جے آئی ٹی رپورٹ "ردی" سے زیادہ کچھ نہیں، حکومت نے عمران نامہ قرار دے کر مسترد کردیا

خبر کا کوڈ: 1461359 خدمت: پاکستان
حکومت پاکستان

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں کوئی دلیل یا مستند مواد نہیں جب کہ رپورٹ کو عمران نامہ قرار دینا غلط نہیں ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ دھرنا نمبر 3 ہے اور ہم اس رپورٹ کو ردی قرار دے کر مسترد کرتے ہیں جب کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے جھوٹ کو عدالت میں بے نقاب کریں گے، اچھا ہوتا وزیراعظم کے خلاف مالی بدعنوانی کا ثبوت نکالا جاتا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ یہ جے آئی ٹی نہیں بلکہ پی ٹی آئی رپورٹ ہے اور سیاسی الزامات کو رپورٹ کی شکل میں پیش کیا گیا جب کہ جے آئی ٹی کے 4 ارکان قانونی معاملات کی سمجھ نہیں رکھتے۔

وزیرپیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ہم پر تحفظات کا اظہار کیا اور رپورٹ میں بہت سی باتیں ناقابل یقین اورمضحکہ خیز ہیں، رپورٹ سے مشرف دور کے بے بنیاد الزامات کی یاد تازہ ہوگئی جب کہ ہمیں کوئی ڈر نہیں ہے، مقدمہ پاکستان کے عوام کے سامنے ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ حسین نواز نے قانونی طریقے سے نوازشریف کو رقم بھیجی، یہ پیسا بینکنگ چینل کے ذریعے نواز شریف کے اکاؤنٹ میں آیا جب کہ برطانیہ میں ٹیکس اور بینکنگ قوانین پاکستان سے زیادہ سخت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ پر پورا اعتماد ہے، اس کی آزادی میں ہمارا بھی حصہ ہے جب کہ سپریم کورٹ میں بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔

وفاقی وزیر خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سورس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، میں سمجھتا تھا جے آئی ٹی کا انحصار مضبوط شہادتوں پر ہوگا لیکن جے آئی ٹی نے تصدیق شدہ دستاویزات کی بجائے ڈرافٹ پر انحصار کیا اور رحمان ملک کی باتوں پر بہت زیادہ انحصار کیا گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری