اردوغان: عراق کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے

خبر کا کوڈ: 1459417 خدمت: دنیا
اردوغان

جی 20 اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے ایسی حالت میں عراق کی تقسیم کی سختی سے مخالفت کی ہے کہ ترک فوج عراق کے ساتھ ساتھ شام میں بھی فوجی مداخلت کرکے ان دونوں ممالک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی اپنی انتھک کوششیں کرچکی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جی 20 اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے سخت مقابلے کے باوجود بھی ہم دہشتگردانہ حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں کسی بھی خطے کا کوئی بھی ملک دہشتگردی سے محفوظ نہیں ہے اس لئے تمام ممالک کو مل کر دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی۔

اردوغان کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس ہم بہت سے دہشتگردانہ حملوں کے گواہ رہے ہیں جنہوں نے پوری دنیا کو خوفزدہ کر دیا، ہمیں دہشتگردی سے مقابلہ کرنا ہی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پ ک ک اور اس سے وابستہ دوسری تنظیموں کو یورپ سے مالی مدد حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہایت خطرناک امر ہے۔ ہمارے ملک میں خون کی ندیاں بہانے والوں کو بیرون ملک سے امداد حاصل ہوتی ہے۔ یورپ ان دہشتگردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے جو ہماری عوام کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے کردستان میں استقلال کے لئے ہونے والا ریفرنڈم ایک خطرناک اور دردناک قدم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ کرد اس طرح کے اقدامات سے باز رہیں گے۔ عراق کی وحدت ہمارے لئے بہت اہم ہے اور ہم عراق کی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

ترک صدر نے مزید کہا کہ ہماری سیاست دین اور تعصب پر مبنی نہیں ہے ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری سرحدوں کے لئے خطرہ بنے۔ ہم شمالی شام میں بھی کرد حکومت کی تشکیل نہیں ہونے دیں گے۔ خلیج فارس کی امن و سلامتی ہمارے امن و امان سے کم اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ خلیج فارس میں ہونے والے اختلافات سے کسی  ہمسایہ ملک کو فائدہ نہیں ملے گا۔ امید ہے کہ جلد از جلد یہ اختلافات حل ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ قطر پر لگائے گئے الزامات بیہودہ ہیں۔ اس پر لگائی گئی پابندیاں ٹھیک نہیں ہیں۔ ہمیں اس ملک کی خودمختاری اور حاکمیت کا احترام کرنا ہوگا۔  

واضح رہے کہ ترکی نے عراق گحران کے ابتداء سے ہی دہشتگردوں کی حمایت کرکے عراق کی تقسیم کیلئے زمین سازی کی تھی اور اسی پالیسی کی بنیاد پر شام کی تقسیم کا بھی خواہاں رہا ہے جس کی واضح مثال اس ملک کی جانب سے دونوں ممالک میں فوجی مداخلت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری