بلوچستان حکومت نے روس سے ’ایم آئی 171 ای‘ غیر جنگی ہیلی کاپٹر حاصل کرلیا۔

خبر کا کوڈ: 1471551 خدمت: پاکستان
ایم آئی171

بلوچستان حکومت ایم آئی 171 ہیلی کاپٹر کو سامان کی ترسیل یا مسافروں کی منتقلی اور ایمرجنسی کی صورتحال میں استعمال کر سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق روسی خبر رساں ایجنسی ’طاس‘ نے اپنی  رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’ایم آئی 171 ای‘ شہری استعمال کا ہیلی کاپٹر ہے جو فوجی ہیلی کاپٹر ’ایم آئی 17‘ سے مختلف ہے اور جسے پاک فوج پہلے ہی استعمال کر رہی ہے۔
ایم آئی 171 ہیلی کاپٹر اپنے قابل اعتماد اور تمام موسموں میں استعمال کے قابل ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے اور بلوچستان حکومت اسے سامان کی ترسیل یا مسافروں کی منتقلی اور ایمرجنسی کی صورتحال میں استعمال کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت اور روسی ہیلی کاپٹرز کے درمیان ایک کروڑ 52 لاکھ ڈالر مالیت کے اس ہیلی کاپٹر کا جنوری 2017 میں معاہدہ ہوا تھا۔
ایم آئی 171 ای ہیلی کاپٹر، استعمال کے حساب سے شکل تبدیل کر لینے والا ہیلی کاپٹر ہے، جس کے کیبِن کو فریٹ سے 13 نشستوں والے وی آئی پی کیبن کی شکل دی جاسکتی ہے، جبکہ اس میں فلائٹ اٹینڈنٹ کا آپشن بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
ہیلی کاپٹر کے کیبن میں ایک وقت میں 27 مسافروں اور 4 ٹن سامان کی گنجائش موجود ہے، جبکہ اس میں ہنگامی صورتحال میں پیراٹروپرز اور ریسکیو اہلکاروں کی جلد لینڈنگ کے لیے تین اضافی پوائنٹس بھی مجود ہیں۔
طبی ایمرجنسی کی صورتحال میں ہیلی کاپٹر کو ایمبولینس کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، جس میں نشستوں کی جگہ 14 اسٹریچرز رکھنے کی گنجائش ہے۔
طاس کی رپورٹ میں روسی ہیلی کاپٹرز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں پراعتماد ہوں کہ ایم آئی 171 ای ہیلی کاپٹر کسی بھی مشن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا، چاہے وہ مسافروں کی منتقلی اور سامان کی ترسیل ہو یا میڈیکل، سرچ اور ریسکیو آپریشن ہو۔‘
واضح رہے کہ روسی ہیلی کاپٹر کمپنی اس سے قبل ’ایم آئی 171 ای‘ ہیلی کاپٹر چین سمیت کئی ممالک کو فروخت کرچکی ہے۔
یہ پاکستان کو فروخت کیا جانے والا دوسرا ایم آئی 171 ای ہیلی کاپٹر ہے۔
پنجاب حکومت نے چند ماہ قبل اس ہیلی کاپٹر کا یہی ماڈل حاصل کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری