کیا امریکہ کی افغان پالیسی میں تاخیر کی وجہ "پاکستان" ہے؟

خبر کا کوڈ: 1468069 خدمت: پاکستان
نظامیان آمریکایی

ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے نئی افغان پالیسی جاری کرنے میں تاخیر کی ایک وجہ پاکستان کے حوالے سے امریکی حکام کا اختلاف ہے کیونکہ ان میں سے بعض اسلام آباد پر دباو کو آلہ کے طور پر استعمال کرنے کے حق میں ہیں جبکہ بعض ایسا نہیں چاہتے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وائٹ ہاوس کی ترجمان «سارا هاکابی سندرز» نے عرصہ قبل کہا تھا کہ امریکہ کی نئی اسٹریٹجی تیار ہے اور اس کا جائزہ لینے کو اس کے اعلان نہ کرنے کی وجہ بتایا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میتھیس جنہوں نے اس سے قبل اس پالیسی کے اعلان کے حوالے سے رواں ماہ کے وسط میں خبر دی تھی، نے اپنے حالیہ بیان میں اس سلسلے میں تذکرہ تک نہیں کیا۔

میتھیس جنہیں افغانستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے، نے اس سے قبل کہا تھا کہ واشنگٹن افغانستان میں ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائے گا اور ان کا ملک خطے کے حوالے سے اسٹریٹجی کو افغانستان میں فالو اپ کریگا۔

ٹائمز آف انڈیا نے بھی اس بارے میں وضاحت کی ہے کہ امریکی وزیر دفاع نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ افغان پالیسی کا جائزہ لینا اس لئے بھی دشوار ہے کہ اس کیلئے ایک خاص نقطہ نظر کی ضرورت ہے اور جس میں پاکستان بھی شامل ہو۔

اس سے قبل ڈیموکریٹک سینیٹر اور آرمڈ کمیٹی کے سربراہ جان مکین نے ٹرمپ حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ہمارے لئے پالیسی نہیں بناتی تو ہم ان پر اپنی پالیسی لاگو کروائیں گے۔   ما استراتژی را به آنها تحمیل می‌کنیم.

انہوں نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان دورے سے قبل اسلام آباد پر دہشتگردی کیخلاف موثر اقدام نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شدید تنقید کی تھی تاہم اسلام آباد کا سفر کرنے کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان میں قیام امن ممکن نہیں۔

افغان سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ عبدالطیف ژوندی نے جان مکین کے بیان پر ردعمل دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام واشنگٹن میں تیز بیانات کے باوجود پاکستان دورے کے دوران اپنے لہجے میں تبدیلی لے آتے ہیں جبکہ پاکستان کیساتھ نرم لہجے میں بات کرنے کا وقت گزر گیا ہے اور امریکی حکام کو اسلام آباد پر دباو ڈالنا چاہئے۔

دوسری جانب، امریکی ایوان نمائندگان نے گزشتہ دنوں تین بل پاس کئے جس میں پاکستان کو امداد دینے کے حوالے سے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ یہ بل، اسلام آباد کو ملنے والی مالی معاونت کو اس ملک کی جانب سے دہشتگردی کیخلاف مطمئن کنندہ پیشرفت کیساتھ مشروط کرتے ہیں۔ 

سینیئر امریکی سینیٹر اور اس بل کی پشت پناہ اصلی شخصیت ٹڈ پو نے اس بل کے منظور ہونے کے بعد ٹوئیٹر پر اپنے ذاتی پیج پر اس بل کو "امریکہ کیساتھ پاکستان کی خیانت کے خاتمے کیلئے بڑا اقدام" قرار دیا۔  

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری