پاکستان میں فرقہ واریت پھیلانے والے، "وصال اردو" کیخلاف پیمرا کا ایکشن، پابندی عائد کر دی

خبر کا کوڈ: 1459366 خدمت: اسلامی بیداری
وصال ٹی وی

پیمرا نے منصفانہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان میں شیعہ سنی فساد برپا کرنے والے سعودی چینل 'وصال اردو' کیخلاف نوٹس لیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کہ شہر جدہ سے چلنے والا یہ تکفیری چینل پاکستان کہ اندر خاموشی سے نفرتوں اور فرقہ واریت کا زہر گھول رہا تھا تاکہ وطن عزیز کی جڑوں جو کہ اتحاد و رواداری پر مبنی ھے اس کو کھوکھلا کرکے عالمی دہشتگرد تنظیم "داعش" کہ لیے زمین سازی کی جاسکے اور اسرائیلی، سعودی و انڈیا کے پاکستان دشمن ایجنڈے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

وفاقی ادارے پیمرا نے بر وقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی فنڈڈ فسادی و فرقہ وارانہ ٹی وی چینل "وصال اردو" کی نشریات کو دکھانے پر پابندی عائد کردی ہے اور کیبل آپریٹرز کو متنبہ کیا ہے کہ دجالی وصال اردو کی نشریات دکھانے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔

پیمرا کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تشدد کو ہوا دینے، نفرت پھیلانے کے جرم میں کیبل آپریٹرز کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ سعودی سیٹیلائٹ چینل وصال کی پاکستان میں اردو نشریات کو آن ائیر نہ کریں ایسی صورت میں دیگر کیبل آپریٹرز کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ وصال ٹی وی سعودی سیٹیلائٹ چینل ہے جس کی اردو نشریات پاکستان میں ائیر ہوتی ہیں جس میں مسلسل شیعہ مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈا پر مبنی نفرت انگیز ویڈیو نشر کی جاتی ہیں، اس کا بنیادی ہدف ملک خدادا پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر ملک کو عدم استحکام اور مشکلات سے دوچار کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: وصال ٹی وی کی تفرقہ آمیز نشریات اور پاک آرمی چیف، وزارت داخلہ، انٹیلیجنس اداروں اور پیمرا سے پر زور اپیل!

محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر عوام  نے بھر پور پاک آرمی چیف اور حساس اداروں سے پرزور اپیل کی تھی کہ وصال ٹی وی پر پابند ی لگائی جائے، جبکہ عوام نے کمپین کا بھی آغاز کیا تھا جس پر پیمرا کیجانب سے سخت کاروائی سامنے آئی اور وصال ٹی وی کو کالعدم قرار دے کر نشریات پر پابندی عائد کر دی۔
وصال ٹی وی پر پابندی پاکستانی اداروں کی جانب سے خوش آئند اقدام ہے اور اسی طرح کسی بھی قسم کے نفرت پھیلانے والے ذرائع ابلاغ کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری