شام میں امن زون کا قیام اور عرب لیگ پریشان

خبر کا کوڈ: 1457407 خدمت: دنیا
ابو الغیط

عرب لیگ کے سربراہ کا ماننا ہے کہ شام میں امن زون کا قیام خطے میں اہم کردار ادا کرنے والے روس، ایران اور ترکی کے اثر و رسوخ میں اضافے کا سبب بنے گا اس لئے بہتر ہے کہ عرب سربراہ شام بحران کو حل کرنے کے لئے پیشقدمی کریں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عرب لیگ کے سربراہ احمد ابو الغیط نے شام بحران کے حل کے لئے عرب ممالک کے سربراہوں کو فیصلہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شام کے بعض علاقے مستقل طور پر امن زون قرار دئے جائیں اور اس زون کے ذمہ دار ممالک یعنی ایران، روس اور ترکی کے اثر و رسوخ کا مرکز بن جائیں۔

اس عرب عہدیدار نے کہا کہ عرب لیگ کو اس سلسلے میں خدشات ہیں اور یہ بات فطری ہے کہ شام میں جوعلاقے امن زون قرار دئے جا رہے ہیں ممکن ہے وہ ہمیشہ کیلئے پرامن ہوجائیں اور شام سے جدائی کا سبب بن جائیں اور قیام امن کے ذمہ دار ممالک روس، ایران اور ترکی کے اثر و رسوخ کی آماجگاہ بن جائیں۔

احمد ابو الغیط نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب سربراہوں کا ماننا ہے کہ عرب ممالک سے مربوط مسائل عرب لیگ کی بیٹھک میں ہی حل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے سامنے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ روس شام کے اتحاد اور اس کی سالمیت کے لئے بھرپور کوشش کرے گا۔

انہوں نے یمن کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم بشمول یمن تمام عرب ممالک کی وحدت اور اتحاد پر زور دیتے ہیں جبکہ جنوبی یمن میں تشکیل پانے والی سیاسی کونسل کو منظوری نہیں دیتے۔ اسی طرح ہم غزہ پٹی اور مغربی ساحل میں دو الگ الگ فلسطینی حکوت کے قیام کے بھی مخالف ہیں حتیٰ کہ ہم عراق کے کردستان میں ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے بھی ہریشان ہیں جو عراق کی تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنڈم عراق کے علاوہ اس کے ہمسایہ ممالک جیسے ایران، ترکی اور شام کے لئے بھی - جہاں کرد اقلیتیں ہیں - مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری