شام کیخلاف امریکہ کا وہ دعویٰ جسے وہ بار بار دہراتا ہے

خبر کا کوڈ: 1472108 خدمت: دنیا
دانفورد در بروکینگز

امریکی افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج نے رواں سال اپریل سے اب تک )یعنی الشیرات ایئربیس پر حملے کے بعد سے( کوئی کیمیائی اسلحہ استعمال نہیں کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ جوزف ڈانفورڈ نے ایک سالانہ نشست میں دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال اپریل کے مہینہ یعنی شام کے فوجی ایئربیس الشعیرات پر امریکی حملوں کے بعد سے اب تک شامی فوج نے کوئی کیمیائی اسلحہ استعمال نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پسند ہے کہ اس بات کو اس طرح بیان کروں کہ شامی صدر بشار اسد نے الشعیرات ایئربیس پر امریکی حملے کے پیغام کو سمجھ لیا ہے۔ یہ پیغام روشن اور واضح تھا کہ ہمیں کسی بھی صورت میں کیمیائی حملے قبول نہیں ہیں اور دمشق جان لیں کہ لوگوں کے خلاف ان اسلحوں کے استعمال کے نتائج اچھے نہیں ہونگے۔

یاد رہے کہ شام پر کیمیائی اسلحے کے استعمال کا الزام لگا کر امریکہ نے 7 اپریل کو شام کے صوبہ حمص میں واقع الشعیرات فوجی ایئربیس پر 59 ٹام ہاک میزائل داغے تھے۔

 شامی حکومت نے مغربی ممالک اور امریکہ کے ان بے بنیاد دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیمیائی حملے میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری