تحریر: آر اے سید

غاصب صہیونی حکومت کے خلاف یونیسکو کی قرارداد

خبر کا کوڈ: 1457913 خدمت: مقالات
یونیسکو

عالمی میڈیا نے گزشته دنوں اقوام متحده کے ادارے یونیسکو کی جانب سے منظور شدہ غاصب صہیونی حکومت کے خلاف قرارداد کو سردخانے میں ڈال دیا جبکہ اس کو نمایاں کرنا نہایت ضروری ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: اقوام متحده کے ادارے یونیسکو نے گزشتہ دنوں صہیونی حکومت کے خلاف ایک قرارداد پاس کی ہے جس کا ایک پہلو تو تقافتی امور سے متعلق ہے لیکن بعض شقیں اسرائیل کی غاصبانه سرشت اور حقیقی ماہیت کو بیان کرتی نظر آتی ہیں۔

اس قرارداد میں یہودی آبادکاروں کے لئے نئے راستوں کی تعمیر اور الخلیل کے علاقے میں متنازعہ دیوار کی تعمیر کی مخالفت کی گئی اور اس طرح کی تمام تعمیرات کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یونیسکو کے اس بیان اور قرارداد میں فلسطینوں خاص کر بچوں اور اسکولی بچوں کے خلاف انتہا پسند اسرائیلوں کے منظم حملوں اور تشدد پسندانہ کاروائیوں کو روکنے کا  بھی مطالبہ  کیا گیا ہے۔

یونیسکو کی قرارداد میں غاصب اسرائیل کی طرف سے یونیسکو کی سابقہ قراردادوں اور بیانات پر عمل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس بیان میں فلسطین کے دو مقامات کو  یہودیوں کے قومی سرمائے میں شامل کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ یونیسکو نے حالیہ قرارداد میں ایک بار پھر صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یونیسکو کے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد کرے۔ اس مجوزه  قرارداد میں ان اقدامات کی طرف اشاره ہے جس میں اسرائیلوں نے یونیسکو کے اداروں کے ماہرین اور ان کے نمائندوں کے خلاف جو رویے  اپنائے تھے قرارداد میں کہا گیا تھا کہ مسجد الاقصی کے اردگرد شروع کیے گے 18 منصوبوں کو جتنا جلدی ممکن ہو روک دیا جائے۔

یونیسکو کی اس قرارداد کو اسرائیل کی طرف سے مختلف اعتراضات سے بچانے کے لیے طے پایا ہے کہ یونیسکو کے آئنده کے اجلاس میں مقبوضہ فلسطین  کے عنوان سے اس مسئلے کو پیش کیا جائے۔

اس قرارداد کے حق میں 24 جبکہ مخالف میں 6 ووٹ پڑے 6 ممالک نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔

اس مجوزه قرارداد کی منظوری کے حوالے سے یونیسکو کی سیکرٹری جنرل نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بیت المقدس کے تاریخی شہر کی ثقافتی، مذہبی اور تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ یونیسکو کی سیکرٹری جنرل کے بیان میں آیا ہے کہ جیساکہ میں نے مختلف مواقع بلکہ حال ہی میں یونیسکو کے آثار قدیمہ کے چالیسویں اجلاس میں اشاره کیا ہے که  بیت المقدس تین توحیدی ادیان یہودیت، مسیحیت اور اسلام کا مسکن ہے اور یہ غیر معمولی ثقافتی اور مذہبی تنوع اس بات کا باعث بنا کہ اسکو یونیسکو کے آثار قدیمہ میں شامل کیا جائے۔

یونیسکو کی سیکریڑی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ بیت المقدس کے آثار قدیمہ کو ہرگز تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور اس پر وہاں موجود تمام معاشروں کا حق ہے کہ وه اس شہر سے اپنے تعلق کو باقاعده حیثیت دیں۔ اس علاقے سے کسی بھی مذہبی چاہے وه یہودیت ہو، عیسائیت ہو یا اسلام ہو اس کے آثار کو ضائع کرنا اس میں موجود تمام آثار قدیمہ کو برباد کرنے کے مساوی ہے۔

یونیسکو کی سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ اس شہر کی نمایاں حیثیت اور یونیسکو میں اس کے رجسٹر ہونے کیوجہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس پر بات چیت کی جائے نہ کہ اس کی ملکیت کے لیے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجانا چاہیے۔

ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس مذہبی/ ثقافتی وحدت کی حفاظت کریں اور اگر چند افراد کے اختلافات اس شہر کی ثقافتی اور تاریخی حیثیت کو مجروع کرنا چاہتے ہیں تو اس سے پرہیز کیا جائے۔

یونیسکو کی ذمہ داری ہے کہ وه تحمل، برداشت اور بردبادی کے احساسات کی ترویج کرے اور یونیسکو کا اداره تاریخ کا احترام کرتا ہے اور یہ میرا اور یونیسکو کے تمام رکن ممالک کا متفقہ  موقف ہے اور ہمیں ہر طرح کی صورت حال میں اس پر کاربند رہنا ہے کیونکہ یہ ہمارے وجود کی بنیادی وجہ ہے ہم سب کا انسانیت سے تعلق ہے اور اس متنوع دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں تحمل و بردباری  کا مظاہره کرنا ہو گا۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ صہیونی اقدامات کے حوالے سے متعدد قرارداوں کی طرح اگر اس قرارداد کا بھی جائزه لیا جائے تو بہت سے ممالک یا تو اجلاس میں موجود نہیں تھے یا انہوں نے رائے شماری میں حصه نہیں لیا۔

اسپین، ارجنٹائن، کیمرون، ایسلوڈور، فرانس، گنا، یونان، گینیا، ہیٹی، ہندوستان، اٹلی، جاپان، کینیا، نیپال، پاراگوئیه سمیت اس طرح کے کئی ممالک آثار قدیمہ کے حوالے سے سیر و سیاحت کا مرکز ہیں اور اس صنعت سے انہیں بڑی مقدار میں درآمد بھی ہوتی ہے لیکن انہوں نے صہیونی جرائم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسپین جہاں کی عظیم الشان مساجد سیاحوں کی توجہ کا باعث ہیں اور اس سے یہ حکومت لاکھوں ڈالر کا منافع کماتی ہے وه بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہے۔

اسی طرح کی ایک قرارداد چھ ماه قبل فرانس کی سربراہی اور یورپی ممالک کی حمایت سے منظور کی گئی لیکن جس طرح گارڈین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیل نے یورپی ممالک کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے اور صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کو معمور کیا ہے کہ وه اقوام متحده کے نئے سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ فلسطین کے  دورے کی دعوت دیں۔ نیتن  یاہو نے سیکریٹری جنرل کو اقوام متحده کے سیکریٹری جنرل بننے پر مبارکباد دینے کے بہانے ٹیلی فون  کیا ہے اور اس ٹیلی فونی ملاقات میں یونیسکو کی اس قرارداد کو جس میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس اور مسجد الاقصی سے یہودیوں کا کسی قسم کا تعلق نہیں ہے، تنقید کا نشانہ بنایا۔

کہا جاتا ہے کہ اس سے پہلے یونیسکو نے قدس شہر کو صہیونی حکومت کے دارالحکومت کے طور پر اعلان کیا تھا جس کی فلسطین رہنماؤں نے سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اس وقت بہت سے فلسطینی رہنماؤں نے اس فیصلے کو عالمی قوانین کے منافی  اور صہیونی حکومت کی حمایت سے تعبیر کیا تھا۔

مثال کے طور پر پی ایل او نے اعلان کیا تھا کہ یونیسکو کا یہ اقدام اقوام متحده کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی ہے کیونکہ سیکورٹی کونسل نے مشرقی قدس کو مقبوضہ علاقہ قرار دیا تھا۔

بہرحال یونیسکو کی طرف سے اس قرارداد کی منظوری اس تنظیم کی سابقه غلطیوں کا ازالہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی برادری پر فلسطین پر قابض حکومت اور اس کے رہنماؤں کے حقیقی چہرے آشکار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری