مودی کے بیان کو انتہا پسندوں نے جوتی تلے روند دیا، بیان کے چند گھنٹے بعد ایک اور مسلمان قتل

خبر کا کوڈ: 1449484 خدمت: اسلامی بیداری
انتہا پسند ہندو

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے گاؤ رکھشک کے نام پر مسلمانوں کے قتل کی مذمت کے چند گھنٹے بعد ہی انتہا پسند ہندوؤں نے گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ایک اور بھارتی مسلمان کو تشدد کر کے قتل کر دیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں ایک گروہ نے اپنی کار میں گائے کا گوشت رکھنے کا الزام عائد کرکے علیم الدین نامی شخص پر بہیمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں زخمی اسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

بھرتی رپورٹ کے مطابق علیم الدین عرف اصغر انصاری اپنی کار میں کہیں جا رہے تھے کہ رام گڑھ ضلع کے گاؤں بجرتند میں ایک گروہ نے انہیں روکا اور بغیر کچھ پوچھے ان پر تشدد شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور علیم الدین کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس افسر آر کے ملک نے اس واقعے کو سوچا سمجھا قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حملہ آور گھات لگائے علیم الدین کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ علیم الدین گوشت کے کاروبار سے منسلک تھے اور جن لوگوں نے انہیں قتل کیا وہ بھی مبینہ طور پر علیم الدین کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا کہ علیم الدین کی گاڑی میں گائے کا گوشت موجود تھا یا نہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں گائے کے تحفظ کے نام پر ہونے والے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ملک میں کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بھارت میں ہندو مذہب کے ماننے والے زیادہ تر لوگ گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور متعدد بھارتی ریاستوں میں گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی بھی عائد ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے بھی ہندوستان کے اسی گاؤں جھارکھنڈ میں ایک گھر کے باہرمردہ گائے دیکھ کر انتہا پسند ہندوؤں نے ایک مسلمان عثمان انصاری اور اس کے خاندان پر بدترین تشدد کیا اور گھر بھی نذر آتش کر دیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں