تحریر: آر اے سید

ایران امریکہ تعلقات موجودہ تناظر میں (تیسری قسط)

خبر کا کوڈ: 1472197 خدمت: مقالات
پرچم ایران و آمریکا

اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے اختلافات چند ظاہری مفادات تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے نظریاتی مسائل ہیں جس کو سمجھنے کے لئے ایران کے اسلامی انقلاب کے ویژن اور امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے افکار و نظریات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے اختلافات چند ظاہری مفادات تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے نظریاتی مسائل ہیں جس کو سمجھنے کے لئے ایران کے اسلامی انقلاب کے ویژن اور امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے افکار و نظریات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دوسری طرف امریکی پالیسی سازوں بالخصوص ہینری کیسنجر اور برژینسکی کی تھیوریز اور نظریات سے آگاہی ضروری ہے۔

امریکہ میں برسراقتدار پارٹی کوئی بھی ہو وائٹ ہاوس میں کسی بھی پارٹی کا صدر رہائش پذیر ہو، ایران کے خلاف پالیسیوں میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں آتی۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ اور وزیر جنگ نے جو بیانات دئے ہیں اس سے صورت حال واضح ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے ہم بعض بیانات کو یہاں پر نقل کرتے ہیں۔

امریکی وزیر جنگ نے اٹھارہ جولائی منگل کے دن ڈیلی کالر (daily caller) نامی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مثبت تعلقات قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایران پر حکفرما نظام حکومت میں تبدیلی لائی جائے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اٹھارہ جولائی منگل کے دن ایران اسلامی کی اٹھارہ کمپنیوں اور شخصیات پر مختلف بہانوں خاص کر میزائل پروگرام سے مرتبط رہنے کے الزام کے تحت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ راس لیٹنین (Ross Letenin) نے رواں سال مارچ کے مہینے میں امریکہ کے ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سماعت کے دوران ایران اسلامی کے میزائل پروگرام کے بارے میں کہا تھا کہ مشترکہ جامع ایکشن  پلان(ایٹمی معاہدہ) پر دستخط کے بعد ایران کی سب سے زیادہ مشکلات کھڑی کرنے والی سرگرمی اس ملک کا بیلسٹک میزائلوں کا پروگرام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اس قدر شدید پابندیاں عائد کرے گا کہ ایران ایک بار پھر اپنے میزائل پروگرام میں توسیع کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ انہوں نے ان پابندیوں کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اور مکمل طور پر موجودہ پابندیوں کو عملی جامہ پہنانا چاہئے اور اس ملک پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہئے کیونکہ ایران صرف طاقت اور دباؤ کے مقابلے میں ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

امریکہ کے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ (Hudson Institute)نے اپنے ایک تجزیے میں ایران اسلامی کی طاقت کا ذکر سات ممالک یعنی امریکہ، چین، روس، جاپان، جرمنی، ہندوستان اور سعودی عرب کے ساتھ دنیا میں آٹھویں ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر کیا ہے۔ اور یہ بات ایران فوبیا اور خطے میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کو خطرہ ظاہر کرنے کے تناظر میں کہی گئی ہے۔

المانیٹر Al-Monitor ویب سائٹ کے صحافی اور تجزیہ نگار بارابارا اسلاوین نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ایک بدترین معاہدہ قرار دیا تھا۔ وہ اب بھی اس معاہدے کو ختم کرنے اور اس کا متبادل لانے کے لئے کوشاں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر پریشانی لاحق ہے کہ ایران نے مشترکہ جامع ایکشن پلان یعنی ایٹمی معاہدے سے پسپائی اختیار نہیں کی ہے اور امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایران مخالف نئی پابندیوں کو ختم کرے اور اس بات کو ثابت کرے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اس معاہدے پر اس کی نظرثانی کا کام مکمل نہیں ہوجاتا تب تک وہ اس معاہدے کے دائرۂ کار میں اپنے وعدوں کے مطابق عمل کرے گی۔

ادھر ویکلی اسٹینڈرڈ (THE WEEKLY STANDARD) ویب سائٹ نے بھی اپنی جمعرات کے دن کی رپورٹ میں لکھا کہ ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں کی نظرثانی کا کام کچھ عرصے سے جاری ہے اور یہ کام موسم گرما کے آخر تک اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

امریکی وزارت خزانہ نے رواں سال فروری کے مہینے میں ایک بیان  جاری کر کے  ایران مخالف پابندیوں کی فہرست میں پچیس 25 شخصیات کا اضافہ کر دیا تھا۔ دی فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسیز کے (The Foundation for Defense of Democracies (FDD) کے سی ای او مارک ڈوبو ویٹز (Mark Dubowitz) کا، جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کے مخالف ہیں، اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ ان غیر ملکی بینکوں اور کمپنیوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے جو ایران کے ساتھ لین دین کے لئے کوشاں ہیں کہ اگر وہ ایران کے ساتھ لین دین کریں گے تو ان کو بہت سے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بہرحال وائٹ ہاؤس کے نئے حکام  نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکی دشمنی کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے اور جب بھی ان کو کوئی پلیٹ فارم میسرآتا ہے تو وہ امریکہ کی تباہ کن پالیسیوں کے سلسلے میں جوابدہ ہونے کی بجائے دوسروں کو دنیا کے لئے خطرہ قرار دینا شروع کردیتے ہیں۔ امریکہ نے مشکوک گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سنہ 2001 سے دہشت گردی کے مقابلے کے نام سے جو اقدامات انجام دئے ہیں اگر ان کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو اس بات کا واضح طور پر پتہ چل جائے گا کہ حقیقی سرکش اور دنیا کے لئے خطرہ کون ہے؟

افغانستان اور اس کے بعد عراق پر قبضے کے دوران امریکہ کے تشدد آمیز اور خود غرضی پر مبنی تسلط پسندانہ اقدامات اور اب مغربی ایشیا میں پراکسی وار کے دوران اس ملک کے اقدامات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ امریکی حکومت ایک ایسی سرکش و مستبد حکومت ہے جو کسی بھی انسانی اور اخلاقی اصول کی پابند نہیں ہے۔ امریکہ کی جنگ پسند حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلنے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری