امریکہ کی پالیسی سامراجی، ایرانی حکومت کو گرانا چاہتا ہے/ چند سالوں کے دوران بائیس ممالک میں بمباری کر چکا ہے


معروف صحافی اور افغان امور کے ماہر نے اس بیان کیساتھ کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ مجموعی طور پر امریکہ کا رویہ پاکستان کے خلاف ہے، کہا: "امریکہ کی پالیسی سامراجی ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہر ملک میں اس کی مرضی کی حکومت آئے۔

معروف صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی نے تسنیم نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینیٹرز کا دہرا معیار قابل مذمت ہے، جب یہ پاکستان آتے ہیں تو پاکستان کی تعریف و تائید کرتے ہیں اور جب کابل اور نئی دہلی پہنچتے  ہیں تو وہاں کی متعلقہ حکومتوں کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔

سینیٹر جان میکین والے وفد کی پاکستان نے پذیرائی کی، انہیں وزیرستان کا دورہ کرایا گیا، اہم لوگوں نے ملاقاتیں کیں، اسلام آباد میں بیٹھ کر امریکی سینیٹرز نے پاکستان کے بارے میں مثبت باتیں کیں لیکن جب کابل پہنچے ہیں تو وہاں کی حکومت کی پسندیدہ باتیں کر رہے ہیں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ مجموعی طور پر امریکہ کا رویہ پاکستان کے خلاف ہے۔

امریکی سربراہ ٹرمپ بھی بھارت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین کا مقابلہ کیا جا سکے، اسی پالیسی کے تحت پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش ہورہی ہے، امریکی صرف اور صرف اپنے ہی مفادات کا خیال رکھتے ہیں، امریکہ میں حکومت کسی بھی جماعت کی ہو ان کی پہلی ترجیح امریکہ ہے، اور امریکہ کی پالیسی سامراجی پالیسی ہے، امریکہ ہر ملک میں مداخلت کرنا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہر ملک میں اس کی مرضی کی حکومت آئے، پچھلے چند سالوں میں امریکہ بائیس ممالک میں بمباری کر چکا ہے، اپنی مرضی کی پالیسی نافذ کرکے امریکی اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس وقت امریکی مفاد یہ ہے کہ چین کو گھیرے میں لایا جائے، بھارت سے کام لیتے ہوئے، روس کو کمزور کیا جائے، پاکستان کو غیرمستحکم کیا جائے، ایران کی حکومت کو ہٹایا جائے، یہ سب امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔ امریکہ سے تعلقات کو بڑھایا جائے لیکن ایسا نہ ہو کہ ہم امریکی کیمپ میں چلے جائیں۔ پاک افغان بارڈر کے علاقے میں آپریشن امریکی مفادات میں نہیں ہونا چاہیے، چونکہ امریکہ غیرجانبدار نہیں ہے، امریکہ کی یہ بات پاکستان کو نہیں ماننی چاہیے۔