تحریر: آر اے سید

ایران امریکہ تعلقات موجودہ تناظر میں (دوسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1469161 خدمت: مقالات
پرچم ایران و آمریکا

ایرانی حکومت اور عوام نے مغربی پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کر کے بھرپور محنت اور کوشش کی کہ ملک کو ایک ایسے مقام تک پہنچا دیا جائے جہاں عالمی طاقتیں ایران پر نہ تو کسی قسم کا دباؤ ڈال سکیں اور نہ ہی دھمکیوں سے مرعوب کرسکیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: امریکه اور اس کے یورپی اتحادیوں نے گزشتہ تین عشروں سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے اگرچہ ایران کی معیشت پر اثرات مرتب ہوئے ہیں لیکن دوسری طرف پابندیاں اس بات کا باعث بنیں کہ ایران نے مختلف شعبہ جات میں اپنی ملکی اور مقامی صلاحیتوں کو بروے کار لاتے ہوئے خود کفالت کی منزل تک پہنچنے کی کامیاب کو شش کی ہے۔ ایرانی حکومت اور عوام نے ان پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کر کے بھرپور محنت اور کوشش کی کہ ملک کو ایک ایسے مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں عالمی طاقتیں ایران پر نہ تو کسی قسم کا دباؤ ڈال سکتی ہیں اور نہ ہی دھمکیوں سے مرعوب کرسکتی ہیں۔

ایران میں بھی بہت سے دیگر ممالک کی طرح اقتصادی مشکلات اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے لیکن  یہ مسائل اقتصادی پابندیوں کی بجائے عالمی اقتصاد میں آنے والے بحران کا ایک شاخسانہ تھا۔ ایران کی اقتصادی مشکلات کی ایک وجہ تیل کی قیمتوں میں کمی بھی ہے۔ یہ تمام مسائل ان بڑی طاقتوں کے لئے ایک بہانہ بنا جو اپنی مخالف حکومتوں کو کمزور کرنے اور ان کی عوام کو مایوس کرنے میں کسی موقع سے دریغ نہیں کرتیں۔

ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ بڑی طاقتیں خود مختاری کی حامل حکومتوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی  برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کو گھٹنے ٹیکنے  پر مجبور کرنے کے لیے عوام میں عدم اعتمادی، مایوسی اور ناامیدی  کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال  کرتی ہیں۔

اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ بڑی طاقتیں خود مختار ممالک کے مضبوط اور مثبت نکات اور اقدامات کو کبھی بھی سامنے نہیں آنے دیتیں بلکہ ان کی بنیادی اسٹریٹجی یہی رہی ہے کہ خود مختار ممالک کے کمزور نکات کو بڑھا چڑھا کر سامنے لایا جائے اور ان کی عوام کو مایوس اور حکومتی نظام سے ناامید کر دیا جائے۔ مغرب اپنے وسیع و عریض میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے مخالف ممالک کی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان  کرتا ہے اور اس طرح  ان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ مخالف حکومتوں پر پابندیاں عائد  کر کے دباؤ  بڑھاتا ہے اور ان کو اصل مسائل کے بجائے فروعی مسائل میں الجھا دیتا ہے۔

بڑی طاقتیں مختلف ہتھکنڈوں سے مخالف حکومتوں کی توجہ کو بنیادی مسائل اور ملک کے انفراسٹرکچر  کی تعمیر سے ہٹا کر غیر ضروری مسائل کی طرف مبذول کر دیتی ہیں۔ بڑی طاقتوں کے زیر انتظام چلنے والا میڈیا نفسیاتی جنگ اور دیگر نشریاتی ہتھکنڈوں سے استفاده کر کے عوام  الناس میں مایوسی  اور ناامیدی کو ہوا دیتا ہے۔

مغربی میڈیا مخالف ملک کے کمزور نکات کو اتنا  بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے کہ  اس کے اقتصادی نظام کو مسائل سے دوچار کر دیتا ہے اس کی چند مثالیں ونیزویلا اور نائیجیریا کی ہیں جہاں عالمی میڈیا نے مغربی ممالک کے اشاروں پر ایسی کمپین چلائی کہ ان ممالک کا اقتصادی نظام درہم برہم ہو کر ره گیا اور یہ ممالک عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کیوجہ سے تباہی کے دهانے پر پہنچ گئے۔

اس تناظر میں اس خطرے کو ایک سنجیده مسئلہ سمجھنا چاہئے کیونکہ موجوده دور میں اقتصادی مشکلات جنگوں سے زیاده تباه کن اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔ جنگوں میں دشمن سامنے ہوتا ہے لیکن اقتصادی جنگ ایک نامرئی جنگ کی مانند حکومتی نظام کو اندر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں عوام الناس کا حکومتوں پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور عوام ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہو کر بیرونی طاقتوں کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

صورتحال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنے کا کوئی چاره کار باقی نہیں رہتا اور ملک کا سیاسی نظام اقتصادی نظام  کی ناکامی کی وجہ سے دھڑام سے نیچے گر جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس سوفٹ وار اور خطرے کا کس طرح مقابلہ کیا جائے ایران کے اسلامی نظام نے تمام تر پابندیوں کے باوجود اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ملکوں اور قوموں کی ترقی بڑی طاقتوں یعنی امریکہ کے بغیر بھی ممکن ہے۔ ایران نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ سے وابستگی کے بغیر بھی ترقی  کی جاسکتی ہے اور امریکہ کے بغیر پسماندگی نہیں ہے۔

ایران کے اسلامی نظام نے دشمن کے مختلف منفی ہتھکنڈوں کے بارے میں دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے مضبوط  منصوبہ بندی کی۔ اسی منصوبہ بندی  کے تحت اقتصادی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے استقامتی معیشت کی پالیسیوں کو اپنا  کر اسے اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب دنیا کے سیاسی نظاموں میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا نام تھا اور اس نے علاقائی اور عالمی توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔ امام خمینی (رح) نے عالمی و علاقائی سیاسی  معاملات  اور عرصے سے قائم توازن کو درہم برہم کر کے رکھ دیاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی عالمی، علاقائی اور ایران کے حوالے سے اسٹریٹیجی بری طرح شکست سے دوچار ہوگئی اور مشرق وسطی اور  ایران کے جغرافیے میں امریکہ کو پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کا دور امریکہ کے لیے بڑا حساس دور ثابت ہوا یہی وجہ ہے کہ اس نے خطے میں اپنے اثر و نفوذ بڑھانے کے لیے پرانے ہتھکنڈوں میں تبدیلی کو ضروری سمجھا۔ امریکہ نے نئے  نئے کامیاب ہونے والے ایران کے اسلامی انقلاب کو کمزور کرنے کے لیے مختلف سازشیں تیار کیں اور انقلاب  دشمن عناصر کی ملک کے اندر اور باہر ہر طرح کی حمایت کا سلسلہ شروع کر دیا۔

دوسری طرف ایرانی عوام کو اسلامی نظام سے متنفر اور مایوس کرنے کے لیے نفسیاتی جنگ، تشہیراتی مہم اور دیگر ہتھکنڈوں کا وسیع پیمانے پر استعمال شرو ع کیا گیا۔ ان سازشوں میں نفسیاتی جنگ، اسلامی نظام کو بے کار اور نااہل ثابت کرنا، اقتصادی دباؤ بڑھانا، انقلاب مخالف قوتوں کو ایران کے اندر اور باہر مضبوط کرنا، اقتصادی ناکہ بندی، الزامات کی بوچھاڑ اور ایرانی عوام میں مایوسی اور ناامیدی کا عنصر پیدا کرنا شامل ہے۔

اس اسٹریٹجی کی اساس و بنیاد ایرانی عوام کے عزم و حوصلے کو کمزور کرنا اور عوام کے اندر خلیج پیدا کرنا تھا یہی وجہ ہے کہ امریکی کانگریس میں ایران کے اندر سیاسی افراتفری پیدا کرنے کے لیے انقلاب مخالف قوتوں کے لیے بیس میلین ڈالر کا بجٹ مخصوص کیا گیا۔ بعد میں 1997 میں امریکہ نے ایرانی عوام کو گمراه کرنے کے لیے فارسی میں سیٹلائیٹ چینل شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لیے چار میلین ڈالر کی رقم کا بھی اعلان کیا۔ امریکہ نے یہ کام اس امید سے شروع کیا کہ ایران کی نئی نسل کو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے اسلامی انقلاب سے متنفر کریں اور عوام الناس میں اختلاف کے بیج بوئیں۔

نیوز ویک نے اپنے ایک مقالے میں اس طرف اشاره کرتے ہوئے  لکھا ہے کہ ایران میں ایک نیا انقلاب نئی نسل میں وقوع پذیر ہونے والا ہے۔ نیوز ویک کے مطابق ایرانی نوجوان سیٹلائٹ چینلوں کی وجہ سے دنیا سے اچھی طرح باخبر ہو گئے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ برآمد ہو گا کہ ایران میں ایک نیا ثقافتی انقلاب برپا ہو گا۔

موساد، سی آئی اے اور یورپی خفیه ایجنسیوں نے انقلاب مخالف قوتوں کو نظم دینے اور انہیں ایک جگہ پر اکھٹا کرنے کے لیے وسیع منصوبہ بندی شروع کر دی اور امریکہ اور یورپی ذرائع ابلاغ ایران کے اندر ہونے والے معمولی احتجاج  کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں جٹ گئے اس کا نتیجه 2009 کے فتنے کی صورت میں ایران میں ظاهر ہوا۔

امریکہ اور اس کی پروپگنڈا میشنری نے گذشتہ تین عشروں میں پوری طرح کوشش کی ہے کہ ایران کے اسلامی نظام کو ایک ناکام نظام بنا کر پیش کرے۔ امریکہ چاہتا تھا کہ دنیا بھر کے حریت پسندوں اور خود مختاری کی خواہش رکھنے والوں پر یہ ثابت کردے کہ ایران کا اسلامی انقلاب اپنے عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ثابت ہوا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خطرات کو مواقع میں تبدیل کرنے کا ایک بنیادی طریقہ یہ ہے کہ دشمن کی ماہیت کو پہچانا جائے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بالخصوص اقتصادی میدان میں ترقی کو کم اہمیت نہ دی جائےاور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں پر تکیہ کرتے ہوئے احساس کمتری کو ختم کیا جائے یہی وجہ ہے کہ رهبر انقلاب اسلامی آیت الله سیدعلی خامنہ ای نے دشمن کی اقتصادی سازشوں کی طرف بارہا متوجہ کیا اور اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی اقتصادی نظام کو مضبوط کرنے کی تلقین کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی اقتصادی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی استقامتی معیشت کا تصور دیا اور گزشتہ برسوں کو کبھی اقتصادی جهاد کا سال کبھی اقتصادی مقاومت اور اقدام و عمل کا سال  قرار دیا۔ رھبر انقلاب اسلامی نے اسی سازش کو ناکام بنانے کے لیے موجوده شمسی سال کو استقامتی معیشت، پیداوار اور روزگار کا نام دیا ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی اس بات کا ذکر ہوا ہے کہ امریکہ نے ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے جہاں مختلف منفی ہتھکنڈے استعمال کیے وہاں علاقے کے عرب ممالک کو ایران کےمقابلے میں لا کھڑا کیا ہے آج سعودی عرب جس طرح کھلم کھلا ایران کو دھمکیاں دے رہا ہے اس کا ذکر اگلی قسط میں کریں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری