ترجمہ و تجزیہ: فرحت حسین مہدوی

سعودیوں کو قطر کے معاملے میں ٹرمپ نے ورغلایا / ایران فوبیا کی امریکی بازی کا راز کھل چکا ہے

خبر کا کوڈ: 1471517 خدمت: مقالات
قدس العربی

لندن سے شائع ہونے والے اخبار "القدس العربی" نے فیصل قاسم کے قلم سے اپنی یادداشت بعنوان "ساز اور ڈھول ایران میں اور شادی قطر میں" میں لکھا: امریکہ نے ایران فوبیا کا پراجیکٹ کھول دیا ہے لیکن حقیقت میں شیخ نشین ریاستوں کے خلاف ایک سازش ہورہی ہے، بالخصوص اس وقت جب امریکہ نے قطر کو سعودی دشمنی کے لئے سبز بتی دکھا دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق لندن سے شائع ہونے والے اخبار "القدس العربی" نے فیصل قاسم کے قلم سے اپنے مضمون زیر عنوان "ساز اور ڈھول ایران میں اور شادی قطر میں" میں عرب ملکوں کو ایران فوبیا کے اوزار سے بلیک میل کرنے کے لئے امریکی مکاریوں پر روشنی ڈالی ہے۔
مضمون کے نکات کچھ یوں ہیں:
ڈونلڈ ٹرمپ نے کرسی صدارت تک پہنچنے کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہی، ایران کے دائیں بائیں محاذوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور ایران پر دہشت گردی کا الزام لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
ٹرمپ نے کئی بار ایران کو دنیا کے لئے سب سے بڑا دہشت گردانہ خطرہ قرار دیا اور بارک اوباما کی حکومت کی ایران کے ساتھ مفاہمت کی منسوخی کے نعرے لگائے؛ سب کی سانسیں سینوں میں محبوس کردیں؛ چنانچہ پوری دنیا منتظر تھی کہ ٹرمپ کس طرح ایران کو نقصان پہنچاتا ہے اور وہ کونسا سبق ہے جو ٹرمپ ایران کو دینا چاہتا ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا؟
ایران کے خلاف ٹرمپ کے حملے سعودی عرب کے دورے سے قبل اور اس کے دوران عروج تک پہنچے یہاں تک کہ ریاض میں عرب اور مسلم ممالک کے سربراہوں سے امریکی صدر کی زیادہ تر ملاقاتوں کا موضوع ہی ایران تھا!
ذرائع نے بھی رپورٹ دی کہ ٹرمپ نے سعودی دورے میں اپنی ملاقاتوں کے دوران ایران کے خلاف بڑی بڑی دھمکیاں دیں چنانچہ ہم بھی صفر وقت (Zero hour) کے انتظار میں بیٹھ گئے؛
گوکہ ایران کی قیادت میں محاذ مزاحمت عام طور پر امریکی دھمکیوں کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتا اور اس محاذ کو یقین ہے کہ امریکی دھمکیوں بڑی بڑی صدائیں پیدا کرنے والے کھوکھلے ڈھول کی صدائیں ہیں تاہم ٹرمپ صدر بنا تو ایران اور اس کے حلیفوں ے بھی نئے امریکی صدر کی طرف سے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ٹرمپ وھائٹ ہاؤس میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ امریکہ کے نئے صدر کا سب سے پہلا خدشہ ایران ہے اور یہ کہ ایران کو کس طرح باز رکھا جائے؟ خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کا کس طرح مقابلہ کیا جائے؟ اور ٹرمپ ہی کے بقول ایرانی دہشت گردی کو کس طرح روکا جائے۔
بعض لوگوں نے ٹرمپ کے تاریخ دورہ ریاض اور امریکہ سے 110 ارب ڈالر کی فوجی خریداری نیز 500 ارب ڈالر کے امریکی ـ سعودی تجارتی معاہدوں کے بعد، بعض عرب ـ مسلم ممالک کے سربراہوں کو توقع تھی کہ ٹرمپ نے ایران کا خطرہ ختم کرنے کی قیمت وصول کرلی ہے اور وہ امریکہ پہنچتے ہی ایران پر حملہ کرنے کی تیاری شروع کرے گا چنانچہ ان ممالک نے امریکی ذرائع کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ابلاغی تشہیری مہم کا آغاز کیا بالکل اسی طرح جس طرح کہ عراق میں صدام حسین پر لشکر کشی سے قبل سب نے دیکھا تھا۔
اب ٹرمپ جو واشنگٹن پہنچا تو ان عرب حکمرانوں کی توقعات کے برعکس خفیہ طور پر ایران پر لگی بعض پابندیاں اٹھانے کی ہدایت کی لیکن سعودیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر اس اقدام کو ابلاغیاتی کوریج نہیں دی گئی۔
سوال: کیا یہ معقول امر ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی قیمت وصول کرے اور پھر ایران پر لگی پابندیاں اٹھائے؟
جواب: ہاں، یہ معقول ہے، یہ وہی حقیقت ہے جو انجام پائی، اور اس وقت وہ عرب حکمران جو ٹرمپ کی مخصوص مسکراہٹیں وصول کرکے جذباتی ہورہے تھے، اپنی سانسوں کو سینوں میں محبوس کئے ہوئے ہیں کہ ایران کے خلاف لگی تمام پابندیاں کب اٹھیں گی!
بعض حکمرانوں اور کچھ مبصرین کو توقع تھی کہ ایران کی نسبت ٹرمپ کا غصہ اور اس کی ابلاغی تشہیری مہم آخر کار اس ملک کے ساتھ 5 بڑی طاقتوں کے ایٹمی معاہدے کی یکطرفہ منسوخی پر منتج ہوگی تا کہ یوں ایران کے نظام حکومت کا تختہ الٹنے کی تمہید رکھی جائے۔
سعودیوں نے امریکی جھوٹ کی تصدیق کردی اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے دو ماہ قبل بھی اور ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران بھی، جنگ کی ایران کے اندر منتقل کرنے اور ایرانی اقوام و قبائل کو مرکزی حکومت کے درمیان مشتعل کرکے اس ملک کو بدامنی اور عدم استحکام کا شکار کرنے جیسے دعوے کئے۔
ظاہر ہے کہ بن سلمان نے ایران کے خلاف اپنی تشہیری مہم کا آغاز امریکیوں کی شہ پر اور ان کی حمایت پر یقین کی بنیاد پر کیا تھا یہ جانے بوجھے بغیر کہ امریکہ ایران کے ساتھ تزویری اتحاد [Strategic Alliance] تک بھی پہنچ سکتے ہیں جبکہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی اتحاد ایک وقتی اور عارضی مصلحتوں پر استوار اتحاد ہے۔

لیکن گذشتہ ہفتے امریکی صدر کے لئے تالیاں بجا بجا کر نہ تھکنے والوں کے لئے اب امریکی بازی کا راز طشت از بام ہوچکا جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کی مکمل پابندی کی ہے اور امریکہ بھی سختی سے اس معاہدے پر کاربند رہے گا۔
بایں حال، امریکی صدر نے شیخ نشین حلیفوں کا دل رکھنے اور ان خفت گھٹانے کی غرض سے ایران اور اس کے میزائل پروگرام سے متعلق بعض افراد پر کچھ پابندیاں لگانے کا بھی اعلان کیا۔
یہ کہنا بہت بجا ہوگا کہ امریکہ عرب شیخ نشین ریاستوں کی داڑھی پر بہت واضح طور پر ہنسا ہے اور سب جانتے ہیں کہ ایران مخالف پابندیوں کا کھیل حقیقتا احمقانہ ہے جو کسی صورت میں بھی ایران کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
امریکہ نے گذشتہ 30 برسوں سے ایران پر پابندیاں لگا رکھی ہیں لیکن ان پابندیوں کا واحد نتیجہ یہ تھا کہ ایران کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا، ایران اپنی پالیسیوں پر ڈٹا رہا اور اپنے فوجی اور ایٹمی منصوبوں میں اضافہ کیا۔
ہم نے دیکھا کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو امریکی پابندیوں کے سائے میں ترقی دی، تو پھر ٹرمپ کی جانب سے لگنے والی مزاحیہ قسم کی پابندی ـ جو ایک مکھی کے پر جتنی قدر و قیمت نہیں رکھتیں ـ کیونکر ایران پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
کیا ٹرمپ کی نمکین مسکراہٹ سے لذت اٹھانے والے سمجھ سکے ہونگے جبکہ "اسلامی ـ امریکی اجلاس" [امریکی اسلام کی کانفرنس] میں سعودی بادشاہ کے ساتھ ٹرمپ کے تنکوں پر استوار بےبنیاد معاہدے پر دستخط ہونے کے اگلے دن طے یہ پایا تھا کہ ایران کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کیا جائے، جنرل قاسم سلیمانی نے تہران ـ بغداد ـ دمشق ـ بیروت کی زمینی شاہراہ کا افتتاح کیا اور جس امریکہ نے بڑے احترام کے ساتھ عراق کو ایران کے سپرد کیا، وہ شام میں ایران کے اثر و رسوخ کا سد باب ہیں کرسکتا اور بحیرہ روم تک ایرانیوں کی رسائی کا راستہ نہیں روک سکتا۔
واضح رہے کہ اہم ترین امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے عراق کے ایران کے سپرد کیا اور ایرانیوں کو اجازت دی کہ عراق میں جو چاہیں وہ کریں۔
اور ہاں، ایرانیوں نے عراق ـ شام سرحد کے قریب التنف کے علاقے میں عراق اور شام کو ملانے کی کوشش کرنے والے ایرانی اور شامی فوجی دستوں پر حملہ کیا لیکن وہ بھی در حقیقت عرب حکمرانوں کو حقائق سے منحرف کرنے کی کوشش تھی کیونکہ اگر امریکہ بحیرہ روم تک ایران کی رسائی سے خوش نہ ہوتا تو اس کے طیارے ایران ـ دمشق ـ بیروت کا زمینی راستہ کھولنے کی کوشش کرنے والی ایرانی اور شامی فورسز کا صفایا کرسکتے تھے لیکن امریکہ ایسا نہیں کیا۔
خلاصہ یہ کہ یہ درست ہے کہ امریکہ ایران فوبیا پراجیکٹ پر کام کررہا ہے لیکن اصل سازش شیخ نشین ریاستوں کے خلاف ہے جو جاری و ساری ہے، اور اس کی علامت اس وقت دکھائی دی جب ٹرمپ نے قطر کو سعودی دشمنی کے لئے ہری بتی دکھا دی۔
لـگتا ہے کہ گویا سعودی حکمران حال ہی میں ٹرمپ کی مکاری کو بھانپ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراق میں ایران کی حمایت یافتہ الحشد الشعبی [رضاکار عراقی فوج] ـ جس نے موصل کو فتح کیا ـ  کا ایک ہیرو کی مانند خیر مقدم کیا۔
دوسری طرف سے سعودیوں نے الزام لگایا کہ قطر نے ایران کی مدد سے ریاض کے خلاف سازش تیار کی ہے حالانکہ حالیہ بحران کے آغاز سے لے کر اب تک کسی بھی ایرانی اہلکار نے قطر کا دورہ نہیں کیا اور اب سعودی حکمران حجاج کی میزبانی کے حوالے سے ایران کے ساتھ مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں لیکن قطریوں سے کہا ہے کہ وہ حج کے لئے نہ آئیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ عملی طور پر سعودیوں کا مذاق اڑا رہا ہے یا پھر عراق پر امریکی حملے کے بعد سے اب تک کی تمام تر سعودی پالیسیاں ایران کے مفاد پر اختتام پذیر ہوئی ہیں؟
دونوں حالتوں میں ہم ایران کی کامیابی اور عرب شیوخ کی شکست کا مشاہدہ کررہے ہیں؛ دنیا سمجھ رہی تھی کہ ٹرمپ کے ریاض سے واشنگٹن واپس جاتے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شعلے بھڑک اٹھیں گے لیکن واضح ہے کہ امریکہ نے بندوق کی نالی ایران کی طرف پکڑی ہوئی ہے لیکن پیچھے سے عرب ریاستوں کے شیوخ اور حکمرانوں کی طرف گولی چلانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
یہ شامیوں کی اس ضرب المثل کا مصداق ہے جو کہتے ہیں: "ساز اور ڈھول دوما میں بجایا جارہا ہے اور شادی حرستا میں ہورہی ہے" لیکن ہم یہآں کہتے ہیں کہ "ساز اور ڈھول ایران می بجایا جارہا ہے لیکن شادی قطر میں ہورہی ہے"۔

مختصرسا تبصرہ
٭"القدس العربی" کے فیصل قاسم کو شاید  سب سے زیادہ توقع تھی کہ ٹرمپ ریاض سے جاتے ہیں ایران پر حملے کی ہدایات دیں گے لیکن جس طرح کہ وہ تھپے ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا واقعی امریکہ سے عربوں کی توقعات کو دھچکا لگا ہے۔
٭ لکھنے والے نے بہت سے مسائل میں دور کی ہانکی ہے، وہ ایران فوبیا کو ایک ہارا ہوا کھیل سمجھتا ہے اور خود ایران فوبیا کی ترویج کررہا ہے۔

٭ اس نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ گویا ایران کا دوست ہے اور اسی لئے وہ ایران کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا لیکن ایک بار بھی اس نے امریکی تحفظات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی علاقے می امریکہ کی کمزوریوں اور مجبوریوں کو اشارہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔
٭ فیصل قاسم صاحب نے حتی ایک بار اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کہ امریکہ نے تاریخ میں پہلی بار شام پر حملے کی تاریخ متعین کرنے کے بعد جنگ کا ارادہ ترک کردیا ہے جس سے یہ اندازہ ہرگز نہیں لگتا کہ امریکہ ایران کی دوستی اور ایران کے ساتھ تزویری معاہدے کی طرف مائل ہے بلکہ یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کی جرئت نہیں کرسکتا۔
٭ وہ در حقیقت ایران کا دوست نہیں بلکہ عربوں کی کم عقلی کا ماتم کررہا ہے ورنہ اس کے قلم میں ایران کے لئے حاسدانہ چبھن کو محسوس کیا جاسکتا ہے بس وہ ایران کی کامیابیوں سے ناخوش ہے۔
٭ امریکہ نے عراق کو ایران کے حوالے نہیں کیا بلکہ عراقیوں نے اپنی مرضی سے امریکہ کے بھیجے ہوئے دہشت گردوں کو نکال باہر کیا ہے جس کی طرف قلمکار نے اشارہ ہیں کیا ہے کیونکہ اس سے قوموں کی قوت ظاہر ہوتی ہے اور قلمکار چونکہ شاہان عرب کا ہمدرد نظر آتا ہے، لہذا عرب اقوام کو یہ احساس بھی ہیں دلانا چاہتے کہ وہ بھی عراقی قوم کی طرح امریکہ جیسے قابض اور اس کے گماشتوں کو شکست دے سکتی ہیں۔
٭ علاقے میں امریکہ نے آگ لگائی ہوئی ہے اور عرب حکمران مسلمانوں کی دولت سے اس آگ کے لئے ایندھن فراہم کررہے ہیں چنانچہ جب تک علاقے میں جنگ جاری رہے گی، اسرائیل کا تحفظ یقینی رہے گا، امریکہ خوش ہوگا اور مسلم اقوام کو لاشیں اٹھانا پڑیں گی چنانچہ جب جنگ ختم ہی نہیں ہوئی تو اس میں کسی کے فاتح و کامیاب ہونے سے کیونکر کسی کو خوفزدہ کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کالم کے قلمکار نے ایران فوبیا کے سلسلے میں کچھ ایسا ہی جتانے کی کوشش کی ہے۔
فیصل قاسم کا دل سعودیوں کے لئے جل رہا ہے اور ایران دشمن سعودی پالیسیوں کے ایران کے مفاد پر منتج ہونے سے بھی ناراض ہے لیکن وہ ہرگز سعودیوں کو دانشمندانہ پالیسیاں اپنانے کا مشورہ نہیں دیتے اور انہیں نہیں بتاتے کہ بغداد ـ صنعا اور دمشق کی ویرانی سے سعودی بادشاہت سوپر پاور نہیں بن سکتی چنانچہ مسلمانوں کا خانہ و کاشانہ خراب کرنے کے بجائے اپنا مستقبل بنانے کی فکر کریں اور کھربوں ڈالر کا اسلحہ لے کر ایک ناکام اور کمزور فوج کے سپرد کرنے کے بجائے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی اور حجاج کرام کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں وہی ذمہ داری جس کے بل بوتے پر مسلمانوں کی سادہ لوح اکثریت آج بھی ان کا احترام کرتی ہے۔۔۔۔  اور کرین گرنے اور منا میں حجاج کے قتل عام جیسے واقعات دہرائے جانے کا سد باب کریں کیونکہ نہ ایران اور نہ ہی دنیا کا کوئی دوسرا اسلامی ملک ریاض پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ہاں جناب فیصل قاسم کو چاہئے تھا کہ سعودیوں کو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ رابطے استوار کرنے اور خیبر کے قلعے اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کو بغیر خون خرابے کے یہودیوں کے سپرد کرنے سے باز رکھتے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری