نینوا آپریشنل کمانڈر: موصل میں 25 ہزار داعشی قتل اور 130 ڈرون مار گرائے گئے

خبر کا کوڈ: 1465683 خدمت: دنیا
موصل پس از آزادی

موصل کے آپریشنل کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ موصل آزادی آپریشن کے دوران کم سے کم 25 ہزار دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ اس دوران 130 ڈرون بھی سرنگوں ہوئے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق موصل کے آپریشنل کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبدالامیر رشید یاراللہ نے کہا ہے کہ عراق کے شہر موصل کو آزاد کرانے کیلئے آپریشن 9 ماہ تک جاری رہا جس دوران 25 ہزار دہشتگرد مارے گئے۔

انہوں نے نینوا صوبے کے مرکزی شہر موصل کی آزادی سے متعلق مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز نے 25 ہزار داعشیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں 450 خودکش بمبار تھے۔

بریگیڈیئر جنرل  کا کہنا تھا کہ عراقی فورسز اس دوران 1247 بم نصب شدہ گاڑیوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اسی طرح 130 ڈرون طیاروں کو بھی سرنگوں کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس جنگ میں مسلح گروہوں کے تقریبا 1500 گاڑیاں بھی تباہ کردی گئیں۔

عراقی فوجی کمانڈر نے کہا کہ موصل کی مشرقی اور مغربی پٹی کی آزادی 9 مہینوں میں مکمل ہوگئی جس میں فوج، فیڈرل پولیس، محکمہ انسداد دہشتگردی اور عوام رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مشرقی موصل کو 101 جبکہ مغربی پٹی کو 142 دنوں میں آزاد کرالیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی تاکید کی کہ آزادی کیلئے لڑنے والے نوجوانوں نے اس شہر کی آزادی اور دہشتگردوں کے خاتمے کیساتھ ساتھ عام شہریوں کی بھی حفاظت کی۔

یاد رہے کہ موصل کی آزادی آپریشن 17 اکتوبر 2016 کو شروع ہوا اور 10 جون 2017 کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اس کی مکمل آزادی کی نوید سنائی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری