نتین یاہو: جنوبی شام میں جنگ بندی کا مخالف ہوں کیوںکہ یہ ایران کے مفاد میں ہے

خبر کا کوڈ: 1466767 خدمت: اسلامی بیداری
نتانیاهو

صیہونی وزیراعظم کو یہ فکر کھائی جا رہی ہے کہ جنوبی شام میں قیام امن کے لئے امریکہ اور روس کی مفاہمت کے بعد اس علاقے میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غاصب صیہونی حکومت جنوبی شام میں جنگ بندی کی مخالف ہے جس کے سلسلے میں ہامبورگ میں روسی اور امریکی صدور کے درمیان مفاہمت ہو چکی ہے۔

صیہونی روزنامہ ھارآتص کی رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کو صیہونی وزیراعظم نے فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ پریس کانفرنس میں اٹھایا۔

نتین یاہو نے دعویٰ کیا کہ جنوب مغربی شام میں امن زون قائم ہونے کی صورت میں ان علاقوں میں ایرانی فوجیوں کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔

غاصب صیہونیوں کی ناراضگی کا اصل سبب یہ ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی اس مفاہمت کے سبب ایران کے حمایت یافتہ فوجی دستوں کو شام اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر رہنے کی اجازت ہے اور تل ابیب کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

صیہونی ٹی وی چینلوں نے صیہونی فوجی افسران کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران شام میں اپنے فوجی اڈے بنانا چاہتا ہے اور یہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب غاصب صیہونی حکومت نے شام میں قیام امن کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل نے اس مفاہمت کے فورا بعد 9 جولائی کو امریکہ اور ماسکو سے رابطہ کرکے اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری