نواز کیخلاف پاناما کے حامی اور نواز کے حق میں پاناما کیخلاف

خبر کا کوڈ: 1463291 خدمت: پاکستان
پاناما لیکس

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے دوران تفتیش عدم تعاون کا مظاہرہ کیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے دوران تفتیش عدم تعاون کا مظاہرہ کیا اور نواز شریف کے بیان کا زیادہ تر حصہ سنی سنائی باتوں پر مشتمل تھا، وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے سامنے ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا اور زیادہ تر سوالات کے اطمینان بخش جواب نہیں دیئے، نواز شریف اپنی انکم اور ویلتھ ٹیکس سے متعلق تحفظات کی وضاحت نہ کرسکے اور جے آئی ٹی ارکان کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کے بیانات کے چند حصے حقائق پر مبنی نہیں تھے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ نواز شریف کسی نہ کسی طور اپنے خاندانی کاروبار سے منسلک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا پورا خاندان بلواسطہ یا بلاواسطہ لندن فلیٹس کا بینی فیشری (فائدہ اٹھانے والا) ہے، نوازشریف نے بیان میں کہا وہ گلف اسٹیل کے پارٹنر محمد حسین کو نہیں جانتے، لیکن ان کا یہ کہنا بعد میں غلط ثابت ہوا۔
 
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمرکا کہنا ہے کہ نوازشریف کوگھرتوجانا ہے اپنی مرضی سے چلے جائیں تو بہتر ہے اور 15 ماہ قبل ہی عہدہ چھوڑ دیتے تو آج ان کے خاندان کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو ٹھوس ثبوت فراہم کیے، دفاع میں پیش کردہ دستاویزات جعلی نکلیں، نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، ڈار صاحب کے حدیبیہ پیپرملز کیس میں دیا گیا حلفیہ بیان جے آئی ٹی میں سچا ثابت ہوا، جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ڈارصاحب نے اپنے بیان میں سچ بولا تھا اور جے آئی ٹی میں پیشی والے دن انہوں نے کہا کہ میں نے وکیلوں کے مشورے کے بعد بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
اسد عمرنے مزید کہا کہ ڈارصاحب نے جے آئی ٹی رپورٹ کے شواہد پر بات کیوں نہیں کی، جے آئی ٹی رپورٹ کے ٹھوس ثبوتوں پر انہوں نے اپنے سمدھی کے لئے ایک بات بھی نہیں کہی، انہوں نے جے آئی ٹی میں ثبوتوں کا جواب کیوں نہیں دیا۔  اسد عمر نے اسحق ڈار کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے عمران خان کی باتیں کرکرکے قوم کے سامنے ان کی عزت بڑھا دی، اسحاق ڈارنے بتایا غریبوں کےعلاج کیلیےعمران خان ان کے دروازے پر بیٹھے رہے جب کہ عمران خان اپنے لیے نہیں غریب پاکستانیوں کیلیے آپ کے دفترمیں بیٹھتےتھے۔
 
 سپریم کورٹ میں وزیراعظم نوازشریف کومعطل کرکے نااہل قراردینے سے متعلق آئینی درخواست دائرکردی گئی۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں محمود اخترنقوی کی جانب سے وزیراعظم نوازشریف کو معطل کرکے نااہل قراردینے سے متعلق آئینی درخواست جمع کرادی گئی ہے۔ درخواست میں نوازشریف کے بچوں، کیپٹن صفدر، اسحاق ڈار، طارق شفیع سمیت الیکشن کمیشن، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین نیب، گورنراسٹیٹ بینک، چیئرمین نیشنل بینک کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ نوازشریف جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے پائے گئے، انہوں نے عوامی عہدوں کا فائدہ اپنے آپ اوربچوں کو دیا، نوازشریف نے دوراقتدارمیں اپنے کاروبارکو پروان چڑھایا جب کہ اثاثے اندرون اوربیرون ملک بنائے اوربچوں کے نام منتقل کئے۔
اکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم سمیت وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار سے بھی فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔
اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایک منی لانڈرر نے ایس ای سی پی کے چیئرمین کا تقرر کیا، نیشنل بینک کے صدر سعید احمد کا تقرر کیا۔ ملک کا وزیرخزانہ وزیراعظم کے لیے منی لانڈرنگ کررہا ہے۔ وزیرخزانہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کرچکے ہیں لہٰذا انہیں تو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے کیوں کہ قومی خزانے پر ایک منی لانڈرر بیٹھا ہوا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ تفصیل سے پڑھی اور مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب وہ صرف نواز شریف نہیں بلکہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کا بھی استعفیٰ مانگتے ہیں کیوں کہ ملک کے خزانے پر ایک منی لانڈرنگ کرنے والا شخص بیٹھا ہوا ہے۔
چیرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ شہباز شریف کا نام 80 کروڑ روپے کے سیٹلمنٹ میں آیا ہے، یہ پیسہ کہاں سے آیا تھا، یہ پیسہ منی لانڈرنگ کرکے باہر لے جایا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھنے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ قطری شہزادے کا خط مکمل طور پر فراڈ تھا۔

عمران خان نے کہا کہ دبئی کی وزارت انصاف نے ان کا جھوٹ ثابت کیا ہے، دبئی کے حکام کہتے ہیں کہ گلف اسٹیل کے پاس رقم نہیں تھی اور نہ ہی قطری کو کوئی رقم بھجوائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز بینیفیشل اونر ثابت ہو گئی ہیں،مریم کی ٹرسٹ ڈیڈ بھی جعلی تھی، ثابت ہو گیا

کہ 2007 تک وہ فونٹ تھا ہی نہیں جو استعمال ہوا۔
پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف خیبر پختونخواہ اسمبلی میں قرارداد جمع کروادی ہے جس میں ان سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف قرارداد پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اور رکن خیبر پختونخواہ اسمبلی شوکت یوسف زئی کی جانب سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔
مشترکہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈل پاناما لیکس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اور ان کی فیملی نہ صرف منی ٹریل دینے میں ناکام رہی بلکہ ان کا جھوٹ بھی ثابت ہو گیا ہے جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ وفاقی وزرا اداروں کی تضحیک پر اتر آئے ہیں اس لیے یہ اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔
یاد رہے کہ پاناما کیس کی تفتیش کے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے اور اس میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کو قصور وار ٹہرائے جانے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
زیراعظم کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائرکردی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ جےآئی ٹی رپورٹ کے بعد نوازشریف عہدے کے اہل نہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پہلی ا اہلی کی درخواست دائر کردی گئی ہے ۔
درخواست میں نواز شریف کے بچوں، کیپٹن ریٹائرصفدر، اسحاق ڈار ، چیئرمین نیب، طارق شفیع، الیکشن کمیشن، سیکریٹری خزانہ ، گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین نیشنل بینک کو بھی فریق بنایا گیا ہے
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے اختیارات کا ناجائزاستعمال کیا، عوامی عہدوں کا فائدہ خود اور اپنے بچوں کو پہنچایا، اپنے دور اقتدار میں اپنے کاروبار کو پروان چڑھایا نوازشریف اور بچوں کے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ قرار پائے گئے جبکہ نواز شریف اور خاندان نےغلط اور جعلی دستاویز جمع کرائیں۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کواستعفیٰ دینا ہوگا وہ وزیراعظم ہونے کا سیاسی و اخلاقی جوازکھو چکے ہیں۔
وہ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرانے پر ردعمل دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے جےآئی ٹی اورعدالت میں جعلی دستاویزات پیش کر کے انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اثاثوں کو چھپانے کے مرتکب پائے گئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کو اب وزیراعظم رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اب نوازشریف گھر بھیجے جانے کا انتظار نہ کریں بلکہ خود استعفی ٰدے کر گھر چلے جائیں دیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے دیا گیا بیان سچ ثابت ہوا اور شریف خاندان نے جو دستاویزات جمع کرائیں وہ جعلی نکلیں، ساتھ ہی انھوں نے وزیرخزانہ سے سوال کیا کہ آخر کب تک وہ ان لوگوں کا دفاع کرتے رہیں گے؟
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے بھرپور ثبوت فراہم کیے ہیں جبکہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ یہ بیان میں نے اپنے وکیلوں کے مشورے سے لکھا۔
اسد عمر نے وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈار صاحب ہم بھی کورٹ میں تھے جب کیس چلا اور میڈیا نے بھی سب کچھ رپورٹ کیا'، انہوں نے مزید کہا کہ 'ڈار صاحب آپ کو شاید یاد نہیں رہا پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے ججز کے سامنے جب نیب کا چئیرمین آیا تھا تب سپریم کورٹ نے ان سے پوچھا تھا کہ حدیبیہ کے ریفرنس کے خلاف آپ نے سپریم کورٹ میں اپیل کیوں نہیں کی؟ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہیں کی گئی اور اگر آپ کو یاد ہو تو اس دن ججز کے الفاظ یہ تھے کے نیب مرحوم و مدفون ہوگیا, اس کو دفن کر دینا چاہیے'۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ صرف نواز شریف نہیں بلکہ شہباز شریف ایاز صادق اور اسحاق ڈاربھی مستعفی ہوں کیونکہ یہ لوگ بھی منی لانڈر ہیں، منی لانڈرنگ کرنے والوں نے اپنے لوگوں کو اداروں کا سربراہ بنایا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے خزانے پر ایک منی لاڈرنگ کرنے والے شخص کو بٹھایا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ قطری شہزادے کا خط اور اس کے بیانات فراڈ تھے۔ دبئی جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ قطری شہزادے کےپاس کوئی پیسہ نہیں گیا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف حکومت بھرپور انداز میں قانونی جن

گ لڑے گی اور شریف خاندان کا بھرپور انداز میں دفاع کیا جائے گا۔
تفصیلات کےمطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد کی صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں  وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف، احسن اقبال، اسحاق ڈار، اٹارنی جنرل اشتراوصاف کے علاوہ قانونی اور آئینی ماہرین بھی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کو جے آئی ٹی رپورٹ پر تمام قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد گزشتہ روز بھی وزیراعظم نے غیررسمی مشاورتی اجلاس کی صدارت کی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں شریف فیملی کے اثاثے آمدن سے زیادہ قرار دیے گئے تھے۔

نواز کے حق میں پاناما کیخلاف
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آج میڈیا کا سب سے بڑا موضوع پاناما اور جے آئی ٹی ہے۔ پانامہ کیس کی ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ یہ کرپشن کا خاتمہ ہے، نواز شریف کو سزا دینا ہے یا پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ۔ہمیں پاکستان کو عدم استحکام سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کا معاملہ کسی کا اقتدار میں آنے اور پیسہ کمانے کا مسئلہ ہوگا، ہمارا یہ مسئلہ نہیں۔ہم نے اپنے نوجوانوں کے جذبات پر کنٹرول کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ہم نے الزامات برداشت کئے، طعنے سہے، مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستان کا روشن مستقبل بھارت کو قبول نہیں۔ عالمی اقتصادیات پر چین کا قبضہ کرنا امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں۔اب داعش کی صورت میں افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہورہی ہے۔عالمی طاقتیں پاکستان کو بھی عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ہوگئے ہیں۔ نواز شریف کا اقتدار میں ہونا یا نہ ہونا ہمارا مسئلہ نہیں۔ ہمیں قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ ہمیں حقائق کے ساتھ چلنا ہے، اگر ہمارا نقطہ نظر غلط ہے تو ہمیں قائل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنے اسلاف کے نظریات کی تشریح کے مشن پر کاربند ہیں۔موجودہ دور اسلام کے بقاء کی جنگ کا دور ہے۔ملکوں اور میڈیا کی سیاست خالصتا معروضی ہے۔ کسی ایک ایشو پر پوری قوم کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔اس نوعیت کی سیاست سے جے یو آئی جوڑ نہیں کھاتی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی اسلامی نظریئے کی محافظ ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری