سندھ حکومت کی نااہلی؛ پینے کا 77 فی صد پانی مضر صحت قرار

خبر کا کوڈ: 1465577 خدمت: پاکستان
آب شرب اهواز کارون فاضلاب در کارون

سائیں سرکار کی غفلت کی وجہ سے سندھ کے 80 فیصد لوگ صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ سندھ بھر کے 14 ضلعوں میں پینے کا 77 فیصد پانی غیرمحفوظ قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں 'سندھ میں پینے کے پانی کا اسٹیٹس، زیرزمین اور جمع ہوئے پانی کا معیار' کے عنوان سے رپورٹ جمع کرادی گئی جس کیلئے پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی جانب سے کھلے پانی، زیرزمین اور سندھ کے مختلف اضلاع میں آر او پلانٹس کے پانی کے 460 نمونے حاصل کیے گئے۔

یہ نمونے کراچی سمیت ٹھٹھہ، حیدرآباد، جام شورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہٰیار، بدین، میرپورخاص، تھرپارکر، نوابشاہ، خیرپور، سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ کے اضلاع سے لئے گئے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 'پانی کےنمونوں کو فزیوکیمیکل اور مائیکروبائیلوجیکل طریقوں سے پینے کےپانی کے معیار کا گہرا جائزہ لیا گیا، اور ڈیٹا کا موازنہ عالمی ادارہ صحت، سندھ انوائرنمنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈ اور نیشنل انوائرنمنٹل کوالٹی اسٹینڈرڈ کی مجوزہ گائیڈ لائنز سے کیا گیا'۔

واضح رہے کہ اگر اس پر سندھ حکومت کی جانب سے فوری اقدام نہ کیا گیا تو تھرپارکر کی طرح سندھ بھر میں جانوں کا ضائع ہوگا اور لوگ بے موت مارے جائیں گے۔

یاد رہے کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہر قائد سمیت سندھ بھر میں پینے کے پانی میں انسانی فضلہ شامل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پینے کا پانی مضر صحت ہوگیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری