تہران؛ دنیا کے سب سے بڑے "باغِ کتاب" کے بارے میں 12+1 دلچسپ نکات + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1454176 خدمت: ایران
باغ کتاب

دنیا کے سب سے بڑے کتابوں کے باغ کا افتتاح ہو گیا ہے۔ ایران کے سب سے بڑے ثقافتی اور تمدنی مرکز کی حیثیت سے اس باغ کے بارے میں 13 دلچسپ نکات پڑھئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ثقافتی اور تمدنی کیمپس کی حیثیت سے تہران میں واقع باغِ کتاب کے دروازے عام عوام کے لئے کھول دئے گئے ہیں تاکہ کتاب خوانی کی ثقافت میں ایک نیا باب اور دارالحکومت میں کتاب خوانی کی تہذیب کو جلا بخشی جا سکے؛ وہ باغِ کتاب جس کا رقبہ دنیا کی تین سب سے بڑی بک ایجنسیوں کے برابر ہے۔

1۔ تہران باغِ کتاب عباس آباد کے شمال میں حقانی شاہراہ کے نزدیک 70 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔

2۔ بچوں اور بڑوں کیلئے الگ الگ حصوں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا بک اسٹال تہران باغِ کتاب کی نچلی منزل پر واقع ہے جس میں 4000 عنوانات پر کتابیں دستیاب ہیں۔

3۔ 12 ہزار مربع میٹر پر مشتمل بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کے لئے عظیم علمی بہشت ہے جہاں بچوں اور نوجوانوں کے لئے علمی اور تربیتی گیمز کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

4۔ اپنے فن اور ہنر کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے یہاں 1700 مربع میٹر پر محیط ایک بہترین گیلری بھی مرتب کی گئی ہے۔

5۔ یہ سب کچھ سر سبز فضا اور بہترین آب و ہوا کے حامل علاقے عباس آباد میں واقع باغِ کتاب واقع ہیں جہاں آنے والے افراد دلچسپ اور حسین مناظر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

6۔ تہران باغِ کتاب کی ساخت کتابوں کی نمائش گاہ کے عنوان سے 2004شروع ہوئی تھی جسے تہران کی حالیہ میونسپلٹی کے دور میں مزید توسیع دیتے ہوئے موجودہ شکل دی گئی ہے۔

7۔ تہران باغِ کتاب، فرہنگستان زبان و فارسی ادب، کتابخانہ ملی ایران اور دفاع مقدس میوزیم کے نزدیک واقع ہے جس کے سبب یہ جگہ ایک عظیم تہذیبی اور ثقافتی آثار کے مجموعے میں تبدیل ہو گئی ہے۔

8۔ سر سبز جغرافئے کے ساتھ ساتھ اس باغ کے صحن میں بھی 25 ہزار مربع میٹر پر محیط سر سبز و شاداب پارک کا بندوبست کیا گیا ہے۔

9۔ یہاں کا ایک امتیازی پہلو اس باغ کتاب میں موجود روبوٹ کلب ہے جس کا استعمال کرکے یہاں کے ممبران مصنوعی ذہانت کے دوروں میں بھی شرکت کر سکتے ہیں اور اپنی اطلاعات کو دنیا بھر میں شئیر کر سکتے ہیں۔

10۔ باغ کتاب کو چار اصل بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بلاک-اے میں موضوعی کتابوں کے مستقل اسٹالز ہیں، بلاک-بی ثقافتی اشیاء پر مشتمل ہے اس میں صدر دروازہ  اور دالان نیز انبار موجود ہے، بلاک-سی میں ایمفی تھیٹر اور ثقافتی آثار کی نمائش گاہ اور اسٹالز ہیں، بلاک-ڈی میں خصوصی نمائش گاہ اور بچوں کے ہال وغیرہ تعمیر کئے گئے ہیں۔

11۔ باغِ کتاب میں چار اصل بلاکس کے علاوہ نمازخانہ، ریسٹورنٹ اور حوض وغیرہ بنائے گئے ہیں۔

12۔ عصر حاضر میں دنیا کے سب سے بڑے کتاب گھر اور بک اسٹالز نیویارک کے بارنر اور نوبل ہیں جو 14300 مربع میٹر پر محیط ہیں۔ اس کے بعد پورٹ لینڈ میں پاویل جس کا رقبہ 6300 مربع میٹر ہے اور اس کے بعد نیویارک میں واقع اسٹرینڈ کتابخانہ ہے جو 5 ہزار مربع میٹر پر محیط ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ 25 ہزار مربع میٹر میں پھیلا تہران باغِ کتاب دنیا کی پہلی، دوسری اور تیسری بک ایجنسیوں کی مجموعی مساحت کے برابر ہے۔ دوسری عبارت میں اگر کہا جائے تو تہران باغِ کتاب دنیا کی سب سے بڑی تین بک ایجنسیوں کے برابر ہے۔

13۔ تہران باغِ کتاب صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک کھلا رہتا ہے۔ شائقین حضرات میٹرو کے ذریعے حقانی اسٹیشن پر اتر کر باغ کتاب کی جانب جانے والی سیڑھیوں سے ہوکر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری