امریکی بھارت گٹھ جوڑ:

بھارت کی ایماء پر امریکی ایوان میں پاکستانی دفاعی امداد پر سخت شرائط کی پالیسی منظور

خبر کا کوڈ: 1465011 خدمت: دنیا
کنگره آمریکا

مالی سال 2018 کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان نے 696 ارب ڈالر کے بھاری حجم کا دفاعی پالیسی بل پاس کردیا جس میں بھارت سے دفاعی تعاون میں اضافے اور پاکستان کی امداد پر سخت شرائط عائد کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے 621.5 ارب ڈالر کا دفاعی پالیسی بل منظور کرلیا جس میں پاکستان کو دی جانے والی امداد پر سخت شرائط عائد کردی گئیں جب کہ ٹرمپ انتظامیہ کو بھارت سے دفاعی تعاون میں اضافے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایوان زیریں میں قومی دفاعی پالیسی بل 2018 پیش کیا گیا جس کے حق میں 344 اور مخالفت میں 81 ووٹ ڈالے گئے اور یہ بل یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔

اس بل میں پاکستان کو دی جانے والی دفاعی امداد پر سخت شرائط عائد کردی گئی ہیں۔ نئی شرائط کے تحت پاکستان کو امداد کے حصول کےلیے اپنے ہاں موجود نیٹو سپلائی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا، انسداد دہشت گردی آپریشنز میں مدد کے لیے واضح اقدامات کرنے ہوں گے، سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنا ہوگا اور بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مناسب کارروائی کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ دفاعی بل مالی سال 2018 میں دفاعی اخراجات پر 696 ارب ڈالر تک استعمال کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اس میں پینٹاگون کے اہم ترین آپریشنز کے لیے امریکی صدر کی درخواست پر تقریباً 30 ارب ڈالر زائد رقم مختص کی گئی ہے۔

مذکورہ بل 2011 بجٹ کنٹرول ایکٹ کے تحت دفاعی اخراجات کی مقررہ 549 ارب ڈالر کی حد سے بھی 72 ارب ڈالر زائد ہے۔

مجموعی طور پر بل باقاعدہ صوابدیدی اور سمندر پار ہنگامی آپریشنز (او سی او) کے لیے 47.4 ارب ڈالر فراہم کرتا ہے جو مالی سال 2017 کے لیے مقررہ حد سے 10 ارب ڈالر کم ہے۔

واضح رہے کہ 10 ارب ڈالر کی اس کمی کے بعد او سی او فنڈنگ کا بجٹ 12 ارب ڈالر ہوجاتا ہے، جو عراق، افغانستان اور پاکستان میں جاری آپریشنز اور امداد پر خرچ کیا جانا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں بل کے جاری ہونے والے متن کے مطابق، دفاعی پالیسی بل میں پاکستان کے لیے امریکی امداد کو اسلام آباد کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور جنوبی ایشیائی خطے میں موجود دیگر عسکری گروپس کی مبینہ مدد کو روکنے سے مشروط کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔

یہ بات بھی زیر غور رہے کہ بل کے تحت یکم اکتوبر 2017 سے 31 دسمبر 2018 تک پاکستان کیلئے مختص کردہ 40 کروڑ ڈالر امداد اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک امریکی وزیر دفاع اس بات کی تصدیق نہ کردیں کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف مسلسل فوجی آپریشن کر رہا ہے، شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے سے روک رہا ہے اور پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے افغان حکومت سے مکمل تعاون کررہا ہے۔

دوسری جانب اسی بل میں بھارت سے دفاعی تعاون میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی جس میں بھارتی لابی سے تعلق رکھنے والے امریکی رکن اسمبلی ایمی بیرا نے نمایاں کردار ادا کیا، جس کے تحت امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کو 6 ماہ کے اندر اندر بھارت و امریکا کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافے کی حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دفاعی پالیسی بل اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری دیں گے جس سے یہ قانون بن جائے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری