قطر نے عرب ممالک سے اختلافات کی اصل وجہ بتا دی

خبر کا کوڈ: 1458614 خدمت: دنیا
محمد بن عبدالرحمان آل ثانی وزیر خارجه قطر

قطری وزیر خارج نے کہا ہے کہ ان کا ملک اخوان المسلمین کو دہشتگرد تنظیم نہیں مانتا اور الجزیرہ چینل کو بند کرنے کا بھی اس موضوع کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ اپنے ملک کے استقلال اور خودداری پر حملہ آور کسی بھی مسئلے پر گفتگو نہیں کرے گا۔

انہوں نے اپنے ملک کے محاصرے کو تحقیرآمیز اور معاندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خودمختار اور مستقل ملک کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کے خلاف کسی بھی شرط کو قبول نہیں کریں گے اور ایسی کسی بھی بات کو قبول نہیں کریں گے جس میں صرف قطر مسئلے کو اہمیت دی جائے اور دیگر مسائل شامل نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مصر کے برخلاف اخوان المسلمین کو دہشتگرد تنظیم نہیں مانتے جبکہ یہ تنظیم ہم پر پابندی لگانے والے ملک بحرین میں بھی سرگرم عمل ہے۔ حالانکہ قطر اس تنظیم کی مدد نہیں کرتا اور اس کا کوئی رکن بھی قطر میں موجود نہیں ہے۔ 

انہوں نے ان پابندیوں اور مشکل کا اصل سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق جب چھوٹے چھوٹے ملک بڑے کارنامے سر انجام دیتے ہیں تو بڑے ممالک ان سے زیادہ خوش نہیں رہتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سکت سے زیادہ کام انجام نہیں دیتے ہم کوشش کرتے ہیں کہ دنیا میں امن و امان ہو اور تمام مشکلات سفارتی سطح پر حل ہو جائیں۔

قطر نے عرب ممالک سے اختلافات کی اصل وجہ بتا دی

قطری وزیر خارج نے کہا ہے کہ ان کا ملک اخوان المسلمین کو دہشتگرد تنظیم نہیں مانتا اور الجزیرہ چینل کو بند کرنے کا بھی اس موضوع کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمن آل ثانی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ اپنے ملک کے استقلال اور خودداری پر حملہ آور کسی بھی مسئلے پر گفتگو نہیں کرے گا۔

انہوں نے اپنے ملک کے محاصرے کو تحقیرآمیز اور معاندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خودمختار اور مستقل ملک کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کے خلاف کسی بھی شرط کو قبول نہیں کریں گے اور ایسی کسی بھی بات کو قبول نہیں کریں گے جس میں صرف قطر مسئلے کو اہمیت دی جائے اور دیگر مسائل شامل نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم مصر کے برخلاف اخوان المسلمین کو دہشتگرد تنظیم نہیں مانتے جبکہ یہ تنظیم ہم پر پابندی لگانے والے ملک بحرین میں بھی سرگرم عمل ہے۔ حالانکہ قطر اس تنظیم کی مدد نہیں کرتا اور اس کا کوئی رکن بھی قطر میں موجود نہیں ہے۔ 

انہوں نے ان پابندیوں اور مشکل کا اصل سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق جب چھوٹے چھوٹے ملک بڑے کارنامے سر انجام دیتے ہیں تو بڑے ممالک ان سے زیادہ خوش نہیں رہتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سکت سے زیادہ کام انجام نہیں دیتے ہم کوشش کرتے ہیں کہ دنیا میں امن و امان ہو اور تمام مشکلات سفارتی سطح پر حل ہو جائیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری