تسنیم خصوصی رپورٹ/

نواز حکومت کا پاکستان کو نقصان، ملک کو تاریخی قرضے میں ڈبو دیا

خبر کا کوڈ: 1473070 خدمت: پاکستان
نواز شریف

2013 میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 48.1 ارب ڈالر تھا جس کو نواز شریف نے اپنی چار سالہ دور حکومت میں 62 فیصد بڑھا کر 78.1 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نواز حکومت نے صرف چار سالوں میں 30 ارب ڈالر کا ریکارڈ قرضہ لیا گیا جوکہ اب تک کا سب سے زیادہ قرضہ ہے جس کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر سے بھروسہ ہی اٹھ گیا ہے جبکہ اس حکومت کی پالیسیز کی انتہا یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار مزید قرضہ حاصل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے پاس اپنی موٹرویز ،ہوائی اڈے اور ریڈیو پاکستان کی عمارات گروی رکھوا دی ہیں۔

اس طرح سال 2012-13 میں پاکستان کا کل تجارتی خسارہ 15 ارب ڈالر تھا جوسال 2016-17 میں بڑھ کر 24 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ جو کہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین تجارتی خسارہ ہے۔

اگر ملک کے اندرونی قرضوں کی بلند ترین سطح دیکھی جائے تو نواز حکومت کے ابتدائی سال میں ملک کا اندرونی قرضہ 14138 ارب روپے تھا جو اب 20872 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

سال 2013 میں پاکستان کی کل برآمدات 21 ارب ڈالر تھی نواز حکومت اس کو بھی برقرا ر رکھنے میں ناکام رہی جو وقت کیساتھ ساتھ کم ہوکر 17 ارب ڈالر پر جا پہنچی ہیں جس کا اعتراف فخرانہ طور پر اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بھی کیا ہے۔

پاکستان کے بڑے سرکاری اداروں اسٹیل میل، پی آئی اے اور پاکستان ریلوے کو سال 2012-13 میں تقریباً 450 ارب روپے کے خسارے کا سامنا تھا جبکہ نواز حکومت نے اس کو مزید بڑھا کر 705 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے۔ یہ اب تک کا ملکی اداروں کا ریکارڈ توڑ خسارہ ہے جس کا سہرا نواز شریف کے سر جاتا ہے۔

گردشی قرض کا اپنا الگ ریکارڈ ہے جو سال 2013 میں 400 ارب روپے تھا اور 2017 میں 500 ارب تک پہنچ گیا ہے جو صرف دیکھنے میں 100 ارب کا فرق لگ رہا ہے جبکہ یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ہے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے 2013 میں قومی خزانے سے میاں منشاء کو نہایت خطرناک انداز میں یکمشت 480 ارب روپے کی ادائیگی کر دی تھی جس کے بعد گردشی قرضہ 0 ہو گیا تھا۔ یعنی یہ 500 ارب کا گردشی قرضہ اس کے بعد صرف ان چار سالوں میں چڑھا ہے۔

روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 92 سے 107 پر پہنچ چکی ہے جبکہ کچھ ماہرین کے نزدیک یہ 107 پر مصنوعی طور پر روکی گئی ہے درحقیقت یہ 120 تک کم ہوچکی ہے اور یہ اس دن نظر آئیگی جس دن یہ حکومت جائیگی۔

نواز شریف کے موجودہ دور میں عالمی منڈی میں تیل کم ترین قیمت پر دستیاب رہا لیکن اسکا ذرا سا فائدہ بھی عوام تک نہیں پہنچنے دیا گیا اور ان چار سالوں میں اشیاء ضرورت کی قیمتیں جس طرح بڑھی ہیں اس پر الگ سے رپورٹ لکھی جا سکتی ہے جبکہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں زرعی پیدوار میں اضافے کیے بجائے کمی ہوئی ہے اور پہلی بار کسانوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور ڈنڈے بھی کھائے۔

پرویز مشرف کے شروع کیے گئے پراجیکیٹ گوادر سی پیک کے روٹس میں من مانی تبدیلیاں کر کے پہلے اس کو متنازع بنایا گیا۔ اب چین کے ساتھ ایسے معاہدات کیے جا رہے ہیں جن سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ سی پیک جیسے عظیم منصوبےسے بھی پاکستان کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا۔ ان معاہدات کی تفصیلات حکومت چھپا رہی ہے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاک فوج کی اس محنت پر بھی پانی پھیرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سال 2013 میں بجلی کا شارٹ فال 5000 میگاواٹ جبکہ 2017 میں 7000 میگاواٹ ریکارڈ کیا گیا، یہ 2000 میگاواٹ معمولی نہیں۔ یاد رہے کہ 2013 میں بجلی کا بحران دور کرنے کے لیے 500 ارب روپے کی خطیر لاگت سے جن منصوبوں پر کام جاری تھا وہ بھی ایک ایک کر کے ناکام ہوگئے۔ ان میں نندی پور، قائداعظم سولر پارک اور نیلم جہلم جیسے منصوبے شامل تھے جس میں قوم کے 500 ارب ڈوب گئے۔

نواز شریف وہ حکمران ہیں جن کو یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ ان کے دور میں پہلی بار گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت کی وجہ سے صرف کراچی میں 1200 لوگ مر گئے جبکہ تھرپاکر میں غذائی قلت سے سالانہ سینکڑوں بچے مررہے ہیں۔

دیامیربھاشا ڈیم کے لیے ہر سال 30 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان ہوتا ہے  مگر وہ رقم کہیں اور لگا دی جاتی ہے اور تا حال دیا میر بھاشا کی تعمیر کا آغاز تو دور اب تک اس کے لیے جگہ بھی متعین نہیں کی جا سکی ہے۔!

پاک فوج نے کل بھوشن کی شکل میں جاسوسی کی تاریخ کی سب سے بڑی گرفتاری کی اور نواز حکومت کو موقع دیا کہ وہ بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔ مگر نواز شریف نے نہ صرف کل بھوشن کے معاملے میں مکمل طور پر چپ رہتے ہوئے اس تاریخی کامیابی کو مٹی میں ملا دیا بلکہ مبینہ طور پر انڈینز کو کل بھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے کے لیے بھی معاونت فراہم کی۔

کشمیر میں بھارتی ظلم اور کشمیریوں کی مزاحمت اتنی بڑھی ہے کہ پوری دنیا میں اس پر بات ہونے لگی ہے سوائے ہماری پارلیمنٹ کے!

سوشل میڈیا کے ذریعے وہاں ڈھائے جانے والے مظالم کے شواہد روزانہ لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ خود بھارت کے اندر سے کشمیر کو چھوڑ دینے کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

کشمیر کو دنیا کے سامنے اٹھانے کا اس سے بہتر موقع پاکستان کو تاریخ میں نہیں ملا تھا لیکن نواز شریف نے کشمیری ہونے کے باوجود سوائے اقوام متحدہ میں ایک رسمی بیان جاری کرنے کشمیر پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ حتی کہ اب خود کشمیری بھی اس خاموشی کا گلہ کرنے لگے ہیں۔

البتہ کشمیر کے لیے پاکستان سے اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز حافظ سعید کو نظر بند کر دیا گیا۔

ان چار سالوں میں نہ صرف بھارت نے ایل او سی کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ افغانستان نے بھی پہلی بار پاکستانی سرحدوں پر حملے کیے۔ لیکن مجال ہے جو اس کے خلاف نواز شریف کی زبان سے ایک لفظ نکلا ہو۔

ڈان لیکس میں پاکستان پر دہشت گردوں کی معاونت اور دنیا میں دہشت گردی کرنے کا الزام لگایا گیا یوں پاکستان کے خلاف انڈین موقف کو تقویت دی گئی۔ اس نینشل سیکیورٹی بریچ پر تحقیقات کے نتیجے میں یہ انکشاف ہوا کہ اس میں خود نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ملوث ہیں۔

جبکہ چار سالوں میں پاکستان میں وزیرخارجہ تک کا تقرر نہیں کیا گیا جس نے پاکستان کو سفارتی محاذ پر وہ نقصان پہنچایا جس کی تلافی کسی صورت ممکن نہیں۔

اسلام اور نظریہ پاکستان  

نواز شریف نے اقتدار میں آکر پاکستان کو لبرل بنانے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قبول اسلام پر پابندی کا بل منظور کیا گیا، صدر پاکستان نے علماء سے سود کو حلال کرنے درخواست کی، سوشل میڈیا پر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں وہ گستاخیاں کی گئیں جو پاکستان تو کیا اسلام کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئیں اور جب یہ گستاخ پکڑے گئے تو ان کو بازیاب کروا کر پاکستان سے باہر بھیجا گیا۔

پاکستان سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے والے آپریشن ضرب عضب کا ٖفیصلہ نواز شریف کی مرضی اور اجازت کے بغیر کیا گیا جس کے نتیجے میں کے پی کے، بلوچستان اور کراچی سے بڑی حد تک دہشت گردوں کا صفایا کر دیا گیا۔

دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے نام سے پاک فوج نے نواز شریف کے ساتھ ملکر 20 نکات پر مشتمل ایک منصوبہ بنایا،ان میں سے 3 پر پاک فوج نے کام کرنا تھا جبکہ 17 سول حکومت کی ذمہ داری تھی۔

پاک فوج نے اپنے ذمے کا کام بہترین طریقے سے سرانجام دیا۔ نواز شریف کے ذمے جو 17 نقاط تھے ان میں سے کسی ایک پر بھی کام نہیں کیا گیا، پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کے تقریباً تمام سہولت کار اس وقت ضمانتوں پر رہا ہو چکے ہیں۔

دہشت گردی کے 11000 سے زائد مقدمات میں سے صرف 300 کے قریب مقدمات آرمی کورٹس میں بھیجے گئے۔ آرمی کورٹس نے نہایت تیزی سے ان کا فیصلہ کرتے ہوئے 161 افراد کو سزائے موت سنائی جبکہ 113 ملزمان کو قید کی سزائیں سنائیں۔

بھٹو کے بعد پہلی بار مظاہرین پر گولیاں چلائی گیں۔ جس کے نتیجے میں لاہور اور اسلام آباد میں عورتوں اور بچوں سمیت کم از کم 30 افراد اپنی جان سے گئے۔ صرف اسلام آباد میں مظاہریں پر ایک ہی وقت میں 12 ہزار شیل فائر کیے گئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے، اگر پاک فوج اس وقت مداخلت نہ کرتی تو یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔

نواز شریف پچھلے چار سال سے پاکستان کے اہم ترین اداروں کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہیں جن میں پاک فوج اور سپریم کوٹ سر فہرست ہیں اور عوام کے خون پسینے سے کروڑوں روپے کی مراعات لینے والے وفاقی وزراء کا سارا دن ان اداروں کو گالیاں دیتے گزرتا ہے۔ جو کسی بھی وقت ملک کو کسی خطرناک صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔ ان کے علاوہ نواز شریف کی نادرا اور نیب سے بھی جھڑپ ہوچکی ہے۔

اس نواز حکومت نے ملک کو جتنا بھکاری بنایا ہے یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے اور جس کا قرض شاید آنے والے 50 سال میں بھی نہ اتارا جا سکے جو چار سالہ حکومت میں نواز حکومت نے لے کر نقصان پہنچایا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری