عراق؛ جب ایک شیعہ فوجی سنی بچے کی خاطر اپنی جان قربان کرتا ہے + تصویر

خبر کا کوڈ: 1464139 خدمت: اسلامی بیداری
نبرد موصل

وہ سنی بچہ جس کے لئے ایک شیعہ فوجی نے اپنی جان قربان کر دی، عراقی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عراق کے کردستان میں ایک شیعہ فوجی نے اہل سنت مکتب سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کی جان بچانے کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔

ابھی اس بچے کا نام اس کے والدین کا بھی کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے بس اتنا معلوم ہے کہ یہ بچہ قدیم موصل کے فاروق محلہ کا باشندہ ہے جو اہل سنت کا محلہ ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اس غم نصیب بچے کے والدین موصل میں تکفیری دہشت گرد تنظیم داعش کے مظالم سے بچ کر موصل سے نکلتے وقت دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے موت کی آغوش میں سما چکے ہیں اور تنہا یہ بچہ زندہ رہ گیا۔

اس بچے کی زندگی کا سراغ لگا کر ایک عراقی جوان بچے کی زندگی بچانے کے لئے میدان عمل میں اتر جاتا ہے اور دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو جاتا ہے۔ فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے تمام دہشت گرد بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔

شہید فوجی جوان "علی" کے خون کا احترام اور ان کے جذبہ قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس بچے کا نام بھی "علی" رکھا گیا ہے۔

اس شیعہ فوجی جوان کی فداکاری اور جذبہ ایثار کی خبریں اس وقت منظر عام پر آ رہی ہیں جب عراقی اتحاد اور یکجہتی کے دشمن عراق کی شیعہ رضاکارانہ تنظیم اور فوجوں پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ وہ سنی نشین علاقوں میں تعصب سے کام لے رہے ہیں۔

دوسری طرف علماء کرام اور مراجع عظام نے ہمیشہ تاکید کی ہے کہ داعش اور تکفیری دہشت گردوں کا سامنا کرنے کے لئے شیعہ سنی آپسی اتحاد کا دامن نہ چھوڑیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری