تحریر: آر اے سید

ایران امریکه تعلقات موجودہ تناظر میں (پہلا حصہ)

خبر کا کوڈ: 1464103 خدمت: مقالات
پرچم ایران و آمریکا

ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سازشوں کا جو سلسلہ شروع کیا اس میں کبھی بھی کمی نہیں آئی۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: جمی کارٹر سے لیکر ڈونلڈ ٹرمپ تک جو بھی امریکی صدر برسراقتدار آیا وائٹ ہاوس میں پہنچنے کے فورا بعد اس  نے پہلا کام ایران کو کمزور کرنے اور اسلامی انقلاب کے نظریے کو ختم کرنے کے لئے احکامات جاری کئے۔

امریکہ میں ڈیموکریٹس ہوں یا  ری پبلکنز ایران کا اسلامی نظام دونوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کی پابندیاں مزید بڑھیں گی اور ایران  اور امریکہ کے مقابلے میں شدت آنے کا بھی امکان ہے۔

ٹرمپ نے ایران اور پانچ جمع ایک ممالک کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات کی ہے اسی طرح پابندیوں میں مزید شدت لانے کا موضوع  بھی سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف عرب ممالک کا اتحاد اور سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد نتظیموں کی فہرست میں شامل کرنا وغیره ایسے اقدامات ہیں جن سے نئے امریکی  صدر کی پالیسیوں کا بخوبی اندازه ہو جاتا ہے۔

ڈونلڈٹرمپ اگرچہ اس وقت ایٹمی معاہدے کو پھاڑنے کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن ایران کے میزائل سسٹم کو بہانہ بنا کر نئی نئی پابندیاں عائد کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے خلاف قدرے نرم  پالیسیاں اختیار کی تھیں اور ٹرمپ ان پالیسیوں کا جاری رکھنے پر تیار نہیں ہے لیکن چونکہ ابھی اس کی صدارت کا آغاز ہے لہذا وه کھل کر  اپنی  پالیسیوں کا اعلان نہیں کر رہا ہے لیکن یہاں پر اس بات پر توجہ  رہے کہ اوباما انتظامیہ نے بھی اپنے  دور میں ایران کے ساتھ برابری نیز باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات بہتر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی اور اس کی تمام تر پالیسیاں دشمنانہ اقدامات پر مشتمل تھی۔

امریکہ کی دونوں جماعتوں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کے ماضی کی کارکردگی اس بات کی گواه ہے کہ دونوں نے ایران کے خلاف مخاصمانہ پالیسیاں اپنائی ہیں اور ایران سے دشمنی  کے حوالے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وائٹ ہاؤس میں ری پبلیکنز کا نمائنده آئے یا ڈیموکریٹس کا نمائنده عہده صدارت پر کوئی بھی فائز ہو۔

وائٹ ہاؤس  کے مکین کی تبدیلی سے ایران کے خلاف پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ بظاہر ایران میں اسلامی انقلاب کے کامیابی کے بعد امریکی پالیسیوں میں شدت آئی ہے لیکن رہبر انقلاب اسلامی کے بقول ایرانی قوم سے امریکہ کی دشمنی ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے بھی موجود تھی۔

بیالیس سال پہلے امریکہ کی وجہ سے ایران میں بغاوت ہوئی تھی اور امریکہ نے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کو سرنگوں کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ بیالیس سال پہلے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے مقابلے میں امریکیوں نے کھلم کھلا چوروں، ڈاکؤوں، بدمعاشوں اور بکے ہوئے سیاستدانوں کو ڈالروں کا لالچ دیکر مصدق کے خلاف  لاکھڑا  کیا۔ ڈالروں سے بھرے بریف کیس مصدق مخالف قوتوں میں تقسیم کئے گئے اور بالاخر مصدق کی حکومت سقوط کر گئی۔

 قابل غور نکته یہ ہے کہ مصدق کی حکومت امریکہ کی براه راست مخالف بھی نہیں تھی۔ جب امام خمینی کو گرفتار کیا  گیا اور ایرانی عوام نے اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور "پندره خرداد" جیسا واقعه پیش آیا اس موقع پر امریکیوں نے رضا شاه پهلوی کی بھرپور حمایت کر کے اس تحریک کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ایران کے اسلامی انقلاب کو پہلے ہی مرحلے میں ناکام بنانے کے لئے ایران کے سرحدی علاقوں میں علیحدگی پسندی کی تحریکوں کو میدان میں لایا گیا۔ اسی طرح اسلامی انقلاب ابھی تک ملک میں تازه تازه  کامیاب ہوا تھا لہذا اس کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے صدام کے ذریعے جنگ مسلط کر دی گئی۔ یہ زمانہ امریکہ میں جمی کارٹر کی صدارت کا دورتھا۔ کارٹر انتظامیہ نے انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے خلاف انتہائی مخاصمانہ پالیسیاں اختیار کیں۔ امریکہ نے انقلاب مخالف گروہوں کی حمایت، علیحدگی پسند گروہوں کی امداد، ایران کو سیاسی طور پر تنہا کرنے، تیل کی برآمدات پر پابندی، ایران کے سرمائے  کو امریکہ میں منجمد کرنے، صدام کی بھرپور مالی اور فوجی مدد کرنے اور مختلف طرح کی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کی مکمل کوشش کی اور یہ سب کچھ کارٹر انتظامیہ کی طرف سے کیا گیا۔

کارٹر کا تعلق ڈیموکریٹس سے تھا اس کے بعد ری پبلیکنز کے نمائندے رونالڈ ریگن کا آٹھ  سالہ دور حکومت شروع ہوتا ہے۔ ریگن نے بھی کارٹر کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ ریگن کے دور میں عالمی اداروں میں ایران کی مخالفت کا راستہ ہموار کیا گیا صدام کی امداد کا سلسلہ بھی جاری رہا، ایران کے آئیل ٹرمینلز کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے مسافر طیارے پر میزائل  داغ کر 290 مسافروں کو شہید کیا گیا اور یوں ریگن کے دور میں بھی ایران مخالف پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

رونالڈ ریگن کے بعد بش سینیئر کی باری آئی اس کا تعلق ری پبلیکنز سے تھا۔ بش نے ہر ممکن کوشش کی۔ بش سینیئر نے بھی اقتصادی ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رکھا۔ بش سینیئر کے بعد ڈیموکریٹس صدر بل کلنٹن عہده صدارت پر متمکن ہوئے۔ انہوں نے شروع میں عالم اسلام سے اپنا رابطه بہتر کرنے کا وعده کیا لیکن پنده مارچ 1995 کے دن ایران کے خلاف "ڈامارتو" نامی قانون پاس کیا جس کے تحت ایران سے ہر قسم کی تجارت ممنوع قرار پائی نیز ایران میں سرمایہ کاری کو بھی جرم قرار دے دیا گیا۔ کلنٹن کے وزیر خارجہ وارن کریسٹوفر نے ایران پر دہشتگردوں کی حمایت نیز ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی کی کوشش کا الزام لگا کر ایران کو "بین الاقوامی باغی" قرار دے دیا۔

اس دور میں امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف چھڑی اور گاجر کی پالیسی اختیار کی گئی۔ بل کلنٹن کے بعد بش سینیئر کا بیٹا جارج واکر بش وائٹ ہاؤس تک پهنچنے میں کامیاب ہوا۔ بش جونیئر نے گیاره ستمبر کے مشکوک واقعه کو بہانہ بناکر عراق اور افغانستان پر حملہ کر دیا اور ایران کو بدی کا محور قرار دیا۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مسئلہ بش جونیئر کے دور میں سامنے لایا گیا اس وقت سے لیکر آئنده دس سالوں تک ایٹمی پروگرام کو بہانہ بنا کر ایران کے خلاف پابندیوں اور دباؤ کا سلسلہ بڑھایا گیا۔

 بش جونیئر کے بعد جب باراک اوباما تبدیلی کے نعرے کے ساتھ امریکی اقتدار تک  پہنچا تو اس نے بظاہر نرم رویہ اختیار کر کے امریکہ کی ماضی کی پالیسیوں کو جاری رکھا۔ اوباما نے پہلے یہ کیا کہ وه ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ  بڑھاتا ہے لیکن اوباما انتظامیہ نے ایران کے خلاف پہلے سے بڑھ کر سخت  اقدامات انجام دیکر ماضی کے صدور کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

 اوباما نے تو ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے کے باوجود اس معاہدے کی روح کے مطابق عمل درآمد  نہیں کیا۔ اوباما نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی  کرتے ہوئے ایران کے خلاف  " ISA" قانون پر دستخط کئے۔

اوباما نے ایران میں حکومت مخالف شرپسندوں اور فتنہ پروروں کی بھرپور مدد کی تاکہ ایران میں افراتفری پھیلے اور حکومت کمزور ہو جائے۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر سائبری حملے بھی اوباما دور میں انجام پائے۔ ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو بھی اوباما دور میں شہید کیا گیا۔ ایران کے خلاف امریکہ کے ماضی   کے صدور نے جو پالیسیاں اپنائی تھیں باراک اوباما نے ان پالیسیوں کو پوری قوت سے جاری رکھا۔

اس بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ میں حکمرانوں کی تبدیلی یا ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے نمائندوں کے وائٹ ہاؤس میں پہنچنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس وقت بھی ڈونلڈٹرمپ اور باراک  اوباما کے دور صدارت میں صرف اتنا فرق ہے کہ باراک اوبامہ کی انتظامیہ جو اقدامات خاموشی سے انجام دے رہی تھی، ڈونالڈ ٹرمپ نے اسے کھلم کھلا انجام دینے کا اعلان کیا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری