جن کی اوقات ایک "اقامہ" تھی وہ تین بار وزیراعظم بن گئے: ڈاکٹر طاہرالقادری

خبر کا کوڈ: 1475651 خدمت: پاکستان
طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے دیگر ساتھیوں کے بیرون ملک اقامہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن کی اوقات فقط ایک عدد اقامہ تھی وہ تین تین بار وزیراعظم بن گئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ جن کی اوقات فقط ایک عدد اقامہ تھی وہ تین تین بار وزیراعظم بن گئے، نظام نہ بدلا تو کونسلر سطح کے لوگ ملکی دولت اور وقار سے کھیلتے رہیں گے، پاناما کیس میں فیصلہ مرضی کے برعکس آنے پر حکمران توڑ پھوڑکروا سکتے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں قتل و غارت گری کے بعد شریف برادران کے حوصلے بڑھ گئے، بلا تفریق احتساب کا یہ نادر موقع کھو دیا گیا تو پھر انصاف اور سلامتی کے وہ ادارے جو آج کچھ نہ کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں کل کو اس سے بھی محروم کر دئیے جائینگے۔ اربوں کے ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن بھی اربوں میں ہے، ملک ایسے چلتے ہیں؟ وہ پاکستان عوامی تحریک یوتھ ونگ، ویمن لیگ، ایم ایس ایم کے مرکزی رہنماؤں سے ٹیلیفونک خطاب کررہے تھے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کی یوتھ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر موجودہ لوٹ مار کے نظام کو چیلنج اور ایکسپوز کیا، آج دنیا بھر سے اس لٹیرے نظام کے سرپرستوں کے خلاف گواہیاں آرہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسا غریب ملک جس کا ہر شہری آج ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے اس ملک کے ہر ترقیاتی اور توانائی کے منصوبے میں اربوں کی کرپشن پکڑی جارہی ہے مگر کسی کا کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ اداروں میں خاندانی غلامی کا حلف اٹھانے والے بٹھائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ظفر حجازی کو عبرتناک سزا دے کر بقیہ کیلئے مثال بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اقرار کیا کہ اسلام آباد نیو ایئرپورٹ منصوبہ 35 ارب کا تھا بڑھ کر 108 ارب کا ہو گیا، اسی طرح نندی پور منصوبہ 35 ارب کا تھا 58 ارب میں مکمل ہوا، نیلم جہلم پراجیکٹ 167 ملین ڈالر کا تھا بڑھ کر 5 ارب ڈالر کا ہو گیا، سڑکوں کی تعمیر کے درجنوں ایسے منصوبے ہر سال پکڑے جاتے ہیں جن کی ادائیگیاں ہو جاتی ہیں مگر ان منصوبوں کا زمین پر وجود نہیں ہوتا، کیا اس طرح ملک چلتے اور قومیں ترقی کرتی ہیں؟ کرپشن اور حادثے کی پیداوار نام نہاد ’’جمہوری‘‘ خاندان کرپشن کیسے ختم کرینگے؟

انہوں نے کہا کہ نیب، پولیس، ایف بی آر، سٹیٹ بنک، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن بطور ادارہ پاناما کیس میں پوری طرح ایکسپوز ہو چکے، اب وقت آگیا ہے کہ اداروں کی تشکیل نو کی جائے اور میرٹ پر اہل افراد کو تعینات کیا جائے، وزیراعظم کے شاہانہ صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں، اداروں کو ایگزیکٹو کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے، تقرر و تبادلہ، ترقی اور تنزلی کا محکمانہ خودکار نظام وضع کیا جائے تاکہ سیاسی بدقماش اپنی مذموم خواہشات کیلئے اداروں کا غلط استعمال نہ کر سکیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی قیامتیں برپا نہ کر سکیں۔ قومی ادارے آزاد ہوتے تو کسی کو ملکی دولت لوٹ کر آف شور کمپنیوں میں چھپانے کی جرات نہ ہوتی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری