رپورٹ/

اللہ کے دیئے ہوئے میں سے دیا کرو، تم نے کون سا اپنے پلے سے دینا ہوتا ہے

خبر کا کوڈ: 1448959 خدمت: اسلامی بیداری
صدقہ

یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ "جو کھا گئے وہ اڑا گئے، جو جوڑ گئے وہ چھوڑ گئے، جو دے گئے وہ لے گئے۔"

تسنیم نیوز ایجنسی: حدیث کے مطابق دنیا میں 4 اقسام کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ سخی، کریم، کنجوس اور لئیم۔

سخی وہ ہوتا ہے جو خود بھی کھاتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاتا ہے۔

کریم وہ ہوتا ہے جو خود نہیں کھاتا فقط دوسروں کو کھلاتا ہے۔

کنجوس وہ ہے جو صرف خود کھاتا ہے لیکن اوروں کو نہیں کھلاتا جبکہ لئیم ایسا شخص ہوتا ہے جو نہ تو خود کھاتا ہے اور نہ ہی اوروں کو کھلاتا ہے۔

اسلام میں کنجوسوں اور لئیموں کو سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح اللہ تعالی نے ان لوگوں کو پسند فرمایا ہے جو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔

اپنی لاریب کتاب میں خدائے بزرگ و برتر نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس کے مال میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔

یوں بھی اگر سوچا جائے تو جس مال کو ہم اپنا سمجھ کر اس پر حق جماتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑی محنت کر کے کمایا ہے یا اپنی عقلمندی سے کوئی بہت ہی عمدہ تجارتی معاملہ طے پا جانے کی وجہ سے حاصل کیا ہے، دراصل وہ سب کا سب اللہ ہی کی عطا ہے۔

اللہ ہی کی دی ہوئی عقل کا استعمال کیا، اللہ ہی کی دی ہوئی توانائی کو بروئےکار لائے۔

اسی لئے بڑے بوڑھے کہا کرتے ہیں کہ اللہ کے دیئے ہوئے میں سے دیا کرو، تم نے کون سا اپنے پلے سے دینا ہوتا ہے۔

اس زمرے میں بعض حضرات یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ بیشتر سوالی مستحق نہیں ہوتے یا پیشہ ور گداگر ہوتے ہیں یا ہمارے دیئے ہوئے پیسوں کو نشے یا ایسی ہی کسی ناجائز خواہش کی تکمیل میں صرف کرتے ہیں لہذا ہم کسی مانگنے والے کو پیسے نہیں دیتے۔

ایسے منتقی حضرات کی خدمت میں مودبانہ سوال عرض ہے کہ کیا وہ اللہ کی دی ہوئی تمام تر نعمتوں (جسم کے اعضا، دولت، توانائی، دماغ اور دیگر انعمات) کو فقط خدا کی خوشنودی کے لئے ہی استعمال کرتے ہیں؟

کیا آج تک انہوں نے اللہ تعالی کی دی ہوئی کسی نعمت کو اس کی نافرمانی کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا؟

اور اگر ہاں تو کیا اللہ نے ان سے وہ نعمت واپس لے لی؟

حاصل گفتگو یہ ہے کہ دیا کہ دیا کیجیئے، لوگوں کو دیا کیجیئے، اپنے سے کمتروں کے حالات سے باخبر رہ کر ان کو دیا کیجیئے۔

حضرت امام زین العابدین علی ابن الحسین علیہ السلام جب بھی کسی سوالی کو دیکھتے تو بہت خوش ہوتے اور بڑی خندہ پیشانی سے اس کی بھرپور مالی امداد کر کے فرماتے کہ یہ شخص میری آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔

اگر سمجھ لیا جائے تو امام علیہ السلام کے اس فرمان میں ہم سب کے لئے بہت بڑا سبق موجود ہے۔

قارئین کی خدمت میں مندرجہ بالا مضمون کو اس ایک سطر میں قید کر کے پیش کیا جاتا ہے کہ "جو کھا گئے وہ اڑا گئے، جو جوڑ گئے وہ چھوڑ گئے، جو دے گئے وہ لے گئے۔"

    تازہ ترین خبریں