یومِ انہدامِ جنت البقیع؛

8شوال: آل سعود کا اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبوراطہار پرظلم کا دن

خبر کا کوڈ: 1451194 خدمت: اسلامی بیداری
انہدام جنت البقیع

8 شوال 1345ھ عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود‎‎ نےخاندان رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم،اصحاب (رض) کی قبور پر رحم نہ کیا اور جنت البقیع کے تمام تر مزارات/روضوں کو منہدم کر دیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم: 1344ھ میں جب آل سعود نے مکہ و مدینہ کے گرد و نواح میں اپنا پورا تسلط جمایا تو مقدس مقامات، جنت البقیع،اصحاب رض اور اہلبیت اطہارؑمحمد و آل محمدؑ سے بغض کی وجہ سے خاندانِ رسالت کے آثار کو صفحۂ ہستی سے محو کر دینے کا عزم کیا اس سلسلے میں انہوں نے مدینہ کے علماء سے فتوے وغیرہ لئے تاکہ تخریب کی راہ ہموار ہو جائے۔ اور اہل حجاز کو جو کہ اسکام کے لئے تیار نہ تھے،انہیں بھی اپنے ساتھ ملایا جائے۔

اسی بناء پر نجد کےقاضی القضات،"سلیمان بن بلیہد" کو مدینہ روانہ کیا تاکہ وہ ان کے من پسند فتوےعلمائے مدینہ سے حاصل کرے۔ اس نے ان سوالات کو اس طرح توڑ موڑ کر پوچھا کہ ان کا جواب بھی وہابیوں کے نظریئے کے مطابق انہی سوالات میں موجود تھا۔ اس طرح مفتیوں کو یہ سمجھادیا گیا کہ ان سوالات کے وہی جوابات دیں جو خود سوالات کے اندر موجود ہیں ورنہ انہیں بھی مشرک قرار دے دیا جائے گا اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں انہیں قتل کر دیا جائے گا۔

سوالات اور جوابات مکہ سے شائع ہونے والے رسالہ (ام القریٰ ) ماہ شوال

١٣٤٤ھ میں منتشر ہوئے ۔ وہابی ١٥ ربیع الاول ١٣٤٣ھ کو حجاز پر قابض ہوئے اورآٹھویں شوال ١٣٤5 ھ بمطابق21اپریل 1925 عیسوی بدھ کے روز جنت البقیع میں ائمہ اطہار علیہم السلام کے مزاروں کی قبروں کو منہدم کر دیا۔

اس کے بعد شیعہ سنی تمام مسلمانوں میں ردّ عمل کی شدید لہڑ دوڑ گئی کیونکہ سب کو پتہ تھا کہ مدینہ کےعلماء سے فتویٰ حاصل کرنے کے بعد اگر چہ ڈرا دھمکا کر ہی کیوں نہ لیا گیا ہو،آئمہؑ کی قبروں کا انہدام اور عمارتوں کی تخریب شروع ہو جائے گی اورایسا ہی ہوا بھی مدینہ کے 15 علماء سے فتویٰ لینے اور اسے حجاز میں نشر کرنے کے بعد فوراً خاندان رسالتؑ کے آثار کو اسی سال آٹھویں شوال کومحو کرنا شروع کر دیا۔

اہل بیت علیہم السلام اور اصحاب نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آثاربطور کلی مٹا دیئے گئے،جنت البقیع میں ائمہ علیہم السلام کے روضوں کی گراں بہا اشیاء لوٹ لی گئیں اور جنت البقیع ایک کھنڈر اور ویرانے کی صورت اختیار کر گیا کہ جسے دیکھ کر انسان لرز جاتا ہے۔

 وہابی اور آل سعود اسی سال روضئہ رسول ص اور گنبد خضرا کو بھی منہدم کرکے زمیں بوس کرنا چاہتے تھے لیکن جب پوری دنیا میں مسلمانوں کا رد عمل دیکھا تو اپنے آقا بوڑھے استعمار برطانیہ کے مشورے سے اور اس ڈر سے کہ کہیں پورا عالم اسلام وہابیت اور آل سعود کو قادیانیوں کی طرح غیر مسلم نہ قرار دیں البتہ روضئہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو منہدم تو نہ کیا لیکن آج تک وہابیت اور آل سعود کے نمک خوار سپاہی روضہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف عقیدت اور زیارات کی خاطر آنے والے دنیا بھر کے سنی شیعہ زائر کو زیارات رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روکتےہیں، اور گنبد خضرا کو صاف کرنے کی بجائے اس پر گرد و غبار کی گہری تہہ جمع ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہابیت دل ہی دل میں آثار نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے باقی رہنے پر غصہ اتار رہی ہے۔

 سن 1926 میں بوڑھے استعمار برطانیہ کی مدد سے مقدس سرزمین مکہ و مدینہ پر ایک نجدی وہابی خاندان آل سعود نے قبضہ کرکے مقدس سرزمین مکہ ومدینہ کے صدیوں سے رائج نام حجاز مقدس کو اس ڈکٹیٹر خاندان کے نام آل سعود کی نسبت سے سعودی عرب رکھنے کے بعد مقامات مقدسہ کی تباہی شروع کردی، آل سعود نے صرف مقدس نام کی تبدیلی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مکہ میں جنت المعلی اور مدینہ میں جنت البقیع کے مقدس مقامات کو تاراج و شہید کرنے کے بعد اگلا اقدام روضہ رسول ص کو مسمار کرنا تھا (کیونکہ آل سعود کے تکفیری وہابی نظریے کے مطابق مقامات مقدسہ کی زیارات شرک و بدعت ہیں)، لیکن روضہ رسول ص کی مسماری کی خبر اس وقت کے اسلامی دنیا بالخصوص مصر سیریا عراق ایران اور برصیغر پاک و ہند کیونکہ اس وقت انڈیا پاکستان و بنگلہ دیش کا وجود نہیں تھا اور ساتھ ہی افغانستان کے مسلمانوں کے احتجاج اور آل سعود کے خلاف بغاوت کے خدشے پرآل سعود نے روضئہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مسماری کی منصوبہ ڈر کے مارے موخر کردیا لیکن آج تک آل سعود کے بانی ڈکٹیتڑز سے لیکر ان کے سرکاری مفتیوں کا یہ عقیدہ و فتوی بدستور موجود ہے کہ آل رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم بالخصوص روضہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مقدس مقامات کی تباہی جائز اور باعث ثواب ہے

اسی تکفیری و وبابی نظرئے سے دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیمں طالبان القاعدہ سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی اور حالیہ فتنہ داعش وجود میں آیا اور گزشتہ 90 برس میں ان تنظیموں کی نظریات کی جڑ اور ان کی معاونت آل سعود کر رہی ہے جس کی تازہ ترین شکل انہی نظریات کے حامل سعودی شہری کا مدینہ منورہ پر حملہ ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کہ مسلمان اس اقدام سے سخت غمگین رنجیدہ ہوگئے ہیں اور امت مسلمہ کے دل آج بھی مغموم اور ہر آنکھ اشکبارہیں،نجدی آل سعود سے اظہار براءت کرتے ہیں جبکہ آل سعود کے اس عمل نے دیگر ظالم حکمرانوں کی طرح ان کو بھی تا قیامت لانت کا مستحق بنا دیا ہے۔

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری