاکار بننے کی طرف ابھارا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے پروجیکٹس جہاں ایک طرف متاثرین کے درد کو ختم کریں گے وہیں خدمت کرنے والوں کو مثبت اور معنی دار پروجیکٹس کا حصہ بننے کا احساس بھی دلائیں گے۔

غیر مسلم لوگوں کے ساتھ مکالمات اور انسانی خدمت پروجیکٹس کے ذریعے کام کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے کی عزت کریں گے اور سمجھیں گے۔ اس طرح سے جاری مکالمات کے ذریعے ہمارے نوجوان اپنے دینی گروہوں کو ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ انسانی خاندان کے افراد ہونے کی حقیقت کو سمجھ پائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی تمام مثبت گروہی سرگرمیا ں نوجوانوں کی مثبت شناخت اور مثبت تعلقی احساسات کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہونگی۔ 1970سے لیکر خدمت موومنٹ کے افراد نے جن کے درمیان ہونے پر میں بھی فخر کرتا ہوں، 150سے زائد ملکوں میں 1000سے زائد جدید اسکول، مفت تعلیمی مراکز، یونیورسٹیاں، ہسپتال، اور امدادی تنظیمات ہیں، یہ ادارے اور ان کے گرد بننے والے رضا کارانہ دائرے میں نوجوانوں کو پیشہ ورانہ خدمت کرنے والے، رہبر، استاد، اور معاونتی کردار دے کر ان کو مضبوط شناخت اور مثبت تعلقی کے احساسات کے ساتھ با مقصد زندگی گزارنے کا وسیلہ بنے ہیں۔ ان کے منصوبوں میں شامل نوجوانوں کو انتہا پسند گروہ اپنی طرف مائل کر کے انتہا پسندی میں شامل نہیں کر سکے۔ چند زبانیں سکھانے والے اور ثقافتی سیاحتیں کروانے والے ان اداروں نے دوسروں کوصحیح سمجھنے، وسیع اور تنقیدی سوچنے کی قابلیت کو بڑھایا۔ انتہا پسندوں کے ہمارے نوجوانوں کو بیمار نظریات پیش کرنے کے رد عمل میں ان کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے کا سب سے خوبصورت طریقہ تعلیمی راستوں اور اس کی سرگرمیوں میں مثبت نعم البدل دکھانا ہے۔ مسلمان اپنی نمازوں اور دعاؤں میں ہر روز بہت دفعہ "اے میرے رب تو ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت دے اور وہاں ثابت قدم رکھ" کہہ کر دعا کرتے ہیں۔

آج کل صراط مستقیم پر رہنے کی شرائط میں سے چند اہم ایمان کی بنیادی روایات کو اچھی طرح سمجھنے کے بارے میں اپنے آپ سے پوچھنا اپنی زندگی میں ان روایات کا کس قدر عمل دخل ہے، دیکھنا اور ان روایات کے مخالف سرگرمیوں کے خلاف اپنے نوجوانوں کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنا ہے۔
آج لندن، مانچسٹر، پاراچنار اور کوئٹہ میں ہونے والے وحشیانہ حملوں کو دوبارہ ہونے سے بچانے کے لئے دین کی آڑ میں خونخواری کرنے والے گروہوں کے خلاف عالمی سطح پر کی جانے والی مشقت کا حصہ بننا انسانی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری