تجزیہ نگار عبد الباری عطوان:

قطر مسئلہ اور پیچیدہ ہوگا / محاصرہ کرنے والوں کا اصل ہدف فوجی چڑھائی

خبر کا کوڈ: 1447462 خدمت: دنیا
عبد الباری عطوان

قطر کو دی گئی دس روزہ مہلت میں سے چار دن گزر گئے ہیں، یہ درخواست قطر کو اسی لئے پیش کی گئی ہیں کہ قطر ان پر عمل کرنے سسے انکار کرتے ہوئے انہیں رد کر دے جس کے بعد  پابندیوں کے بعد کے مرحلے یعنی فوجی کارروائی کا بہانہ فراہم ہو سکے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عرب دنیا کے نامور تجزیہ نگار عبد الباری عطوان نے روزنامہ رای الیوم کے لئے لکھے مقالے میں  کہا ہے قطر بحران پرامریکہ وزیر خارجہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا رویہ گمراہ کرنے والا ہے کیوں کہ خود امریکہ اس بحران میں شامل ہے اور اس کی ناہوں نے پہلے ہی قیمت وصول کر لی ہے۔

انہوں نے وائٹ ہاوس کے ترجمان شان اسپائسر کو امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے مقابلہ صاف گو بتاتے ہوئے کہ انہوں نے قطر اور عرب ممالک کے اختلاف کو داخلی مسئلہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے جسے وہ خود حل کریں حالانکہ انہوں نے الجزیرہ کو بند کئے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

عطوان نے کہا کہ شان اپسائر نے بھی وہی مشکوک زبان استعمال کی ہے جو امریکہ ایسے معاملوں میں کرتا ہے جن میں وہ خود حلیف ہوتا ہے۔

یاد کیجئے 1990 میں بغداد میں امریکی سفیر اپریل گیلیسپی نے کویت پر حملے سے قبل عراق کے ظالم حاکم صدام سے ایسی بات کہی تھی جو صدام کے لئے کویت پر چڑھ دوڑنے کے لئے  ہری جھنڈی تھی۔

یہ کہنا کہ خلیجی ممالک کے مسائل ان کا آپسی معاملہ ہے در حقیقت ان ممالک کے لئے کھلی چھوٹ کی مانند ہے کہ وہ جو چاہیں کریں جو سخت قدم اٹھانا چاہتے ہیں اٹھا لیں اور پیش آنے والے معاملات سے اپنا دامن بچانا ہے۔

قطر کو دی گئی دس روزہ مہلت میں سے چار دن گزر گئے ہیں۔ یہ درخواست قطر کو اسی لئے پیش کی گئی ہیں کہ قطر ان پر عمل کرنے سسے انکار کرتے ہوئے انہیں رد کر دے جس کے بعد  پابندیوں کے بعد کے مرحلے یعنی فوجی کارروائی کا بہانہ فراہم ہو سکے۔

ماسکو میں قطر کےسفیر فحد بن محمد بن عطیہ نے کہا کہ سعودی عرب، بحرین، مصر اور متحدہ عرب امارات؛ قطر کے نظام حکومت میں تطدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔  

ہم  بھی اس روزنماہ کے ذریعہ قطری سفیر کے نظریہ سے متفق ہیں کیوں کہ تبلیغاتی جنگ کے تمام مقدمات فراہم ہو چکے ہیں اس کے بعد اقتصادی محاصرہ اور اس کے بعد آخری ہدف فوجی کارروائی، جیسا کہ ہم عراق، یمن اور لیبیا میں بھِی دیکھ  چکے ہیں۔

قطر کو جو فہرسست دی گئی ہے وہ ان پر کیا عمل کرے گا، کوئی ملک ثالثیی کا کردار ادا کر رہا ہے یا نہیں، قطر کو ملنے والی مہلت میں اجاہ ہوگا یا نہیں ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ہے لیکن ایک بات جو ہم کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ مشکل ان تمام مشکلات اور بحران سے سنگین ہوگی جن میں امریکہ کسی طور سے شریک رہا ہے۔ کیوں کہ قطر اپنے موقف پر اٹل ہے اور اس نے ذرا بھی نرمی نہیں دکھائی ہے اور نہ پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا ہے دوسری طرف متجاوز آل سعود اور ان کے ہمنوا کمیونیسٹی طرز پر چلتے ہوئے تمام راہ حل کو نذر آتش کرتے ہوئے جلد از جلد اپنے آخری ہدف تک پہنچنے کی جلدی میں ہیں؛ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری