ابوبکر البغدادی کون تھا ؟؟؟ مغربی صحافی "صوفیا امارا" کی تحقیقات

خبر کا کوڈ: 1461963 خدمت: دنیا
البغدادی

داعش کا سرغنہ ابوبکر بغدادی گزشتہ آٹھ ماہ سے منظر عام پر نہیں آیا یہاں تک کہ حالیہ دنوں میں اسے بھوت کہا جانے لگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق داعش سرغنہ ابو بکر البغدادی گزشتہ آٹھ ماہ سے لوگوں کے سامنے نہیں آیا ہے اس کے طرفدار اسے بھوت کہہ کر یاد کرتے تھے اور اس بات کا قوی احتمال ہے کہ وہ عراقی فضائیہ یا عالمی اتحاد کی بمباری میں ہلاک ہو گیا ہے۔

تاہم تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق دہشتگرد گروہ داعش نے آج ہی بغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس گروہ کے نئے خلیفہ کا اعلان جلد ہی کیا جائیگا۔

دھیان رہے کہ 16 جون کو روسی فضائیہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس بات کا احتمال ہے کہ شمالی شام میں رقہ کے نزدیک داعشی کمانڈروں کے اجلاس پر روسی بمباری میں ابوبکر بغدادی ہلاک ہو گیا ہو۔

2014 سے ہی بغدادی کی ہلاکت کو لے کر مختلف افواہیں پھیلتی رہی ہیں لیکن کسی بھی ایک خبر کی کبھی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ ابھی تک کسی کو بھی ابوبکر بغدادی کی لاش نہیں ملی ہے جس کے لئے امریکہ کی طرف سے 25 ملین ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایک تحقیقاتی ٹیم صوفان گروپ کا کہنا ہے کہ قابل غور بات یہ ہے کہ داعش کا سرغنہ اس تنظیم کی تبلیغاتی مہم میں بھی بہت کم دیکھا گیا ہے۔

بغدادی کی ڈاکیومینٹری فلم بنانے والی مغربی صحافی صوفیا امارا نے کہا ہے کہ اس کا اصل نام ابراہیم عواد البدری ہے وہ 1971 میں عراق کے شہر سامراء میں پیدا ہوا اس نے دو شادیاں کی ہیں اس کی پہلی بیوی سے چار بچے اور دوسری سے دو بچے ہیں اس کی ایک بیوی نے اسے اپنے اہل و عیال کے لئے عام سرپرست کی طرح ہی بتایا ہے۔

بغدادی کی اپنے اہداف میں ناکامی

بغدادی کو فٹبال میں بہت دلچسپی تھی اسے وکیل بننے کا شوق تھا لیکن وہ لاء کالج میں داخلہ لینے میں ناکام رہا اگرچہ اسے فوجی زندگی میں بھی دلچسپی تھی لیکن کمزور آنکھوں کے سبب وہ فوج میں شامل ہونے سے بھی محروم رہا تھک ہار کر وہ بغداد میں دینی تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہو گیا۔

بوکا جیل میں بغدادی کی آمد نے اس کی زندگی میں عجیب تبدیلی پیدا کر دی۔ اس نے 2004 میں ایک معمولی سا دہشت گرد گروپ تشکیل دیا جس کے نتیجے میں اسے گرفتار کر کے بوکا جیل میں ڈال دیا گیا جہاں 20 ہزار سے زیادہ قیدی تھے۔

بغدادی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ایک شرمیلا اور معمولی سی  صلاحیت رکھںے والا انسان ہے، داعش کا چیف کمانڈر بن بیٹھا۔

بغدادی کو 2004 میں ثبوتوں کے نہ ہونے کے سبب الزام سے بری کر دیا گیا اور وہ بوکا جیل سے رہا کر ہو گیا اس نے القاعدہ کے ماتحت ایک دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ ابو مصعب زرقاوی کی بیعت کی۔

2005 میں امریکی فضائیہ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ابو دعاء نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا ہے یہ وہ نام تھا جس کے پس پردہ ابوبکر بغدادی پوشیدہ تھا لیکن 2010 میں جب ابوبکر بغدادی نے داعش کی قیادت سنبھالی تو معلوم ہوا کہ وہ خبریں جھوٹی تھیں۔

اس نے داعش کی نئے سرے سے تنظیم سازی کی اور 2013 میں شام میں جاری آپسی اختلافات اور خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا نام دولۃ الاسلامیۃ فی العراق والشام رکھ لیا اور اس کے ایک سال بعد ہی عراق کو اپنے حملوں کا ہدف بنایا۔

2015 میں ابوبکر بغدادی نے ایک آڈیو کلپ جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی خود ساختہ خلافت سے متصل ہونے کی دعوت دی اور انہیں اپنے ممالک میں جہاد کی ترغیب دلائی اور کہا کہ اسلام کبھی بھی صلح و امن کا مذہب نہیں رہا ہے اسلام جنگ اور قتال کا مذہب ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری