برطانوی اخبار کا دعویٰ:

سرغنہ پاکستانی یا افغانی؟ داعشی جنگجووں کے درمیان جنگ چھڑ گئی

خبر کا کوڈ: 1469035 خدمت: پاکستان
داعش در افغانستان

افغانستان میں داعش کے سرغنہ کی ہلاکت کے بعد برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروہ کے جنگجووں کے درمیان اس بات پر لڑائی جاری ہے کہ پاکستانی کو اپنا نیا امیر مقرر کرے یا افغانی کو ؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق برطانوی اخبار دی ٹائمز نے لکھا ہے کہ جہادی گروہوں نے افغانستان میں داعش پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے جدوجہد جاری کی ہے۔

افغانستان میں داعش کے ذیلی گروہوں کے بیچ طاقت کی جنگ جاری ہوچکی ہے۔ 

برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ حریف عسکریت پسند داعش کی قیادت پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کے لئے  سرحد کے دونوں اطراف پر ایک دوسرے پر حملے کررہے ہیں۔

جہادی عسکریت پسندوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "داعش خراسان" میں پاکستانی اور ازبک کمانڈر اس گروہ کی قیادت کا دعویٰ کررہے ہیں۔

داعش کی ملٹری کونسل نے پاکستانی طالبان کے سابق کمانڈر شیخ اسلم فاروقی کو نئے سرغنہ کے طور پر منتخب کیا تھا لیکن ازبک شدت پسندوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

دی ٹائمز کے مطابق ازبک شدت پسند جو اس گروہ کو کافی تقویت بخشتے ہیں، چاہتے ہیں کہ اس کا کنٹرول پاکستان کے ہاتھ سے چلا جائے اور ان کا الزام ہے کہ فاروقی پاکستانی انٹیلی جنس کے کنٹرول کے تحت کام کرتا ہے جبکہ ازبک جہادیوں  نے اپنا ایک امیدوار نامزد کرلیا ہے۔

اصل خبر کو پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔


 


لیکن ازبکستان کے جہادی قیادت نے اسے قاءد ماننے سے انکار کردیا ءے.


وسطی ایشیا کے عسکریت پسند، جنہوں نے قوت سے لڑنے والے بہت سے گروپ فراہم کرتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ہاتھوں سے اس کمانڈ کی بھاگ دوڑ چھین لیں.

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری