ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان میں گرفتاری اور رہائی کی سنسنی خیز داستان

خبر کا کوڈ: 1450106 خدمت: پاکستان
ریمنڈ ڈیوس

ریمنڈ ڈیوس نے انکشاف کیا ہے کہ مجھے کوٹ لکھپت جیل سے رہا کرانے میں نوازشریف، زرداری، جنرل پاشا اور حسین حقانی نے مل کر مدد کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی نئی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات منظر عام آگئی ہیں۔

دھیان رہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں محمد فہیم اور فیضان حیدر کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں دن دیہاڑے دو پاکستانیوں کو قتل کرنے سے رہائی تک کی سنسنی خیز کہانی قارئین کی خدمت میں؛

مجھے رہا کرانے میں صدر زرادری، نوازشریف اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا ایک پیج پر تھے۔

میری رہائی کے لیے جان کیری نے لاہور میں نوازشریف سے ملاقات کی تھی۔

جان کیری کی نوازشریف سے ملاقات کے بعد میری رہائی کی راہ ہموار ہوئی۔

عدالت سے میری رہائی کے موقع پر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا عدالت میں خود موجود تھے۔

میری رہائی کے لیے 23کروڑ حکومت پاکستان نے خود ادا کیے تھے۔

امریکہ نے بعد میں یہ 23کروڑ حکومت پاکستان کو واپس کردیے تھے۔

مجھے آخری لمحے تک نہیں پتہ تھا کہ مجھے رہا کیا جارہا ہے۔

عدالت کے سامنے مجھے پنجرے میں بند کر کے لایا گیا۔

مجھے دیت کے تحت معاف کرنے پر خواتین ورثاء خوش نہیں تھیں۔

مجھے لگا کہ میری آزادی پیسے دے کر خریدی گئی تھی۔

مقتولین کو راضی کرنے میں آئی ایس آئی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

مقتولین کے ورثاء مجھے معاف کرنے میں راضی نہیں ہورہے تھے۔

دھمکیاں اور پیسے دے کر مقتولین کو راضی کیا گیا تھا۔

ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا عدالت میں بیٹھ کر امریکی سفیر کیمرون مینٹر کو ٹیکسٹ میسجز کرتے رہے۔

جنرل پاشا امریکی سفیر کو لمحہ بہ لمحہ عدالتی کارروائی سے مطلع کرتے رہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ بھی سیکرٹ ایجنسی کے کئی اہلکار میری رہائی کے وقت عدالت میں موجود تھے۔

مقتولین کے ورثاء میرے پنجرے کے سامنے بڑبڑاتے رہے۔

وہ اردو میں کیا بڑبڑا رہے تھے مجھے معلوم نہیں۔

امریکی سفارتکار پاکستان کی حدود سے جہاز نکلنے تک ڈرتے رہے۔

امریکی سفارتکاوں کو آخری لمحے تک خوف تھا کہ ہمیں روک نہ لیا جائے۔

امریکی سفیر کمیرون مینٹر نے جہاز سے وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے میری بات کرائی۔

کیمرون مینٹر نے مجھ سے کہا کہ میں ہیلری کے سامنے اچھے لفظوں میں اس کی تعریف کروں۔

مجھے دو پاکستانیوں کو قتل کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔

اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ میری وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بگڑے۔

جان کیری حسین حقانی کے ساتھ مجھے چھڑانے کے لیے پاکستان آیا تھا۔

جنرل پاشا اور امریکی سفیر کمیرون مینٹر نے بیٹھ کر میری رہائی کا پلان بنایا۔

میری رہائی کا پلان بنا کر آئی ایس آئی کو دیا گیا۔

آئی ایس آئی نے اس پلان پر عملدرآمد کروا کر مجھے رہا کرایا۔

جنرل پاشا پوری ایمانداری کے ساتھ مجھے رہا کرانے کی کوشش کرتے رہے۔

میری رہائی کے بعد جنرل پاشا کو سروس میں ایک سال کی توسیع ملی۔

میری رہائی سے ایک دن پہلے آئی ایس آئی کے ایجنٹس ورثاءکو کوٹ لکھپت جیل لائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری