تحریر: محمد سلیم

جنازے بھی ہم اٹھائیں اور اسیر بھی ہم۔۔۔۔! + تعلیمی اسناد

خبر کا کوڈ: 1464084 خدمت: مقالات
محمد علی

کبیروالا کے نواحی علاقے سے حساس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 12 اور 13 جولائی 2017ء کی درمیانی شب دو سگے بھائیوں کو رات گئے اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں جن کا جرم نجف الاشرف عراق اور مشہد مقدس ایران میں علم دین حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم: کبیروالا کے نواحی علاقے موضع چک نورنگ شاہ بستی کالو والا سے حساس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 12 اور 13 جولائی 2017ء کی درمیانی شب دو سگے بھائیوں کو رات گئے اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں۔ دونوں بھائیوں کا جرم نجف الاشرف عراق اور مشہد مقدس ایران میں علم دین حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔

محمد علی کاشفی جامعۃ المصطفی العالمیہ کا باقاعدہ رجسٹرڈ طالب علم ہے اور اسی طرح چھوٹا بھائی ناصر عباس حوزہ علمیہ نجف کا طالب علم ہے۔

دونوں بھائی خالصتًا دینی طلاب ہیں اور کسی بھی مذہبی تنظیم سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ طلاب کے ماموں جو کہ عینی شاہد بھی ہیں بتاتے ہیں کہ رات 12 بجے کے بعد حساس اداروں کے اہلکار تین گاڑیوں پر آئے جن کے نمبرز بالترتیب LEA5317, MN436, MNA7340 تھے۔

محمد علی کاشفی جو علاج کی غرض سے پاکستان آئے ہوئے تھے، کو سب گھر والوں کے سامنے اہلکاروں نے تھپڑ بھی مارے اور خواتین کے ساتھ بھی رویہ بدتمیزانہ تھا۔

ناصر عباس کو شادی کے لئے گھر والوں نے بلوایا تھا اور دو ماہ قبل رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ دونوں بھائیوں کی عمریں 23 اور 21 سال ہیں۔

جان کی امان پاؤں تو کیا پوچھ سکتا ہوں کہ علم دین کے حصول کے لئے نجف اور مشہد وغیرہ جانا کیا اتنا بڑا جرم ہے کہ دہشتگردوں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے؟؟

ملت تشیع جو خود دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار ہے اور ہزاروں شہداء کے جنازے اٹھانے کے باوجود پاکستان زندہ باد کی صدائیں بلند کرتی ہے، کے ساتھ یہ کس قسم کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ جنازے بھی ہم اٹھا رہے ہیں اور ہمارے ہی گھروں سے ہمارے علماء، طلباء اور جوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔۔۔۔؟؟

آخر کس پالیسی کے تحت ملت تشیع کے افراد کو اس طرح اٹھایا جا رہا ہے؟؟ جبکہ قتل کی سینچریاں کرنے والے آزاد دندناتے پھرتے ہیں۔۔۔۔!

ہم اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اٹھائے گئے بیگناہ بھائیوں کی اور اس سے پہلے اٹھائے گئے بیگناہ علماء، طلباء اور جوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ذیل میں اٹھائے گئے بیگناہ طلباء اور ان کے تعلیمی ریکارڈ کی تصاویر بھی اپلوڈ کی جا رہی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری