تحریر: آر اے سید

بحران شام --- ماضی، حال اور مستقبل (پہلا حصہ)

خبر کا کوڈ: 1446776 خدمت: مقالات
آر اے سید

شام کے مسئلے کو تین زاویوں داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: داخلی اور اندرونی حوالے سے اگر دیکھا جائے تو شام کی لبنان، عراق اور ترکی سے سرحدیں ملتی ہیں یہی وجہ ہے کہ شام کے معاملات میں لبنان کا ہمیشه عمل دخل رہا ہے اسی لئے غاصب صیہونی حکومت کے لیے شام خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اسرائیل کے لئے اس بات کی خاص اہمیت ہے کہ شام میں کون برسر اقتدار رہتا ہے شام کی ماضی اور حال کی حکومت کا اسرائیل کے حوالے سے ہمیشه موقف واضح اور شفاف رہا ہے  اور شامی حکومت نے کبھی بھی صیهونی حکومت سے ساز باز یا تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کی۔

شام کا یہ موقف دوسرے عرب ممالک سے واضح طور پر مختلف  نظر آتا ہے دوسری طرف مغرب کی بھی ہمیشہ یہ کوشش  رہی ہے کہ عرب ممالک بالخصوص شام میں ایسی حکومت موجود رہے جو اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کا خطره ثابت نہ ہو۔

 شام بحران کی ایک اور وجہ شام کے اندر آبادی کی تقسیم ہے۔ بشاراسد کے مخالفین کا کہنا ہے کہ شام میں اہل سنت کی اکثریت ہے اور علوی اقلیت میں ہیں لہذا علویوں کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں بیرونی قوتیں اس تفریق کو ہوا دیکر اپنے مذموم اہداف حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی بھی شام کو اس مذہبی زاویے سے دیکھ کر شام میں بدامنی پھیلاتے ہیں دوسری طرف یہی ممالک بحرین کے مسئلے میں اس مسئلے کو نهیں اٹھاتے کہ وہاں شیعہ اکثریت میں ہیں لیکن اقلیتی گروه آل خلیفہ اقتدار پر قابض ہے۔ سعودی عرب اور ترکی اور ان کے اتحادی ممالک یہاں پر آکر دوہرے بلکہ منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔

 علاقائی سطح پر بھی شام کو خصوصی اہمیت  حاصل ہے اور وه خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں بنیادی کردار کا حامل رہا ہے۔ یہ خطہ بنیادی طور پر دو بلاکوں میں تقسیم ہے کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ سازباز  اور مذاکرات کے قائل ہیں جبکہ اسکے مقابلے میں استقامتی بلاک فلسطین کو فلسطینوں کی مالکیت قرار دیتا ہے اور وہاں پر اسرائیل کی صورت میں کسی غاصب حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

2011 میں جب اس خطے میں اسلامی و عوامی بیداری کی  لہر شروع ہوئی تو ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ خطے میں طاقت کا توازن استقامتی بلاک کے حق میں ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں سعودی عرب نے فرانس برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے خطے میں استقامتی بلاک کو کمزور کرنے کی سازشیں شروع کردیں۔ پہلے مرحلے میں حزب الله اور حماس کو کمزور کرنے کی سازش تیار کی گئی جس کے لیے شام میں بدامنی ضروری تھی کیونکہ حزب الله اور حماس دونوں دمشق سے اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے تھے۔ اسی سازش  کے پیش نظر شام میں افراتفری اور بشار حکومت کو کمزور بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ شام میں عوامی احتجاج شروع کر دیا گیا اور مصر، لیبیا  اور تیونس کی طرز پر عوامی احتجاج کے ذریعے بشار اسد کی حکومت کو  ختم کرنے کا منصوبہ عملی کیا گیا۔

یه سازش رچانے والے اس بنیادی نقطے سے غافل رہے که مصر، تیونس اور لیبیا میں حکومت مخالف احتجاج عوام  اور ملک کے اندر سے شروع ہوا نہ کہ شام کی طرح باہر سے امپورٹ کیا گیا۔ اسی اندازے کی غلطی کیوجہ سے امریکہ، ترکی، سعودی عرب اور اس کے دیگر اتحادیوں کو شام میں مطلوبہ کامیابی نہ مل سکی اور شام ایک بحران میں داخل ہو گیا۔

اس کے علاوه بھی اگر شام کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزه لیا جائے تو یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ امریکہ اور روس کی باہمی چپقلش بھی اس بحران کی ایک اہم وجہ ہے۔

روس نے شام کا قدیمی اتحادی ہونے کے ناطے نیز امریکہ کی مخالفت میں شام میں فوجی شمولیت کو ضروری سمجھا اور حلب اور دیگر علاقوں کی فتح میں بھرپور ساتھ دیا۔ امریکه میں باراک اوبامہ کی حکومت اور روسی حکومت کی باہمی رنجشیں اور رقابتیں بھی اس بحران کو ساتویں سال میں داخل کرنے کا باعث بنیں۔

اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی عوامل اس بات کا باعث بنے کہ شام کا بحران علاقے کے دیگر عرب ممالک کے بحرانوں سے منفرد نظر آتا ہے۔ شام کے اندر محدود عوامی احتجاج کو بیرونی طاقتوں نے دہشت  گردوں کے تعاون سے ایک فوجی اور جنگی بحران میں تبدیل کردیا ہے۔ شام کے بحران میں دہشت گردی کا عنصر داخل کرنے کا سب سے زیاده نقصان شامی عوام کو پہنچا شام اس وقت بیرونی دہشت گردوں کی وجہ سے ایسے خطرناک بحران میں  تبدیل ہو چکا ہے که حتی بشار اسد کے غیر مسلح اور سیاسی مخالفین بھی اس میں بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ شام کا حالیہ بحران عربی، عبری، مغربی اور ترکی جیسے ممالک کی حمایت کی وجہ سے روزبروز پیچیده ہو رہا ہے اور اس میں اصل طاقت اندرونی قوتوں کے بجائے بیرونی عناصر کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔

یہاں پر ایک اور سوال اٹھتا ہے که شام کی اہمیت کے ساتھ ساتھ کیا بشار اسد کا اقتدار میں رہنا بھی اہم ہے؟

اس سوال کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے که بشار اسد کے بغیر شام میں قیادت کا ایسا خلا پیدا ہو جائیگا جس کو فوری طور پر پر نہیں کیا جا سکتا لہذا جب تک دہشت گرد شام میں موجود ہیں بشار اسد کا اقتدار میں رہنا ضروری ہے۔

شام مخالف میڈیا کے پروپگنڈے کے برعکس بشاراسد کا اقتدار میں رہنا نہ صرف اس کے حامی ممالک کے لیے فائده مند ہے بلکہ شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی حفاظت کے لئے بھی ضروری ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کی نگاه میں شام میں سرگرم عمل دہشت گرد نہ صرف بشاراسد کو اقتدار سے ہٹانا نہیں چاہتے ہیں بلکه وه شام کی تقسیم کے صیهونی منصوبے کو بھی عملی جامعه پہنانا چاہتے ہیں۔

اس اہم نکتہ کی طرف اشاره کرنا بھی ضروری ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گرد شامی نہیں بلکہ باہر سے آئے ہوئے ہیں اسی طرح شام میں آبادی کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور دشت گردوں کی طرف سے کشور کشائی کا نظریہ ایسے عوامل ہیں جو صرف شام کے لیے خطرے کا باعث نہیں ہیں بلکہ اگر یہ سازش شام میں کامیاب ہو جاتی ہے تو دہشت گردوں کے حامی ہمسایه ممالک بھی دہشت گردی کی اس لعنت سے بچ نہیں پائیں گے اور انہیں اس حمایت کا تاوان ادا کرنا پڑے گا۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری