امریکہ نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے کشمیری رہنما کو دہشتگرد قرار دیا ہے، سرتاج عزیز

خبر کا کوڈ: 1453192 خدمت: پاکستان
سرتاج عزیز

پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر کا کہنا ہے کہ بھارت نے چین کا گھیراؤ کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی خدمات پیش کی ہیں جو اس کی خطے میں تنہا ہونے کی دلیل ہے جبکہ امریکہ نے بھی بھارت کو خوش کرنے کے لیے کشمیری رہنما کو دہشتگرد قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سرتاج عزیز نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کا موقف تھا کہ مسئلہ کشمیر ختم ہوچکا ہے مگر کشمیری عوام نے مقامی جدو جہد کے ذریعے بھارت کا پورا بیانیہ ہی بدل دیا ہے، کشمیریوں کو دن بدن عالمی برادری کی تائید و حمایت حاصل ہو رہی ہے جس کے باعث کشمیر کی تحریک آزادی بہت ہی اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

کشمیر جرنلسٹ فورم کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے مزید کہا کہ ’مسئلہ کشمیر کو متاثر کیے بغیر اور پاکستان کے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کیے بغیر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق بااختیار حکومتوں کے قیام کے لیے کام ہو رہا ہے، سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں اور جلد ہی انہیں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارت نے چین کا گھیراؤ کرنے کے لیے امریکا کو اپنی خدمات پیش کی ہیں، یہ اس کی خطے میں تنہا ہونے کی دلیل ہے، کشمیر رہنما سید صلاح الدین کو امریکا نے اسی تناظر میں بھارت کو خوش کرنے کے لیے دہشت گرد قرار دیا ہے، یہ اقوام متحدہ کا فیصلہ نہیں ہے اس لیے اس کی پابندی ہم پر لازم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں جہاں بھی عوام اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ان کی تحریک کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکا، یہ کشمیری عوام کی تحریک ہے، پاکستان صرف کشمیری عوام کی اس تحریک کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کر رہا ہے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ مختلف سرویز میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بڑی اکثریت بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، اس کے برعکس آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 99 فیصد لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی پرامن ہمسائیگی کے وژن کے مطابق تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے، ہم تمام تر مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنا چاہتے ہیں تاہم بھارت کے ساتھ کشمیر کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے، ہم چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری