ظریف: فرانس میں منافقین کی موجودگی تہران اور پیرس کے درمیان روابط میں مبہم نقطہ

خبر کا کوڈ: 1451535 خدمت: ایران
ظریف

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ خطے سمیت یورپی ممالک منافقین )مجاہدین خلق( کی نہتے ایرانی عوام پر تشدد سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیرس میں منعقد ہونے والی منافقین کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں منافقین کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں تہران اور پیرس کے درمیان روابط پر سوالیہ نشان ہے۔

اہوں نے اپنی دو روزہ پیرس دورے کے اختتام اور اس شہر میں منافقین کی سالانہ نشست نیز اس گروہ کے زیر اثر رہنے والے بعض یورپی ممالک کے قومی اسمبلی ممبران کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق کو چیلنج کرنے اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو بلیک لیسٹ میں ڈالنے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس گروہ کا دہشتگردی سے بھرا ماضی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور خطے کی تمام حکومتیں اس گروہ کی اصلیت سے واقف ہیں۔

انہوں نے اس دہشتگرد گروہ کو فرانس میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا لائسنس ملنے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے فرانس حکام کے ساتھ بات چیت میں ہمیشہ کہا ہے کہ تہران اور پیرس کے درمیان تعلقات میں یہ ایک مبہم نقطہ ہے جبکہ پیرس نے ہمیشہ یہی بات کہی ہے کہ ہمارا اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظریف نے کہا کہ ایسے گروہ کی سرکاری پہچان جس سے ایرانی عوام بے انتہا نفرت کرتی ہو، جس کا ماضی دہشتگردانہ کارروائیوں سے بھرا پڑا ہو، جس نے مسلط کردہ جنگ میں صدام کی مدد کی ہو، نیز گذشتہ ماہ تہران پر ہونے والے دہشتگرد حملوں میں ہاتھ بٹایا ہو، یہ سب ان ممالک کے لئے عار ہے، ان کے دامن پر سیاہ دھبے کی مانند ہے جو اس گروہ کی مدد کرتے رہے ہیں۔

ظریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے کچھ ممالک ماضی کی طرح ایک بار پھر اس گروہ کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ہمیں دوران جنگ سے ہی اس بات کی خبر ہے کہ آل سعود اس گروہ کی مدد کرتے رہے ہیں اور گزشتہ برس انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ یہ کام علی الاعلان کریں گے۔

فرانسی صدر ایمونئل میکرون سے ملاقات کے تھوڑی دیر بعد ہی انٹرویو دیتے ہوئے محمد جواد ظریف نے کہا کہ یہ سب باتیں ایران دشمنوں کے ارادوں کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب ہونے کے لئے اس حد تک گر گئے ہیں کہ ان گروہوں کی مدد لینے پر اتر آئے ہیں جن سے ایرانی عوام نفرت کرتی ہے اور ان کے اس اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا سوائے اس کے کہ ان کے لئے ایرانی عوام کی نفرت میں مزید اضافہ ہو۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری