سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دوں گا، وزیراعظم نوازشریف

خبر کا کوڈ: 1463980 خدمت: پاکستان
نواز شریف

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے مستعفی نہ ہونے کا دوٹوک اعلان کیا ہے جس کا کابینہ ارکان نے زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا۔

نواز شریف نے کہا کہ کیا جمہوریت فروش سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں؟ اللہ کے فضل وکرم سے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ کابینہ کے ارکان نے ڈیسک بجا کر فیصلے کی توثیق کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہمارے ذاتی کاروبار کے بارے میں مفروضوں، الزامات اور بہتانوں کا مجموعہ ہے۔ ہمارے خاندان نے سیاست سے کمایا کچھ نہیں البتہ کھویا بہت کچھ ہے۔ یہاں اربوں کے منصوبے لگ رہے ہیں لیکن کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ چار سال میں ہم نے تعمیر و ترقی کا اتنا کام کیا جتنا دو دہائیوں میں نہیں ہوا۔ پھر سے اندھیروں کو اپنی بستیوں، اپنے کارخانوں کا رخ نہیں کرنے دیں گے۔ 1985 سے لیکرآج تک 32سال کے دوران ایک پیسے کی خورد برد کی ہو تو بتاؤ، تم تو یہ الزام تک بھی نہیں لا سکتے۔

نواز شریف نے کہا کہ وقت آنے پر سب راز کھل جائیں گے، وہ وقت زیادہ دور نہیں۔ تعمیر و ترقی کے سفر کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان ماضی میں ان تماشوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ضمیر اور دامن صاف ہے، جے آئی ٹی رپورٹ میں استعمال ہونے والی زبان میں بدنیتی نظر آتی ہے۔ پاکستان کے عوام نے مجھے منتخب کیا ہے۔ جتنے بھی مطالبے کرلیں، سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفی نہیں دوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا کاروبار خاندان کے کسی بھی شخص کے سیاست میں آنے سے پہلے سے ہے۔ میرے اور شہباز شریف کے کسی بھی دور میںکرپشن کا ثبوت ملا ہو تو سامنے لائیں۔ ہمیں عوام نے منتخب کیا ہے، ہماری انگلیاں عوام کی نبض پر ہیں، جائزے بتا رہے ہیں بھاری اکثریت ہمارے ساتھ ہے، کبھی دھاندلی، کبھی کرپشن، کبھی پاناما اورکبھی کسی اور نام سے ہنگامے کھڑے کرنے والے ناکام و نامراد رہیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ایئر پورٹ کا نام تجویز کرنے کیلیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی جس میں حاصل بزنجو، عرفان صدیقی، مریم اورنگزیب اور بیرسٹر ظفر اللہ شامل ہیں۔ کابینہ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ، پٹرولیم و قدرتی وسائل کے مینجنگ ڈائریکٹر/چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ممبرز گیس و آئل کی تعیناتی کی شرائط و ضوابط کی بھی منظوری دی اور رواں سال29مئی، 30مئی، 6جون،7جون کو کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں اور کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے17جون کو کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے مالدیپ کیساتھ سیاحت میں تعلقات کے فروغ، کرغزستان کی اسٹیٹ ایجنسی برائے سرمایہ کاری و فروغ برآمدات، تاجکستان کی وزارت اقتصادی ترقی و تجارت، آذربائیجان ایکسپورٹ اینڈ انوسٹمنٹ پروموشن فاؤنڈیشن کے ساتھ ایم او یو پر بات چیت اور دستخط کرنے کی منظوری دی۔ مالدیپ کیلیے 10ملین ڈالر کی ڈیفنس کریڈٹ لائن کھولنے کیلیے ایم او یو پر بات چیت شروع کرنے، مالدیپ کے سول سروس کمیشن کے ساتھ ایم او یو پر دستخط، آذربائیجان، سربیا، ویتنام، برازیل کے ساتھ فضائی خدمات معاہدے کیلیے بات چیت شروع کرنے، ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن کے کیوٹو پروٹوکول میں دوحہ ترمیم قبول کرنے، قزاخستان کے ساتھ ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں ایم او یو پر دستخط، انڈونیشیاکے ساتھ دفاعی میدان میں تعاون کے معاہدے کی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے ترکی کیساتھ تربیت، تکنیک و سائنس کے شعبہ میں عسکری تعاون کے بارے میں معاہدے میں ترمیم کے پروٹوکول پر دستخط اور توثیق، تھائی لینڈ کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایم او یو پر دستخط، پولینڈ کے ساتھ ڈیفنس ٹیکنیکل اینڈ انڈسٹریل کوآپریشن کے ایم او یو کے مسودہ پر بات چیت شروع کرنے، ’’کاریک‘‘ انسٹیٹیوٹ کے بارے میں بین الحکومتی معاہدے کی توثیق کی بھی منظوری دی۔ کیوبا کیساتھ سیاحت کے میدان میں ایم او یو، آئی سیسکو ریجنل سینٹر فار میڈیا ٹریننگ اینڈ کوالیفیکیشن فار ایشین ریجن وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ترکی کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں تعاون کے معاہدے پر بات چیت اور دستخط، رشین اسٹیٹ یونیورسٹی فار ہیومنٹیز اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد کے درمیان تعاون کے لیے عمومی معاہدے پر بات چیت اور دستخط کی منظوری دی گئی۔

فنانشنل انٹیلی جنس یونٹ ترکمانستان کیساتھ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو فنانسنگ سے متعلق مالیاتی انٹیلی جنس کے تبادلہ میں تعاون کے حوالے سے ایم او یوکی توثیق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور روس کے سینٹرل بینک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے ایم او یو پر دستخط، جنوبی افریقہ کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات و تعاون کے ساتھ ایم او یو پر بات چیت شروع کرنے، نائیجر، زمبابوے، تنزانیہ، ایتھوپیا، سینیگال، کینیا، رومانیہ کی وزارت خارجہ امور کے ساتھ ایم او یو پر بات چیت شروع کرنے، ازبکستان کیساتھ زراعت میں تعاون کے بارے میں ایم او یو، یوگنڈا کے ساتھ زرعی تعاون کے بارے میں ایم او یو پر دستخط کے لیے بات چیت شروع کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پاکستان میں پٹرولیم کی تلاش کے لیے ایم او یو پر دستخط کے لیے کویت کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ انڈونیشیا، ترکمانستان، سربیا، برطانیہ، ماریشس، تاجکستان، تھائی لینڈ، سویڈن، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، کویت، جاپان، بنگلہ دیش، یوکرین، ایران، ویتنام کے ساتھ دہرے ٹیکس سے گریز اور معلومات کے تبادلے کے بارے میں اپڈیشن آف آرٹیکل کے لیے آمدن ٹیکس سے متعلق مالیاتی چوری کے تدارک کے لیے موجودہ کنونشن میں ترمیم کی منظوری دی۔

کابینہ نے سوڈان اور پاکستان کے درمیان کاٹن ریسرچ ڈویلپمنٹ کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کی بھی اصولی منظوری دی۔ اجلاس میں چوہدری نثار بھی شریک ہوئے جبکہ راجا ظفرالحق نے وزیراعظم کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

خبر ایجنسی کے مطابق کابینہ نے جے آئی ٹی رپورٹ مستردکرتے ہوئے وزیراعظم کو استعفی نہ دینے کا مشورہ دیا۔ حکومت کے اتحادیوں نے بھی وزیراعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ موجودہ بحران میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

چوہدری نثار نے وزیراعظم کو جمہوریت عوام کیلیے خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کاکریڈٹ ہی شفافیت ہے، عدالت عظمی کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے انشا اللہ آپ ماضی کی طرح اس بار بھی سرخرو ہوںگے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم سے جہاز رانی اور بندرگاہوں کے وفاقی وزیر اور نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل بزنجو نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تازہ ترین خبریں