پاراچنار: آنسو خشک نہ ہوئے / دھرنا پانچویں روز بھی جاری + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1447418 خدمت: پاکستان
پارا چنار دھرنا 5

پاراچنار میں جمعتہ الوداع کے روز ہونے والے خودکش دھماکوں کے خلاف مظلوم عوام کا پر امن احتجاج اور دھرنا پانچویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم ک مطابق پاراچنار کے شہید پارک میں قبائلی عمائدین اور سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما دھرنا دیئے بیٹھے ہیں جہاں قریبی دیہاتوں سے بھی بڑی تعداد میں مقامی افراد دھرنے میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق پاراچنار میں پی اے چوک میں نوجوانوں کا اپنے حقوق کے حصول کیلئے پرامن دھرنا جاری ہے، جس میں درج ذیل مطالبات مسلسل دہرائے جا رہے ہیں جبکہ مذاکرات کے حوالے سے شرکا کا کہنا ہے کہ مذاکرات صرف آرمی چیف سے یا نواز شریف سے ہوں گے، ورنہ دھرنا جاری رہے گا۔

  • پاراچنار دھماکوں میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
  • پاراچنار کی اندرون شہر سیکیورٹی لوکل انتظامیہ و قومی رضاکاران کے حوالے کی جائے۔
  • دھماکوں کے بعد پرامن مظاہرین پر اندھادھند فائرنگ کرنے والے ایف سی اہلکاروں اور انکو فائرنگ کا حکم دینے والے آفیسرز کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے۔
  • پاراچنار کے شہداء اور زخمیوں اور دیگر متاثرین کو بھی اتنا ہی پیکیج دیا جائے جتنا کہ ملک کے دیگر حصوں میں دیا جاتا ہے۔
  • پاراچنار کے باسیوں کو بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح جان و مال کی تحفظ کو یقینی بناکر جینے کا بنیادی حق دیا جائے۔
  • رات تک موبائل سروسز بحال کر دی جائے ورنہ موبائل ٹرانسمشن ٹاور کی حفاظت کی زمہ داری حکومت پہ ہو گی۔
  • تمام چیک پوسٹس سے آرمی ملیشیا مکمل کلوز کی جائے اور کرم لیوی و قومی پاسدران کے حوالے کر دے جائے، جب تک طوری ملیشا واپس نہیں آتا۔
  • کرنل عمر کا فل الفور کورٹ مارشل کیا جائے۔
  • قاتل کہا سے آیا تھا۔ کیمروں کی مدد سے رپورٹ مرتب کر کے بتایا جائے۔ کون تھا کہا سے آیا تھا۔

دھرنے سے خطاب میں سابق سینیٹر عابد الحسینی اور دیگر مقررین نے مطالبہ کیا ہے کہ آرمی چیف ، وفاقی وزیر داخلہ، گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام پاراچنار آئیں اور حالات کا خود جائزہ لیں۔

خیال رہے کہ پاراچنار کے مظلوم اور بےگناہ شہریوں کو ایک بار پھر خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا ہے۔

دہشتگرد کالعدم جماعت لشکر جھنگوی کی جانب سے 3 منٹ کے وقفے سے کیئے گئے 2 ہولناک دھماکوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 100 جبکہ زخمیوں کی تعداد 300 تک جا پہنچی ہے۔

 

 

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری