عبدالستار ایدھی کی پہلی برسی + چند یادگار تصاویر

خبر کا کوڈ: 1458923 خدمت: پاکستان
ایدھی 4

محسن انسانیت، یتیموں کا سہارا، نفسہ نفسی کے اس دور میں انسانیت جگانے والے، دنیا کی سب سے بڑی ایمبولنس سروس کے بانی اور سماجی وفلاحی خدمات میں پاکستان کی شناخت دنیا بھر میں منوانے والے عظیم دلسوز انسان ڈاکٹر عبدالستار ایدھی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دنیا کی سب بڑی ایمبولینس سروس کے بانی اور فلاحی خدمات میں پاکستان کی شناخت دنیا بھر میں منوانے والے ڈاکٹر عبدالستار ایدھی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی طویل عرصے تک گردوں کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد گزشتہ برس 8 جولائی 2016 کو انتقال کرگئے تھے۔

عبدالستار ایدھی فقط انسان دوست ہی نہیں تھے بلکہ اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے تھے اس کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ علاج کی ہر ممکن آفرز کے باوجود انہوں نے پاکستان سے باہر علاج کرانا گوارا نہیں کیا۔8 جولائی دنیا بھر میں مسن انسانیت عبدالستار ایدھی کی برسی 'چیریٹی ڈے' کے نام سے  منائی جاتی ہے۔

ان کے انتقال سے جہاں ایدھی فاؤنڈیشن کے سرسے ان کے بے پناہ محبت کرنے والے بانی کا سایہ اٹھ گیا وہی دنیا بھی انسانیت کے ایک ایسے خادم سے محروم ہوگئی جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف تھا، ان کی وفات سارے پاکستان اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے کروڑوں مداحوں کو سوگوار کرگئی تھی۔

ان کا مشن ان کی موت کے بعد بھی جاری و ساری ہے وہ خود بھی جاتے جاتے اپنی آنکھیں عطیہ کرگئے تھے جنہوں ایس آئی یو ٹی میں مستحق مریضوں کو لگایا گیا۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انیس توپوں کی سلامی دی گئی، ان کی میت کو گن کیرج وہیکل کے ذریعے جنازہ گاہ لایا گیا۔

بلقیس ایدھی نے آج پہلی برسی کے موقع پر بتایا کہ کئی دہائیوں کی سخت محنت کے بعد عبدالستار ایدھی نے ایسا نظام تشکیل دیا جو بلا کسی وقفے کے فلاحی کام جاری رکھ سکے، ان کے ادارے کی کوششیں اب بھی اسی جوش و جذبے سے جاری ہے، جیسی اس کے بانی کے انتقال سے قبل تھیں۔ بلقیس ایدھی نے مکمل یقین سے کہا 'ان کا کام جاری رہے گا، ان کوششوں میں کوئی وقفہ نہیں آیا، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیں ہدایات دے رہے ہوں'۔

بلقیس ایدھی نے زور دیتے ہوئے بتایا کہ عبدالستار ایدھی کے انتقال نے شروع میں ادارے کو موصول ہونے والے عطیات پر معمولی اثر مرتب کیا تھا مگر عوام کے مخیرانہ تعاون سے اب عطیات کی سطح ماضی کی سطح پر آگئی ہے۔

ان کی اہلیہ نے مزیدبتایا کہ بقول 'وہ یہ کہنے کے عادی تھے انسان بنو، انسان بنو'۔جبکہ ہر قسم کے دباﺅ کے باوجود مرحوم ایدھی نے خود کو سیاست اور سیاست دانوں سے دور رکھا۔

بلقیس ایدھی بتاتی ہیں 'میرے شوہر کہتے تھے کہ اگر پاکستان کے مولوی، لیڈر، ڈاکٹر، وکیل اور پولیس سیدھی راہ پر آجائے تو یہ ایک فلاحی ریاست بن جائے گا'۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسٹیٹ بینک نے عبد الستار ایدھی کا یادگاری سکہ جاری کیا تھا،اسٹیٹ بینک کی جانب سے 50روپے مالیت کے عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب 50روپے مالیت کے 50 ہزار سکے جاری کیے گئے تھے،اسٹیٹ بینک کے مطابق یاد گاری سکوں کا سلسلہ 1976 کو شروع ہوا تھا۔ اب تک پاکستان میں 5 شخصیات کے یادگاری سکےجاری کئے گئےجبکہ بابائے قوم محمد علی جناح کے حوالے سے 3 یادگاری سکے جاری ہوچکے ہیں، اسٹیٹ بینک مختلف مواقعوں کے اب تک 27 سکے جاری کرچکا ہے۔

ایدھی صاحب کو 2006 میں کراچی کے معتبرو معروف تعلیمی ادارے آئی بی اے کی جانب سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دی گئی تھی،یہ اعزازی ڈگری ایدھی صاحب کی انسانیت کی خدمت اور رفاحی کاموں کے اعتراف کے طور پر دیے گئے۔

پاکستان میں بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ عبدالستار ایدھی نوبل امن انعام کے بھی حق دار تھے۔ اس بارے میں کراچی میں ذرائع ابلاغ کے ماہر پروفیسر نثار زبیری نے کچھ برس قبل عبدالستار ایدھی کو نوبل امن انعام دیے جانے کی تحریری سفارش بھی کی تھی اور اس کے لیے باقاعدہ ایک مہم بھی چلائی گئی تھی۔

آج عبد الستار ایدھی اپنے سفر آخرت کی جانب کوچ کر چکے لیکن رہتی دنیا تک اس سادہ منش انسان کی انسانوں سے لگاؤ اور محبت کی داستانیں سنائی جاتی رہیں گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری