روس اور ایران کا اثر و رسوخ بڑھنے کے باعث عرب ریاستوں کا کردار ختم ہوتا جا رہا ہے + ویڈیو


پاکستان کے معروف تجزیہ کار کا اس بیان کیساتھ کہ امریکہ صرف اور صرف اپنا گولہ بارود بیچنے کے لئے ریاض آیا تھا، کہنا ہے کہ امریکہ داعش کی حمایت کرتے ہوئے خطے کو فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی طرف لے جارہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ دنیا پر قابض طاقتیں چاہتی ہیں کہ یک قطبی نظام چلتا رہے، اور ان کی بادشاہتیں قائم رہیں، اور کوئی دوسری طاقت ابھر کر سامنے نہ آسکے۔ یہ عالمی استعماری طاقتیں مختلف خطوں کے اندر اپنی بالادستی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے پاکستانی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کا مشرق وسطیٰ میں کھیل اس لئے بھی ہے کہ وہ اس خطے کے وسائل پر بھی قابض ہو سکیں۔ جس طرح امریکہ نے کابل میں اپنی افواج کو بٹھایا، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں قطر کے اندر امریکہ کے ایک بہت بڑا اڈہ ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ دراصل وسائل کی جنگ ہے۔ روس اور ایران کا اثر و رسوخ بڑھنے کے باعث عرب ریاستوں کا کردار ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطے کو فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی جانب لے جایا جا رہا ہے جس کے لئے مغرب اور امریکہ داعش کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

قطر اور سعودیہ کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کے سلسلے میں ایران، ترکی، پاکستان اور دیگر ممالک کو او آئی سی کے پلیٹ فارم پر بات کرنی چاہیے۔ چونکہ امریکہ بہادر صرف اور صرف اپنا گولہ بارود بیچنے کے لئے ریاض آیا تھا، مودی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکہ نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دیکر انڈیا کو بھی اسلحہ بیچا ہے۔