تحریر: آر اے سید

میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام

خبر کا کوڈ: 1454459 خدمت: مقالات
آیلان کردی میانمار

خادم حرمین شریفین کہنے والے چالیس سے زیاده ملکوں کا اتحاد بنا کر ایران کو تو دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن میانمار کے مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر تک ان کے زبان پر نہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: برما یا میانمار میں آج مسلمانوں پر جو بیت رہی ہے اس کا موازنہ کسی بھی مسلمان اقلیت سے نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کی نسل کشی، مسلمان عورتوں سے اجتماعی و انفرادی زیادتیاں، مسلمان بچوں کا بہیمانہ قتل عام جبری انخلا اور اس طرح کے ان گنت مظالم ہیں جو میانمار کے مظلوم و بے آسرا مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے ہیں۔

آج کی اس دنیا میں جہاں جانوروں حتی پودوں اور ماحولیات کے حوالے سے بے شمار حقوق موجود ہیں لیکن برما کے مسلمانوں کا نہ کوئی حق ہے نہ کوئی ان کا پرساں حال ہے۔

آج انسانی حقوق کے علمدار تو ماضی کی طرح بڑی طاقتوں کےاشاروں کے محتاج ہیں لیکن امت مسلمہ نے کیوں چپ سادھی ہوئی ہے۔

خادم حرمین شریفین کہنے والے چالیس سے زیاده ملکوں کا اتحاد بنا کر ایران کو تو دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن میانمار کے مسلمانوں  کی مظلومیت کا ذکر تک ان کے زبان پر نہیں۔

اقوام متحده چاہے کتنی ہی جانبدار کیوں نہ ہو اور او آئی سی، خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ جیسے مسلمان ادراوں سے تو بہرحال بہتر ہے کہ وقتا فوقتا میانمار کے مسلمانوں کے لیے ہلکی پھلکی آواز اٹھاتی رہتی ہے۔

میانمار کے مسلمانوں کی صورت حال اس قدر خراب ہے کہ اقوام متحده نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے اور میانمار  سے ان کے مکمل انخلاء پر خبردار کیا ہے اقوام متحده میں میانمار کے موضوع پر خصوصی نمائندے بانگ پی نی نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کے بارے  میں سنجیده تحقیقات انجام پانی چاہئے۔ اقوام متحده کے اس نمائندے کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میانمار کی حکومت تمام مسلمانوں کو اس ملک سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

اقوام متحده کے نمائندے کے اس بیان سے بخوبی اندازه ہوتا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اس تصور سے کہیں بالاتر ہیں جو عالمی برادری میں پائے جاتے ہیں۔

میانمار کے مہاجر مسلمانوں کی عورتوں سے حکومتی کارندے اجتماعی زیادتی کرتے ہیں، بچوں کے سر کاٹتے ہیں، بچوں کو آگ میں جلاتے ہیں۔ یہ وه چند مثالیں ہیں جن کا آغاز گذشتہ اکتوبر میں راجنن صوبے میں ہوا اور اس کی شدت کا اندازه اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کے ہزاروں مسلمان نہایت تیزی سے ان علاقوں سے فرار کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اقوام متحده نے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم سے خبردار کیا ہے اور ان مظالم کو انسانیت کے خلاف جرم سے تعبیر کیا ہے۔

اقوام متحده کے انسانی حقوق کے ادارے نے کچھ عرصہ پہلے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں روہنگیا مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم ، ان کو میانمار سے نکال باہر کرنے اور ان کی نسل کشی سے متعلق حقائق درج تھے۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد یورپی یونین نے حقائق جاننے کے لیے اقوام متحده کے خصوصی گروپ کو بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مسلمانوں کے خلاف میانمار حکومت  کے مظالم کی باقاعده رپورٹ منظر عام پر لائی جا سکے۔ اقوام متحده کی انسانی حقوق کونسل نے یورپی یونین کی اس اپیل کو منظور کرتے ہوئے بالاخر ایک تحقیقاتی ٹیم میانمار روانہ کی میانمار کی حکومت نے اقوام متحده کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی مخالفت کی اور اسے ناقابل قبول قرار دیا تاہم انسانی حقوق کونسل نے بغیر کسی رائے شماری کے قرارداد منظور کی جس میں میانمار کے مسلمانوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

میانمار کی حکومت اور فوج کی طرف سے جاری مظالم کیوجہ سے تقریبا 75000 روہنگیا مسلمان بنگلادیش فرار کر چکے ہیں۔ اقوام متحده نے ہزاروں افراد کے ملک سے فرار ہونے  کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ میانمار حکومت کے ہاتھوں سینکڑوں مسلمان ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ ان اتمام جرائم اور اقوام متحده کی تصدیق کے  باوجود میانمار کی حکومت بڑی ڈھٹائی سے اپنے جرائم کو درست قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع کر رہی ہے۔

میانمار کی فوج کے کمانڈر کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف آپریشن روک دینے کا اعلان ایک فریب اور رائے عامه اور اقوام متحده کو گمراه کرنے کے علاوه کچھ نہیں۔ 

میانمار کی فوج کے کمانڈر "مین اونگ هلیانگ" نے دارالحکومت میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنی فوج کے مظالم جن میں عورتوں سے اجتماعی زیادتی، بچوں کا قتل عام اور  مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کرنے جیسے مظالم شامل ہیں، بڑی ڈھٹائی سے دفاع کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے که راخین کے یہ مسلمان میانمار کے شہری نہیں ہیں بلکہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مہاجر ہیں۔

میانمار کی فوج نے اقوام متحده کے فیکٹ فائنڈنگ گروپ کی راخین آمد کے فیصلے کے بعد اس طرح کا بیان دیا ہے کیونکہ اقوام متحده نے حقائق جاننے اور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے باقاعده ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

میانمار کے فوجی کمانڈر کے ان بیانات سے بخوبی اندازه لگایا جا سکتا ہے کہ وه روہنگیا مسلمانوں کو بدستور مظالم کا نشانہ بنانے کا اراده رکھتے ہیں۔

میانمار کی حکومت اس ملک کی قدیمی آبادی کو ملک بدر کرنے کے درپے ہے وه انہیں مجبور کر رہی ہے کہ یا تو میانمار میں ہر طرح کے مظالم کو برداشت کریں یا بنگلہ دیش کی طرف کوچ کر جائیں۔

میانمار کے مسلمان اپنی زندگی بچانے اور نسل کشی سے بچنے کے لیے بنگلہ دیش کی طرف فرار کررہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے بھی یہ شرط ہے کہ وه سمندر سے بحفاظت عبور کر سکیں۔ میانمار کے ان مجبور و بے بس پناه گزینوں کو محفوظ پناه گاہوں تک پہچنے کے لیے سخت ترین راستوں سے گزرنا اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ روہنگیا کے مسلمان اقلیت کو کافی عرصے سے امتیازی رویوں کا سامنا ہے یہ افراد میانمار میں تیسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں بلکہ اب تو ان کو باقاعده شہری بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ دوسری طرف اگر وه بنگلہ دیش فرار کر جائیں تو انہیں وہاں غیر قانونی مہاجر قرار دیا جاتا ہے۔

نومبر 2016 میں ستره ہزار روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی اور اس وقت بھی یہ پناه گزین مہاجر کیمپوں میں زندگی کے انتہائی دشوار ایام  گزار رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی حکومت انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور میانمار کی حکومت واپس  آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت اس وقت جموں، سمبا اور ریاست جموں و کشمیر میں موجود ہے یہ ہندوستان کی سرحد کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے خلیج بنگال کے راستے یہاں پہنچے ہیں۔ جموں و کشمیر حکومت کے جاری کرده اعداد و شمار کے مطابق دس ہزار کے قریب روہنگیا مسلمان جموں و کشمیر میں موجود ہیں۔

ہندوستانی حکام کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کی یہ تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد اقوام متحده  کی زیرسرپرستی ہے لیکن ہندوستانی حکومت انہیں باقاعده پناه گزین قرار نہیں دیتی۔ دوسری طرف ہندوستاتی حکومت ان مسلمان مہاجرین کو کشمیر کی پرآشوب ریاست میں مرکزی حکومت کے لیے ایک خطره سمجھتی ہے۔

ہمسایہ ممالک میں موجود روہنگیا مسلمان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے حکومت ہندوستان نے ان کے شناختی کارڈ ختم کر دئے ہیں اور ہندوستانی حکام اور جموں کشمیر کے سیکورٹی اہلکار میانمار حکومت سے ان کی واپسی کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہندوستانی حکام  نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہندوستان روہنگیا مسلمانوں کو باقاعده پناه گزین تصور نہیں کرتا اور ایک غیر ملکی کی حیثیت سے ان کا ہندوستان میں قیام غیر قانونی ہے۔ ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ نے گذشتہ دنوں اخباری نمائندوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ میانمار حکومت روہنگیا کے مسلمانوں کی صورتحال پر قابو پائے اور ایسے اقدامات سے پرہیز کرے جس سے وه ہمسایہ ممالک کی طرف فرار کرنے پر مجبور ہوں۔ ہندوستان کے نائب وزیر خارجہ نے ایسی صورتحال میں یہ بیان دیا ہے کہ حکومت ہندوستان نے اعلان کیا ہے کہ وه دس ہزار روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کے بعد انہیں ریاست جموں و کشمیر سے نکالنے کا پروگرام رکھتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان پناه گزینوں کو ہندوستان سے جبرا نکالنے پر خبردار کیا ہے۔ آواره وطنی، نسل کشی اور تشدد روہنگیا مسلمانوں کا مقدر بن چکا ہے اقوام متحده کی طرف سے حقائق جاننے کے لیے بھیجی جانے والی ٹیم کے میانمار آنے سے حکومت میانمار پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ  جائیگا۔ لہذا میانمار کی حکومت بھی عالمی برادری اور رائے عامہ کو گمراه کرنے لیے نئے نئے حربے بروئے کار لائے گی۔

اقوام متحده کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی تجویز کے مطابق بنگلہ دیش میں موجود پناه گزینوں کو بنگلہ دیش واپس لانے کے لیے راه ہموار کی جائے لیکن میانمار حکومت اس تجویز کو دھوکہ دہی سے ٹالنا چاہتی ہے۔ میانمار حکومت کو اس بات کا احساس ہے کہ بنگلہ دیش میں موجود روہنگیا پناه گزین میانمار کی فوج کے ڈر سے کبھی واپس نہیں آئیں گے لہذا وه اس طرح کا موقف رکھتی ہے کہ پناه گزین بھی واپس نہ آئیں اور اقوام متحده اور عالمی برادری بھی ان پر زیاده دباؤ نہ ڈال سکے۔

اقوام متحده کی اس تجویز پر اسی صورت میں عمل درآمد ہو سکتا ہے کہ وه بنگلادیش میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی میانمار واپسی کو یقنی بنائے اور پناه گزینوں کے ممکنہ خطرات اور تحفظات کو دور کرے اور اس سارے عمل کی اس طرح نگرانی کرے کہ میانمار حکومت ان پناه گزینوں کے خلاف ماضی جیسے اقدامات نہ دہرائے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقوام متحده کی کم از کم دو سالہ مکمل نظارت اور نگرانی کی ضرورت ہے جسے میانمار کی حکومت تسلیم کرتی نظر نہیں آرہی ہے۔

اس ساری صورت حال میں امت مسلمہ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ کیا ہمارے مسلمان حکمرانوں کو اس حدیث کا علم نہیں جس میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو مسلمان ایسی حالت میں صبح کا آغاز کرتا ہے کہ اسے اپنے مسلمان بھائی کے امور کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے تو وه ہم میں سے نہیں ہے۔ (یعنی مسلمان نہیں)

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری