پاکستان دہشت گردی کے خلاف ناکام؛ امریکی امداد کا مستحق نہیں؛ کانگریس میں بل پیش

خبر کا کوڈ: 1445722 خدمت: پاکستان
کنگره آمریکا

کانگریس میں ریپبلکن کے نمائندے ٹیڈ پو اور ڈیموکریٹ کے نمائندے رک نولان نے بل پیش کیا کہ چونکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر طریقے سے جنگ لڑنے میں ناکام ہوچکا ہے لہٰذا پاکستان امریکی مالی اور فوجی امداد کا مستحق نہیں ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان مخالف قرارد کانگریس میں پیش کرنے کے حوالے سے مشہور کانگریس میں ریپبلکن کے نمائندے ٹیڈ پو اور ڈیموکریٹ کے نمائندے رک نولان نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر طریقے سے جنگ لڑنے میں ناکام ہوچکا ہے لہٰذا پاکستان امریکی مالی اور فوجی امداد کا مستحق نہیں ہے۔

اس بل کا بنیادی مقصد 2004 میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں امریکا کی مدد کرنے پر اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کی جانب سے پاکستان کو حاصل ہونے والی ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت کو ختم کرنا ہے۔

امریکی کانگریس میں اگر یہ بل منظور کر لیا جاتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے فوجی روابط کو شدید دھچکا لگے گا۔

غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت سے ملک کو بین الاقوامی امداد اور دفاعی تعاون جیسے فوائد حاصل ہوتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ غیر نیٹو اتحادی ممالک فوجی سازو سامان کی تیزی سے منتقلی اور ہتھیاروں کی فروخت کے عمل کے اہل ہوتے ہیں۔

غیر نیٹو اتحادی حیثیت کا حامل ملک امریکی قرض ضمانتی پروگرام سے بھی مستفید ہو سکتا ہے جس کے مطابق ہتھیاروں کی برآمدات میں نجی بینک بھی قرض دے سکتا ہے۔

ایک غیر نیٹو اتحادی ملک امریکی فوجی سامان کا ذخیرہ بھی کر سکتا ہے اور دفاعی ترقیاتی پروگراموں میں بھی حصہ لے سکتا ہے اس کے علاوہ وہ ملک جدید ترین ہتیار بھی خرید سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ٹیڈ پو اس وقت امریکی خارجہ کمیٹی کے رکن ہیں اور ذیلی کمیٹی برائے دہشت گردی، عدم پھیلاؤ اور تجارت کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ہمیشہ ہی پاکستان مخالف قرارد کانگریس میں پیش کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

    تازہ ترین خبریں