تحریر: آر اے سید

بحران شام --- ماضی، حال اور مستقبل (حصہ سوئم)

خبر کا کوڈ: 1448351 خدمت: مقالات
آر اے سید

ایک اور اہم مسئلہ جسکی نشاندہی ضروری ہے وہ یہ کہ شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے ساتھ ہی امریکہ نے کئی مرتبہ بشار الاسد پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عائد کئے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: معروف صحافی سیمور ہرش کے مطابق امریکہ، صدام حسین کی طرح بشار الاسد کے خلاف بھی کیمیائی ہتھیاررکھنے کے جھوٹے پراپیگنڈے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ جہاں تک ٹرمپ انتظامیہ کا تعلق ہے، تو ٹرمپ اپنی انتخابی مہم اور پھر صدر بننے کے فوراً بعد یہی موقف اختیار کرتے رہے کہ شام میں امریکہ کو پہلے داعش کے خطرے سے نمٹنا چاہیے نہ کہ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپنے پیسے اور فوجی صلاحیتوں کو برباد کرنا چا ہیے۔

امریکی میڈیا کے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا موقف یہ رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شام کے معاملے پر اوباما انتظامیہ سے اس لئے الگ موقف لیا، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ شام میں روس کی براہ راست فوجی مداخلت کے باعث امریکہ کے حامی گروپوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر گزشتہ سال دسمبر میں بشارالاسد کی فوج نے روسی فضائی امداد کے ساتھ، جس طرح حلب کا کنٹرول واپس لیا، اس سے صاف واضح ہونا شروع ہوگیا تھا کہ مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ کئی عرب ممالک کی امداد کے باوجود بھی شام میں بشار الاسد کے باغی بڑے پیمانے پرکامیابیاں حاصل نہیں کرسکتے، تاہم ایک مشکوک کیمیائی حملے کے بعد سے امریکی میڈیا خاص طور پر بڑے اخبارات کا موقف یہی ہے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امریکی عزائم کوپورا کرنے کے لئے اس کیمیائی حملے کو ایک جواز کے طور پر پیش کرسکتے ہیں بعد میں شام پر امریکی حملے سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ موقف درست تھا۔ اس جواز کو صرف شام کے خلاف ہی نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں تیزی سے اثرورسوخ اختیار کرنے والے ملک ایران کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت کیمیائی حملے کے صرف ایک روز بعد ٹرمپ کی پریس کانفرنس ہے، جو انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ کی۔ ٹرمپ کے الفاظ تھے: ’’ان کا ارادہ ہے کہ اب مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئے کارروائی کی جائے‘‘۔

یہ حقیقت تاریخ کے کسی بھی طالب علم سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ سامراج جب بھی ’’امن‘‘ کا نعرہ لگا کر کسی ملک کے خلاف جنگ کرتا ہے، تو اس کے کیا نتائج نکلتے ہیں؟ اسی طرح چند روز قبل امریکی سنٹرل کمانڈ کے چیف جنرل جوزف نے ہاؤس آرمڈ فورسز کمیٹی میں بیان دیا کہ ’’ایران مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے،اس کے اثرورسوخ کو کم کرنا ہوگا‘‘۔

ظاہر ہے یہاں پر مشرق وسطیٰ کی’’سیکیورٹی‘‘ سے مراد امریکی عزائم، امریکہ کے حلیف عرب ممالک اور اسرائیل ہی ہیں۔۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہی دعویٰ کرتے تھے کہ امریکہ اب پرائی جنگوں میں کودنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کو بہتر کرے گا، مگر امریکی سیاست پر ہلکی سی نظر رکھنے والے کسی بھی انسان کے لئے یہ بات جاننا مشکل نہیں کہ امریکی نظام کے اندر ایسا ہونا، ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی صدر اپنے طور پر امریکہ کے سامراجی کردار کو ختم کر پائے۔ اب امریکہ، شام کی جنگ میں خود کود پڑا ہے، تو پھر اس بات کا بھی امکان ہے کہ اب روس بھی شام میں اپنے حلیف بشار الاسد کوبچانے کے لئے اہم کارروائیاں کر سکتا ہے۔ اگر روس اور امریکہ براہ راست کسی جنگی کارروائی میں ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے، تو پھر اس سے پوری دنیا کے امن کو کتنا نقصان پہنچے گا، اس کا ندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں، جبکہ شام تو پہلے ہی اس خانہ جنگی کے باعث تباہ ہوچکا ہے۔ شام کی خانہ جنگی سے ہونے والی تباہی پر شامی سنٹر فار پالیسی ریسرچ کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد وشمار شام کی مخدوش صورت حال کو بیان کرنے کے لئے کا فی ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق شام کی کل آبادی کا 11.05فی صد اس خانہ جنگی سے یاتو ہلاک ہوچکا ہے یاپھر زخمی اور معذور ہو چکا ہے۔ شام میں 2011ء میں بے روزگاری کی شرح 14.9فی صد تھی، اب یہ شرح 52.9فی صد ہوچکی ہے، جبکہ غربت کی شرح85فی صد سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق 50لاکھ شامی باشندے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جبکہ 60لاکھ افراد شام کے اندر ہی مختلف علاقوں میں دربدر ہوچکے ہیں۔ سامراجی ممالک کے عزائم کے باعث دنیا 20ویں اور اب 21ویں صدی میں بہت تباہی دیکھ چکی ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ سامراجی پالیسیوں سے براہ راست ایسے افراد متاثر ہوتے ہیں، جن کا نہ اپنے ملک اور نہ ہی سامراجی ممالک کی پالیسیوں سے کچھ لینا دیناہو تا ہے۔ موجودہ دور میں عراق، لیبیا اور افغانستان اس کی اہم مثالیں ہیں لیکن شام سرفہرست ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری