تحریر: فرحت حسین مہدوی

پاراچنار پر پھر بھی تکفیر کی یلغار-2 / دهرنا اور مطالبات

خبر کا کوڈ: 1449459 خدمت: مقالات
پاراچنار 5

اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے پاکستانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے حامی ٹولے جو مختلف ناموں سے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، کرنل عمر یا ماڈرن ملا عمر کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں کہ اس نے تو ایران اور شام کے اڈوں کو تباہ کیا ہے یہ سب جو وہ کررہا ہے پاکستان کے مفاد میں ہے! جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ دشمنی کرے وہ خود ملک و ریاست کا دشمن ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: دہشت گردی کے حامی ٹولے جو مختلف ناموں سے سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں کرنل عمر یا ماڈرن ملا عمر کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں کہ اس نے تو ایران اور شام کے اڈوں کو تباہ کیا ہے یہ سب جو وہ کررہا ہے پاکستان کے مفاد میں ہے! جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جو محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ دشمنی کرے وہ خود ملک و ریاست کا دشمن ہے، اس وقت محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام وہابی فتؤوں اور بعض ریاستی اداروں کی شرانگیزیوں کی بنا پر جنت کا سرٹیفکیٹ بن چکا ہے اور جو پاکستان کا پرچم جلاتے ہیں اور قا‏‏ئد اعظم کی تصویروں کی توہین کرتے ہیں وہ ریاست کے خیرخواہ سمجھے جاتے ہیں۔

جہاں تک یہاں شام اور ایران کے اڈوں کا تعلق ہے تو اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی تو ریاست جو اپنے محبوں کو ٹھنڈے پیٹوں مار رہی ہے یا دہشت گردوں کے ذریعے مرواتی ہے، وہ بمباریاں کرکے ایسے فرضی اڈوں کو تباہ کرتی لیکن یہاں تو بچوں کو مارا جارہا ہے، سودا سلف کے لئے آئے ہوئے غریب دیہاتیوں کو مارا جارہا ہے اور پھر ان لوگوں کو جو زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں؛ یا پھر سبزی منڈی میں دھماکے ہورہے ہیں یا جمعہ کی نماز کے لئے آئے ہوئے لوگوں کو یا پھر عالمی صہیونی یہودیت کے خلاف اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے یوم القدس منانے کے لئے آئے ہؤوں کو؛ یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ پاکستانی تکفیری دہشت گردوں اور یہودیوں کے درمیان کیا رشتہ ہے کہ اس سال بھی سابقہ برسوں کی طرح انھوں نے یوم القدس کے لئے آئے ہوئے عوام کو نشانہ بنایا اور اس بار تو انھوں نے انتہا کردی۔

اس بار لشکر جھنگوی العالمی نامی دہشت گرد ٹولے نے بہت تاخیر سے پاراچنار دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی جس سے معلوم ہوا کہ دھماکے کرنے یا کرانے والوں اور دہشت گردوں کے درمیان کافی بحث و مباحثہ ہوا ہے یہ تعین کرنے کے لئے کہ کونسا ٹولہ ذمہ داری قبول کرے؟ اس سے پہلے سبزی منڈی دھماکے کی ذمہ داری پہلے ایک ٹولے نے قبول کی اور اپنے ایک فرضی خودکش بدبخت کی تصویریں بھی شائع کردیں لیکن بعد میں دوسرے ٹولے نے ذمہ داری قبول کرکے پہلے والے ٹولے کو خاموش کرایا جس سے اندازہ ہوا تھا کہ دھماکہ ان میں سے کسی بھی ٹولے نے نہیں کرایا تھا اور اب بھی صورت حال یہی ہے، ان ٹولوں کو ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان زبردستی کروایا جاتا ہے اور اصل مجرم وہ ہیں جو ہمارے محافظ بنے بیٹھے ہیں۔

بیرونی مداخلت کے دعؤوں کی ہم تصدیق کرتے ہیں بےشک ایسا ہی ہے لیکن ایران اور حزب اللہ کی مداخلت ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ خود اپنے لوگوں کو نہیں ماریں گے، چنانچہ یہ مداخلت سعودی عرب کی ہے، نیٹو کی بھی ہوسکتی ہے اور امریکہ اور بھارت کی بھی جو سرحد پار افغانستان میں موجود ہیں یا پھر اسرائیل کی مداخلت بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بارہا ثابت ہوچکا ہے کہ پاکستان کے دہشت گرد ٹولے بھارت اور اسرائیل اور سعودی عرب کی فنڈنگ پر ملک میں دہشت گردی کررہے ہیں۔

کرنل عمر ایک علامت [symbol] ہے ان غدار افسران کا جو کسی بھی بیرونی قوت کے ساتھ مل کر ملک بھر میں سبوتاژ کی کاروائیاں کررہے ہیں اور اس کے بڑے بزرگ یقینا ایوانوں میں یا پھر بڑے ہیڈکوارٹرز میں بیٹھے ہیں اور یہ بیرونی مداخلت کی ایک اور مثال ہے لیکن یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاراچنار پاکستان کے شمال مغربی کونے میں ایک محدود اور دور افتادہ علاقہ ہے جہاں تک بیرونی قوتیں صرف پاکستانی فورسز اور ایجنسیوں کی مرضی سے پہنچ سکتی ہیں اور اس کی مثال بھی وہ غیر ملکی ہیں جو ان ہی ایجنسیوں کے ذریعے گذشتہ تیس برسوں سے کرم ایجنسی سے گذر کر افغانستان میں مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں!

شام میں کچھ نوجوان گئے ہونگے حرم کا دفاع کرنے کے لئے، جبکہ اسی وقت ہزاروں پاکستانی شام میں دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہیں، یمن میں ہزاروں پاکستانی سرکاری جہازوں میں پہنچائے جاچکے ہیں، پاکستان میں دفاع حرمین کمیٹی تشکیل پائی ہے اور ملک بھر کے جرائم پیشہ دہشت گرد ٹولے اس کمیٹی کے پرچم تلے اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں کے سائے میں اکٹھے ہوتے ہیں جبکہ حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور اگر خطرہ ہوا تو شیعیان حیدرکرار سب سے پہلی صف میں کھڑے ہوکر ان کا دفاع کریں گے کیونکہ وہابی تو حرمین کو نابود کرنے کے سپنے دیکھ رہے ہیں جبکہ شیعہ حرمین کے حامی اور محافظ ہیں اور جو حقیقی سنی ہیں وہ بھی اس سلسلے میں شیعوں کے ہم خیال ہیں۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ حرمین شریفین کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اس کے لئے گریبان چاک کئے جاتے ہیں جبکہ آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطرات لاحق ہیں اور اس سے قبل سامرا میں امامین عسکریین کے حرم شریف کو بموں سے اڑایا جاچکا ہے، امام علی علیہ السلام کے حرم پر حملے ہوچکے ہیں، کربلا میں حرم امام حسین علیہ السلام پر حملے ہوچکے ہیں، شام میں بنت زہرا اور نواسی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے حرم پر حملے ہوچکے ہیں اور کئی حرم منہدم کئے جا چکے ہیں کئی صحابہ کرام کے مزارات کو منہدم کیا جاچکا ہے، انبیاء علیہم السلام کے مزاروں کو بھی نہیں بخشا گیا ہے اور ان کے انہدام میں پاکستان سے بھجوائے جانے والے ہزاروں دہشت گرد بھی شامل ہیں تو اگر کوئی ان کے دفاع کے لئے چلا جائے تو وہ کیوں برا ہوگا؟ جبکہ ان میں سے کسی نے ابھی تک پاکستان کے خلاف نہ کوئی اقدام کیا ہے اور نہ ہی کسی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بلکہ پاکستان پر دہشت گردی کی یلغار روک رہے ہیں کیونکہ پاکستان کے ایوان نشین اور ہیڈکوارٹر نشین جانتے ہیں کہ شام اور عراق میں داعش اور النصرہ فرنٹ سمیت دہشت گرد ٹولوں کی کامیابی ان کے محلات کے شیشوں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے اور وہاں اگر وہ کامیاب ہونگے تو ان کے حضرات کے چین کے دن بھی اختتام پذیر ہونگے۔ چنانچہ جو شیعہ بیرون ملک اسلامی مقدسات کے لئے دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ در حقیقت پاکستانی ایوان ہائے اقتدار کے بھی محافظ ہیں صرف سمجھنے کی دیر ہے۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک نہیں ہے جو امریکہ کے بالمقابل ایک غیر اعلانیہ جنگ میں مصروف ہے فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے ملک ذرا زیادہ ہوشیار ہیں اور وہ اس طرح کی نیابتی جنگ [proxy war] بیرون ملک لڑتے ہیں اور پاکستان یہ جنگ اپنی سرزمین پر لڑ رہا ہے لیکن عجب یہ ہے کہ وہ اس جنگ میں شیعوں کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے؟ کیا شیعہ امریکہ یا نیٹو سے ملے ہوئے ہیں؟ کیا پاکستان کے دفاع کے حوالے سے شیعوں سے زیادہ قابل اعتماد اور بہادر و شجاع کوئی ہے؟ کیا دنیا بھر میں امریکی استکبار و استعمار کے خلاف عالمی سطح پر جنگ شیعوں نے شروع نہیں کی؟ کیا بیرونی ممالک کے ساتھ ابوت و بنوت کے رشتے ثابت ہونے کے بعد بھی دہشت گرد شیعوں سے زیادہ قابل اعتماد ہیں اور وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑیں گے؟ کیا پاکستان کو معلوم نہیں ہے کہ دہشت گرد ٹولوں کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل ہے؟ تو پھر شیعوں کو پاکستان کی سالمیت کے لئے لڑی جانے والی کسی بھی جنگ میں محرم راز بنانے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے ان کا خون کیوں گرایا جارہا ہے؟ کیا اسرائیل پاکستان کا دشمن نہیں ہے؟ کیا اسرائیل کے بھارت کے ساتھ تعلقات ڈھکے چھپے ہیں یا پھر سعودیوں کے ساتھ بھارت کے اچھے تعلقات آڑے آرہے ہیں اور بھارت کے تربیت یافتگان کو اسی بنا پر گود لیا گیا ہے؟ کیا ملکی مفاد اسی میں ہے؟ اگر ملکی مفاد کو چھوڑ کر سعودی مفاد کے لئے اپنے داخلی امن اور سرحدوں کے تحفظ کو ترک کردیا جائے تو کیا یہ غداری نہیں ہے؟ کیا اسرائیل، امریکہ اور بھارت ان ہی دہشت گردوں کی مدد سے پاکستان میں بدامنی نہیں پھیلا رہے ہیں؟ کیا وہ پاکستان کی سرحدوں پر آکر نہیں بیٹھے ہیں؟ تو ایسے میں اگر کوئی پاکستان کے محب وطن شہریوں کو مارے یا ان پر الزامات لگائے اور انہیں تنگ کرے تو کیا یہ ملک کے ساتھ غداری نہیں ہے؟ کیا اگر ایوان نشین یا چھاؤنی نشین غداری کرے تو وہ غداری کے زمرے میں نہیں آئے گی؟ ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ورنہ دیر ہوجائے گی اور آنے والا کل بھیانک ہوگا۔

ہم سب سمجھتے ہیں کہ یہ دھماکے اور یہ خودکش حملے کسی مذہب کا تقاضا نہیں ہیں بلکہ یہ گندی عالمی اور اندرونی سیاست کا تقاضا ہیں اور کچھ احمقوں کو جنت کی توقع دلا کر مروایا جاتا ہے تا کہ گندی سیاست اپنے مقصد تک پہنچ سکے؛ اور یہ گندا خونی کھیل کھیلنے والوں کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ 1987 سے جاری یہ کھیل نہ کامیاب ہوسکا ہے بلکہ پاکستان کے شیعہ اور پاراچنار کے عوام آج پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم ہیں اس کھیل کے اثرات سازشی سیاست کھیلنے والوں کی طرف پلٹا دینے کے لئے ہیں مگر ان کا انداز مدنی اور سوشل ہے سعودی پرستوں کی طرح بندوق پر مبنی نہیں ہے بلکہ رائج مدنی اور مہذب روشوں پر استوار ہے۔

ہم عرصہ دراز سے کہہ رہے ہیں کہ سعودی ـ اسرائیلی روابط طشت ازبام ہوچکے ہیں اور اب یہ روابط "امریکی اسلام" یا بظاہر عرب ـ اسلامی ـ امریکی اتحاد کی صورت میں نمایاں ہوچکے ہیں، سعودی اسرائیلی باقاعدہ تعلقات کا اعلان جلدی یا بدیر ہونے والا ہے، سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ تعلقات ہمارے سامنے ہیں اور یہ بھی ہم سب جانتے ہیں کہ سعودی حکمران جتنی اہمیت مودی کو دیتے ہیں اتنی نواز شریف کو نہیں دیتے جس کی ایک چھوٹی سی مثال امریکی اسلام کے قیام کے لئے ہونے والی نام نہاد "امریکہ عرب اسلامی سمٹ" میں دیکھنے میں آئی اور سب نے دیکھا کہ ہمارے سابق سپہ سالار کو ایک کیپٹن کے برابر جانا گیا اور ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ ایک پرائے جیسا سلوک روا رکھا گیا اور ہماری ریاست جس قدر کہ آل سعود کے لئے مخلص ہے اتنی کسی کے لئے مخلص نہیں ہے جو ایک المیہ ہے کیونکہ وہ اس ملک کو اپنے خاندانی اور قبائلی مفاد کے لئے صرف ایک اوزار کے طور پر استعمال کررہے ہیں جبکہ وہی خاندان جو پاکستان میں تقریبا تمام اداروں کا مالک بنا ہوا ہے، خود بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے قابو میں ہے اور یوں کہا جاسکتا ہے اسرائیل اور بھارت کے غلام اس وقت ہمارے ملک کے مالک بن چکے ہیں۔ المیہ در المیہ!

جاری ہے ۔۔۔

نوٹ: زیر نظر مضمون مصنف نے اپنے نقطہ نظر سے لکھا ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے، تو قلم اٹھائیں اور اپنے ہی الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس: tasnimnewsurdu@gmail.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں