داعش کے خاتمہ میں عراقی اقوام اور شیعہ، سنیوں کا اہم کردار ہے، فضل حسین اصغری

خبر کا کوڈ: 1468088 خدمت: پاکستان
فضل حسین اصغری

اصغریہ آرگنائزیشن پاکستا ن کے مرکزی صدر نے کہا ہے کہ داعش کا عراق سے خاتمہ علما، حکومت، عوام اور سیکورٹی فورسز کے تعاون سے ممکن ہوا جو کہ باقی ممالک کیلئے بھی مشعل راہ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مرکزی دفترالمہدی سینٹرجامشورو سے جاری ایک بیان میں اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر فضل حسین اصغری نے کہا ہے کہ داعش کا عراق سے خاتمہ علما، حکومت، عوام اور سیکورٹی فورسز کے تعاون سے ممکن ہوا جوکہ باقی ممالک کیلئے بھی مشعل راہ ہے، اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، کسی کو محض عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر داعش نے جو ظلم و ستم لوگوں پر روا رکھا، اس سے انسانیت کا سرشرم سے جھک گیا۔ داعش نے عالم اسلام کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اسلامی تاریخ میں اس کا سراغ نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے جرائم اور تکفیریت کی پوری دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس لئے عراق سے داعش کے ناسور کا خاتمہ امت مسلمہ کیلئے اچھی خبر ہے، جسے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقے خوش آئند قراردے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص سوچ کی حامل دہشتگرد تنظیم امریکی ایجنسیوں کی پیداوار ہے، جسے اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمان ممالک میں انتشار پیدا کرنے کیلئے بنایا گیا۔

داعش پر عراقی عوام کی کامیابی کو پوری انسانیت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق اور شام کے عوام کا پوری دنیا کے عوام پر بہت بڑا حق ہے۔ داعش کے خاتمہ میں عراقی اقوام اور قبائل کے باہمی اتحاد نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے شیعہ اور سنیوں نے ملکر اورمتحد ہوکر عراق کو داعش دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کیا۔

فضل حسین اصغری نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام اور سکیورٹی فورسز متحرک اور باخبر رہیں تاکہ داعش کے مستقبل میں دوبارہ ابھرنے کا کوئی امکان نہ رہے۔بعض علاقائی اور غیر علاقائی ممالک نے داعش کو عراق اور شام میں داخل ہونے کے لئے سہولیات فراہم کیں، انھیں تربیت دی اور  ہتھیار فراہم کئے۔ جبکہ عراقی قوم نے داعش کا مقابلہ کرنے کا آپشن اختیار کیا۔

عراق کے اہلسنت علماء نے داعش کے خلاف واضح اور روشن مؤقف اختیار کیا جبکہ بعض سازشی طاقتیں بہانہ بنا کر شیعہ اور سنی جنگ چھیڑنے کی کوشش کررہی تھیں ۔ لیکن اہل سنت علماء نے ہوشیاری کا ثبوت دے کر دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا سامنا صرف پاکستان کو بھی ہے، جہاں مختلف تکفیری فرقہ وارانہ تنظیموں کو پالا گیا اور اب یہ ملکی استحکام کے لئے خطرہ بن چکی ہیں، تو اداروں اور حکومت کو ہوش آیا ہے، جب پانی سر سے گذر چکا تھا، کتنی قیمتی جانیں، دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں،

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری