تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاراچنار پر پھر بھی تکفیر کی یلغار-1 / زید حامد کی شرانگیزی

خبر کا کوڈ: 1448866 خدمت: مقالات
پاراچنار

زید حامد کا بہت اہم اور نہایت خطرناک اور شرارت آمیز نکتہ یہ تھا کہ: "فوج تمہاری حفاظت کررہی ہے چنانچہ تمہارا یہ مطالبہ درست نہیں ہے کہ فوج پاراچنار سے چلی جائے ہم حزب اللہ طرز کی اپنی ملیشیا تیار کریں گے جو علاقے کی حفاظت کرے گی۔"

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے پاراچنار سے تعلق رکھنے والے صحافی فرحت حسین مہدوی نے اپنے کالم میں کہا ہے کہ پاراچنار میں سعودی پرستوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا، عید سے قبل پاراچنار میں ایک دھماکہ کرکے کئی افراد کو شہید اور زخمی کیا اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لئے لوگ اکٹھے ہوئے تو دوسرا حملہ ہوا اور ایک قول کے مطابق اب تک 100 افراد شہید ہوچکے ہیں اور یوں اس سال کے آغاز سے اب تک 200 کے قریب نہتے اور محب وطن پاکستانیوں کو انسانی ترقی اور مدنی حیات کے ارتقاء کی دعویدار بیسویں صدی میں عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا گیا اور پاکستان کو دنیا بھر میں تمغہ اعزاز عطا ہوا اپنے کرتے دھرتوں کے ہاتھوں پاراچنار کی حد تک چوتھی بار۔

سینکڑوں ہزاروں مرتبہ کہا جا چکا ہے کہ پاراچنار میں کوئی بھی ایسا گھر اس وقت آباد نہیں ہے جہاں کوئی دہشت گرد پناہ لے تو پھر یہ کہاں سے آتے ہیں؟ باہر سے لائے جاتے ہیں یا پھر اندر ہی ایف سی ہیڈکوارٹرز یا بین الاقوامی معاہدوں کے برعکس قائم فوجی چھاؤنی یا پولیٹیکل ایجنٹ یا اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے بادشاہی محلات میں پالے جاتے ہیں اور یہیں سے سلام و درود کے ساتھ جنت کی طرف روانہ کئے جاتے ہیں کہ جاؤ مرو، مارو اور جنت سدھارو۔

یہ بات ناقابل انکار ہے کہ سرکار کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پاراچنار میں پر نہیں مار سکتا تو پھر اتنے سارے دھماکے ہوتے ہیں تو وہ کیونکر سرکار کی مرضی کے بغیر ہوسکتے ہیں۔

اسی حوالے سے دیکھئے:

اہل تشیع کے ساتھ زید حامد کی شرارت آمیز ہمدردی

زید حامد صاحب نے ایک دو وا‏ئس میسجز میں جو ویٹسپ گروپوں میں گردش کررہے ہیں شیعوں سے گلہ شکوہ کیا ہے کہ میں نے کسی کو بےوقوف نہیں کہا میں نے تو صرف انتہاپسندوں کو بےوقوف کہا ہے اور یہ کہ "شیعہ عوام میں فوج کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے گوکہ وہ صرف کرنل عمر کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن یہ غم و غصہ فوج کے خلاف ہے" [<-قابل توجہ]

انھوں نے مزید کہا ہے کہ "میں نے یہ نہیں کہا کہ شیعہ راء کے ایجنٹ ہیں بلکہ میں نے تو کہا تھا کہ پاراچنار کے عوام سے کہ راء تمہیں فوج کے خلاف اکسا رہی ہے بھڑکا رہی ہے ہوشیار رہو۔[<-قابل توجہ]

انھوں نے مزید کہا ہے کہ "میں نے کہا ہے کہ فوج تمہاری حامی ہے جو تمہیں خوارج سے بچا رہی ہے یہ نہ کہو کہ فوج نے تکفیریوں اور خوارج کو پالا ہے"۔[<-قابل توجہ]

زید حامد کا بہت اہم اور نہایت خطرناک اور شرارت آمیز نکتہ یہ تھا کہ: "فوج تمہاری حفاظت کررہی ہے چنانچہ تمہارا یہ مطالبہ درست نہیں ہے کہ فوج پاراچنار سے چلی جائے ہم حزب اللہ طرز کی اپنی ملیشیا تیار کریں گے جو علاقے کی حفاظت کرے گی"۔[<-ریڈ سائن]

زید حامد نے شاید کہیں بی بی سی وغیرہ سے تربیت حاصل کی ہے جو ہمدردانہ لہجے میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں اور اپنا زہر بڑی مہارت سے اگل لیتے ہیں انھوں نے مزید بھی کچھ کہا ہے کہ میری انگریزی کو کوئی سمجھا نہیں ہے یا اس کا ترجمہ درست نہیں ہوسکا ہے یا پھر لوگوں کا رد عمل سب بدنیتی پر مبنی ہے یا پھر جہالت ہے۔ اور اکثریت جاہل ہے، گویا کہ دنیا کے واحد عالم فاضل جناب زید حامد صاحب ہیں۔ بہرحال ان کی ان باتوں سے اور حتی اس دعوے سے کہ میں پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کا سب سے بڑا (!؟) داعی ہوں، کوئی سروکار نہیں ہے اور ممکن ہے کہ وہ درست کہہ رہے ہوں اور اس بات سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ میں کسی وقت تکفیریوں کے خلاف بولنے کی وجہ سے شیعوں کا ہیرو تھا۔

اوپر کے چند جملوں پر تھوڑی سی جرح کرتے ہیں:

نکتہ نمبر 1:

عرض یہ ہے کہ غم و غصہ پایا جانا ایک فطری امر ہے اور چونکہ پاراچنار باہر سے فوج اور ایف سی کے کنٹرول میں ہے اور یہاں کوئی سوئی بھی نہیں لا سکتا اور جو مقامی لوگ ہیں اور جن سے دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں ہے انہیں ٹھیک ٹھیک ستایا جاتا ہے، انہیں اذیتیں دی جاتی ہیں اور جو خودکش ہیں وہ یہاں آ دھمکتے ہیں اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ چھ مہینوں کے دوران 4 مرتبہ یہ واقعات رونما ہوتے ہیں تو پھر زید حامد صاحب فرمائیں کہ اس کا الزام کس پر لگے گا؟

کرنل عمر کے خلاف غم و غصہ در حقیقت فوج کے خلاف غم و غصہ ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرنل عمر فوج کا آدمی ہے اور اس کے ہاتھ یہاں کے عوام کے خون میں رنگے ہوئے ہیں یہاں تک کہ دہشت گردوں کے حامی لکھاری اور سوشل میڈیا میں ان کے لئے پراپیگنڈا کرنے والے کرنل عمر کو مجاہد اکبر سمجھنے لگے ہیں جس نے اتنے شیعوں کو ٹھنڈے پیٹوں قتل کیا ہے خواہ ان میں بچے، عورتیں، بوڑھے، روزہ دار اور نمازی ہی شامل کیوں نہ ہوں۔ لیکن زید حامد نے اپنے ہمدردانہ ارشادات میں اس علاقے کو دوسری ایجنسیوں کی مانند ملک دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ہمارے یہاں کے لوگ اور عموما پاکستان بھر کے شیعہ ریاست کے وفادار ہیں لیکن وہ فوج اور کسی بھی ادارے کو تنقید سے بالاتر نہیں سمجھتے اور اگر ان کے بقول راء کے لوگ ہمیں بھڑکارہے ہیں تو زید حامد مسلح افواج کو ہمارے خلاف بھڑکا رہے ہیں اور اس بات کو یہاں بہت سے لوگ بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

نکتہ نمبر 2:

پاراچنار میں راء کے ایجنٹ کہاں سے آئے جناب زید حامد صاحب! آپ نے تو فرمایا تھا کہ میں نے یہ الزام نہیں لگایا کہ شیعہ راء کے ایجنٹ ہیں پھر یہ راء کے ایجنٹ ہمیں کیونکر بھڑکا رہے ہیں؟ کیا اس کا مفہوم یہی نہیں ہے کہ جناب نے شیعوں پر راء کے ایجنٹ ہونےکا الزام لگایا ہے؟ حالانکہ راء کے ایجنٹ تو طالبان میں شامل ہیں ٹی ٹی پی میں اور سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اور اشرار الاسلام میں جو پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ہمیں بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ راء کے ایجنٹ پاراچنار میں کیسے آئے؟ کیا اسی طرح داخل ہوئے جس طرح کے تکفیری خوارج بم باندھ کر آتے ہیں؟ کیا سرکار کو ان کے آنے کا علم نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر راء کا ایجنٹ کون کہلائے گا؟ کون لا رہا ہے انہیں اور اگر نہیں تو یہ بھونڈا الزام لگا کر ہمارے زحموں کو ہرا کرنے کا انعام جناب کو کہاں سے مل رہا ہے؟ کیا یہ بھی شیعوں کے خلاف پاکستانی رائے عامہ اور ریاست کے اداروں کے بھڑکانے کا منصوبہ نہیں ہے جو جناب والا کی زبان و قلم سے نافذ ہورہا ہے؟

نکتہ نمبر 3:

کون انکار کرسکتا ہے کہ دہشت گرد ضیاع الحق کی گود میں پروان چڑھے اور اس کے بعد سے ہزاروں کے تعداد میں ادھر ادھر سے تربیت حاصل کرنے جاتے رہے اور آتے رہے اور دہشت گردوں کے اہم سرغنوں کے پاکستان آرمی کے اعلی ترین افسران سے تعلقات کو کیسے چھپایا جاسکے گا؟ مہران ائیر بیس، جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر، ائیرفورس کی بسوں پر حملوں میں اندر کے لوگ ملوث تھے یا نہیں؟ اگر ملوث نہیں تھے تو دہشت گرد ان اداروں کے اندر تک کیسے پہنچے؟

ہاں زید حامد صاحب! فوج کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ ہماری حفاظت کررہی ہے جبکہ ہمیں تو مسلسل قتل کیا جارہا رہے ہیں لیکن ہم نے فوج کے خلاف لڑنے کا اعلان تو نہیں کیا، ہم تو اصلاح کا مطالبہ کررہے ہیں اور اس مطالبے میں حق بجانب ہیں اور یہ کہ ہم نے ایسے وقت میں فوج کو تحفظ دیا جب دوسری ایجنسیوں میں فوجی اپنے بیرکوں سے نکلے کی جرات نہیں کرسکتے تھے، ہم نے کبھی پاکستان کے پرچم کی بےحرمتی نہیں کی جبکہ دوسرے قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں قومی پرچم کو اتارا گیا اور جلایا گیا۔ ہم پاراچنار میں ریاستی اداروں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں بھی مارے جاتے رہے اور ہمارے جوان پاکستان کے تحفظ کے لئے وزیرستان اور سوات میں بھی مارے جاتے رہے۔ اور ہاں زید حامد صاحب! آپ کی اس بات سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ جناب بڑی محبت سے افواج پاکستان، رائے عامہ اور اداروں کو شیعیان پاکستان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں کیا ایسا نہیں ہے؟

نکتہ نمبر 4:

جناب زید حامد صاحب نے چوتھے نکتے میں بدنیتی اور شر انگیزی کی انتہا کی ہے اور دوسروں پر اپنی تحریر نہ پڑھنے اور الزام لگانے کا الزام لگانے والے جناب عالم و فاضل صاحب نے آج تک ہمارا واضح اور تاریخی مطالبہ ہی توڑ مروڑ کر ایک بار پھر پوری ریاست کو شیعوں ـ بطور خاص شیعیان پاراچنار کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "فوج پاراچنار سے چلی جائے ہم حزب اللہ طرز کی اپنی ملیشیا تیار کریں گے جو علاقے کی حفاظت کرے گی"۔

غلط بیانی کی انتہا اور یہ جملہ ہم جناب زید حامد کی علمی زبان سے سن رہے ہیں اور کبھی بھی پاکستان کے محب وطن شیعوں کی زبان سے ایسی بات نہیں سنی گئی اور کسی قلم نے ایسا کوئی جملہ نہیں لکھا۔

زید حامد صاحب پاراچنار کی تاریخ سے مکمل طور پر ناواقف نظر آتے ہیں [معاف کرنا] بات در اصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں کسی وقت کرم ملیشیا ہوتی تھی جو ایف سے کا حصہ ہے اور اور سنہ 47، سنہ 65 اور سنہ 71 میں پاکستان کے لئے لڑی اور اب بھی لڑ رہی ہے لیکن دوسرے علاقوں میں تعینات ہے۔ یہاں پاراچنار میں جو ملیشیا ہے اس کا نام تو کرم بٹالین ہے لیکن اس میں تعینات افرادی قوت کا تعلق وزیرستان وغیرہ سے ہے جو کبھی تو ممکن ہے کہ وہ وزیرستان میں پاکستان دشمنوں کے خلاف لڑنے والے ہمارے جوانوں کے کارناموں کا بدلہ لینے کے لئے بھی ہم پر فائرنگ کھولیں یا پھر خودکش بمبار تیار کرکے ہمارے درمیان روانہ کردیں جیسا کہ ہم نے اس تحریر میں بھی عرض کیا ہے کہ دہشت گرد یا تو بحفاظت لائے جاتے ہیں یا پھر اندر ہی اندر پالے جاتے ہیں۔

ہم کرم ملیشیا کی مقامی نفری کی کرم ایجنسی میں واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں جن میں صرف شیعہ ہی شامل نہیں ہیں بلکہ کرم ایجنسی کی سنی آبادی سے بھرتی کی گئی نفری بھی اس میں شامل ہے اور اگر وہ آئے گی تو شیعوں کا بھی تحفظ ہوگا اور سنیوں کا بھی۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ضیاع الحق کا شر و فتنہ اور کشت و خون سے بھری ریاست کو قائد اعظم کی ترسیم کردہ ریاست کی طرف پلٹایا جائے۔

چنانچہ زید حامد کی یہ بات بہت خطرناک اور شر انگیز ہے کہ یہاں کے عوام نے حزب اللہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ ہم اس بات کے قائل ہیں جیسا کہ مرحوم جنرل حمید گل نے بھی کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک حزب اللہ کی ضرورت ہے کیونکہ باقاعدہ افواج دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں اور ان کے اہداف و مقاصد اور ان کی تربیت بالکل مختلف ہے۔

ہماری زبان سے حزب اللہ کا مطالبہ پیش کرنے سے جناب زید حامد کا مطلب جو بھی ہے نہایت خطرناک، اشتعال انگیز اور شرارت آمیز ہے۔

زید حامد صاحب اتنی ہمدردی جتانے کے بجائے ہمارا ہمدردانہ مشورہ بھی سنیں

آپ نے ہمدردی کی آڑ میں ریاست کو شیعیان پاراچنار و پاکستان کے خلاف اشتعال دلانے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی ہے جو ہرگز قابل تشکر نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اگر آپ پاراچنار کے بارے میں اور شیعوں کے بارے میں کچھ نہ لکھیں تو کیا تحریر و کتابت کی دنیا اجڑ جائے گی؟ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ ہمارے شہداء کا خون بالکل تازہ ہے جنہیں بغیر کسی جرم کے قتل کیا گیا آپ مہربانی کرکے ملک بھر میں جاری و ساری درجنوں دوسرے مسائل کا تجزیہ فرمائیں اور ہماری حمایت نہ کریں لیکن شرانگیزی سے پرہیز فرمائیں اور اگر آپ کی تحریروں میں نادانستہ طور پر اس طرح کا اشتعال انگیز مواد شامل ہورہا ہے تو بھی مہربانی کرکے یہاں کے عوام کو اپنے حال پر چھوڑیں۔

مرا به خیر تو امید نیست شر مرسان ۔۔۔۔ ہمیں آپ سے خیر کی امید نہیں ہے بس شر مت پہنچایئے۔ [شکریہ]

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری